7

محلات کا مالک کچرہ چننے لگا

محلات کا مالک کچرہ چننے لگا
یہ شخص جو آپ کو سڑک کنارے کچرہ چنتا ہوا نظر آ رہا ہے، اس کا نام عبداللہ الیمنی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب وہ امریکا میں محلات کا مالک تھا۔ کامیاب کاروبار، بڑی دکانیں، گاڑیاں اور ایک باوقار زندگی، سب کچھ اس نے اپنی محنت سے حاصل کیا تھا۔
مگر جس شخص پر اس نے سب سے زیادہ بھروسا کیا، وہی اس کی تباہی کا سبب بنا۔ ایک ملازم نے امانت میں خیانت کی، جھوٹا مقدمہ درج کروایا اور قانونی چالوں کے ذریعے عبداللہ کو امریکا سے بے دخل کروا دیا۔ چند ہی لمحوں میں اس کی زندگی بھر کی کمائی، کاروبار اور شناخت سب کچھ ختم ہو گیا۔ سب کچھ ضبط ہوگیا۔
وطن واپس آنے کے بعد گرفتار کرکے طویل عرصے تک لاپتہ کردیا گیا۔ رہائی کے بعد اس نے انصاف کی امید میں عدن کی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ طویل سماعتوں کے بعد عدن کی عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے 7 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی ادائیگی کا حکم دیا۔ مگر افسوس کہ یہ فیصلہ آج بھی کاغذوں تک محدود ہے۔ تین سال گزر چکے ہیں، نہ رقم ملی، نہ حق واپس آیا۔
آج عبداللہ الیمنی بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ جنگ زدہ ملک میں معاشی گھیرا تنگ، صحت برباد، وسائل ختم اور بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل ہو چکی ہے۔ وہ شخص جو کبھی محلات میں رہتا تھا، آج گلیوں میں رزق تلاش کر رہا ہے۔
یہ داستان یمنی سوشل میڈیا میں وائرل ہے۔
مال و دولت پر کبھی فخر یا تکبر نہیں کرنا چاہیے۔
انسان لمحوں میں عروج سے زوال تک پہنچ جاتا ہے۔
اللہ اپنی نعمتوں کا دوام عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں