بااثر شخصیات سے تعلقات
دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین کے تعلقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق صدر بل کلنٹن دونوں سے تھے۔
کلنٹن نے اپنی صدارت کے دوران کئی بار ایپسٹین کے نجی جہاز پر سفر کیا اور اس کے ساتھ روابط برقرار رکھے۔ ایک عام پس منظر سے ارب پتی بننے والا ایپسٹین بااثر لوگوں سے تعلقات بنانے میں ماہر تھا۔
اس نے اپنی سرمایہ کاری کمپنی کے ذریعے امریکہ کے امیر ترین افراد کے اثاثے سنبھالے اور نیو میکسیکو، پام بیچ اور مین ہیٹن سمیت دنیا بھر میں جائیدادیں خریدیں، جہاں وہ سیاست دانوں، مشہور شخصیات اور شاہی افراد کی میزبانی کرتا تھا۔
ٹرمپ کے ساتھ بھی اس کے قریبی تعلقات رہے۔ کئی تصاویر اور ویڈیوز میں دونوں کو مختلف تقریبات میں اکٹھے دیکھا گیا۔ ٹرمپ کے بعض قریبی ساتھیوں سے بھی اس کے روابط تھے۔
⸻
نئے انکشافات
حالیہ جاری کردہ پیغامات سے ایپسٹین کی کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ 2008 میں کم عمر لڑکی سے جنسی زیادتی کے جرم میں اسے معمولی سزا ملی تھی، جس پر شدید تنقید ہوئی۔
برطانیہ کے شہزادہ پرنس اینڈریو کے ساتھ اس کے تعلقات بھی زیرِ بحث آئے۔ ان کے درمیان ای میلز اور ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن سے ان کے قریبی روابط ظاہر ہوتے ہیں۔
سابق برطانوی وزیر اور سفیر پیٹر مینڈلسن کا نام بھی سامنے آیا، جن پر ایپسٹین سے قریبی تعلقات اور مالی فائدے حاصل کرنے کے الزامات ہیں۔
اس کے علاوہ اسرائیلی رہنماؤں اور انٹیلی جنس اداروں سے روابط کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
⸻
نتیجہ
ایپسٹین کا پورا معاملہ مغربی اشرافیہ کی منافقت کو بے نقاب کرتا ہے — وہ لوگ جو اخلاقیات کی بات کرتے ہیں لیکن خفیہ طور پر مجرموں سے تعلقات رکھتے ہیں۔ اگرچہ ایپسٹین مر چکا ہے، مگر اس کے نیٹ ورک اور روابط کی سچائیاں آج بھی امریکہ اور دیگر ممالک کو ہلا رہی ہیں۔