9

سمجھو دینِ اسلام کو تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا اتوار: 08 فروری 2026

سمجھو دینِ اسلام کو

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا
اتوار: 08 فروری 2026

دینِ اسلام محض چند رسومات، نعروں یا مخصوص گروہی شناخت کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ ہدایت ہے، جو انسان کی فکر، عمل اور کردار کی اصلاح کے لیے نازل ہوا۔ مگر افسوس کہ آج دینِ اسلام کو سب سے زیادہ جس چیز نے نقصان پہنچایا ہے، وہ بدعت ہے۔

یہ ایک تلخ مگر ثابت شدہ حقیقت ہے کہ گناہگار کو جب سمجھایا جائے تو وہ اکثر اپنا گناہ چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غلطی پر ہے۔ لیکن بدعتی اپنی بدعت کبھی نہیں چھوڑتا، اس لیے کہ وہ اسے گناہ نہیں بلکہ نیکی، عبادت اور دین سمجھ کر کر رہا ہوتا ہے۔ یہی بدعت کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔

قرآنِ کریم ایسے ہی لوگوں کے بارے میں خبردار کرتا ہے جو ساری زندگی اعمال میں لگے رہتے ہیں، مگر گمراہی میں ہوتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت نیک کام کر رہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اسی فتنہ سے امت کو بچانے کے لیے دو ٹوک الفاظ میں فرما دیا کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ اس میں کسی نیت، جذبات یا خوبصورت عنوان کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔

آج المیہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنتوں پر عمل کم اور بدعات پر عمل زیادہ ہو رہا ہے۔ دین کی اصل سادگی، اعتدال اور اتباعِ سنت پس منظر میں جا چکی ہے، جبکہ نئی نئی ایجاد کردہ دینی شکلیں اور رسوم دین کا چہرہ مسخ کر رہی ہیں۔ جب کسی بدعت کی نشاندہی کی جاتی ہے تو فوراً ایک جملہ اچھال دیا جاتا ہے:
“اپنا مسلک چھوڑو نہ، دوسرے کو چھیڑو نہ۔”

بظاہر یہ جملہ امن اور رواداری کی دعوت معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ دعوتِ دین کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ اس سوچ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر مسلک اپنے دائرے میں گھوم رہا ہے، اپنے عقائد کو حتمی حق سمجھ بیٹھا ہے اور حق کی تلاش سے غافل ہو چکا ہے۔

اس فکری جمود کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ حق پہچان لینے کے باوجود اس لیے قبول نہیں کرتے کہ کہیں ان کا اپنا حلقہ، جماعت یا برادری ان کے خلاف نہ ہو جائے۔ یوں انسان سماجی دباؤ کے خوف سے باطل کو تھامے رکھتا ہے اور رفتہ رفتہ اسی میں مزید دھنستا چلا جاتا ہے۔

حالانکہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہ آفاقی اصول دیا کہ حکمت مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے، جہاں سے ملے اسے لے لو۔ مومن کا معیار شخصیات، مسلک یا روایت نہیں بلکہ دلیل اور حق ہوتا ہے۔ اسی لیے حق بات اگر کسی غیر مسلم کی زبان سے بھی سننے کو ملے تو اسے قبول کرنے میں کوئی عار نہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اپنے بھائی کی مدد کرو، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔”
جب پوچھا گیا کہ ظالم کی مدد کیسے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“اس کا ہاتھ روک دو کہ وہ ظلم نہ کر سکے۔”

یہی اصول بدعت کے معاملے میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ بدعتی کو اس کی بدعت پر چھوڑ دینا اس کی خیر خواہی نہیں بلکہ اس پر ظلم ہے۔ اصل محبت اور خیر خواہی یہ ہے کہ اسے حکمت، نرمی اور دلیل کے ساتھ قرآن و سنت کی طرف بلایا جائے۔

آج امت کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی ہے کہ دین کو قرآن، سنت اور فہمِ صحابہؓ کی روشنی میں سمجھا جائے، نہ کہ رسوم، تعصبات اور گروہی وفاداریوں کی بنیاد پر۔ دینِ اسلام کو سمجھ لیجئے، یہی فلاح کی واحد راہ ہے۔

الدعاَء
یا ربِّ کائنات!
تو ہی وہ ذات ہے جس نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کے ذریعے ہمیں تیرا پسندیدہ اور کامل دین اسلام عطا فرمایا۔
اے اللہ! یہ تیرا ہی دین ہے، مگر ہماری کوتاہیوں، فرقہ پرستی اور خود ساختہ بدعات نے اس کی اصل صورت کو دھندلا دیا ہے۔

اے پروردگار!
حق بات کہنے والے تیرے مخلص علماء کی نصیحتوں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا،
اور دین کے نام پر ایسے اعمال رائج ہو گئے جن کا تعلق تیری کتاب اور تیرے نبی ﷺ کی سنت سے نہیں۔

اے رب العالمین!
ہم اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہیں، ہم بے بس ہیں، ہم عاجز ہیں۔
اگر تو ہی اصلاح نہ فرمائے تو ہم اپنے ہاتھوں سے تیرے دین کو ناقابلِ عمل بنا بیٹھیں گے۔

یا اللہ!
تو ہی باطل کو باطل اور حق کو حق کر کے دکھا،
تو ہی دلوں کو ہدایت دے،
تو ہی امت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال۔

اے اللہ!
اپنی طرف سے ایسی مدد عطا فرما جو ہماری آنکھوں نے نہ دیکھی ہو،
اور اپنی حکمت سے کوئی ایسا بندہ، کوئی ایسا مجدد اٹھا
جو بکھری ہوئی امت کو پھر سے قرآن و سنت کے سائے میں جمع کر دے۔

یا رب!
اپنے سچے دین اسلام کو پھر سے غالب فرما،
اپنے نبی ﷺ کی سنت کو زندہ فرما،
اور ہمیں سچ کو پہچاننے، قبول کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ!
ہمیں نام کا نہیں، عمل صالح کرنے والا مسلمان بنا دے۔

آمین یا رب العالمین

احقر العباد
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں