9

علاقائی استحکام، اقتصادی ترقی اور پاکستان کی سفارتی کوششیں غلام مصطفیٰ جمالي کڈھرو موری، ضلع بدین

علاقائی استحکام، اقتصادی ترقی اور پاکستان کی سفارتی کوششیں
غلام مصطفیٰ جمالي
کڈھرو موری، ضلع بدین
03333737575
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات صدیوں پر محیط ہیں، جن میں نہ صرف سیاسی یا سفارتی پہلو شامل ہیں بلکہ یہ تعلقات تاریخی، ثقافتی، قبائلی، مذہبی، اقتصادی، تجارتی، سماجی اور انسانی رشتوں سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کی سرحد تقریباً 2600 کلومیٹر طویل ہے اور اس پر آباد قبائلی علاقے صدیوں پرانے روایتی قوانین اور تعلقات کے مطابق چلتے ہیں۔ اسی سرحدی خطے کی وجہ سے پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کا مسئلہ پیدا ہوا، جو ایک واضح مثال ہے کہ ماضی میں پاکستان نے انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کی، مگر جدید سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ماضی میں افغانستان میں سوویت یونین کے قبضے کے دوران لاکھوں افغان شہری پاکستان میں پناہ گزین ہوئے۔ پاکستان نے نہ صرف ان کو رہائش فراہم کی بلکہ تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے۔ اسی دوران متعدد مسلح گروہ وجود میں آئے، جن کا مقصد سوویت فوجوں کے خلاف مزاحمت تھا۔ وقت کے ساتھ یہ گروہ مختلف ناموں اور اتحاد کی صورت میں تبدیل ہوتے رہے، اور یہی بنیاد بنی جس نے بعد میں خطے میں دہشتگردی کی نئی لہر کو جنم دیا۔
1990 کی دہائی کے بعد افغانستان میں داخلی جنگ اور سیاسی افراتفری نے خطے کے استحکام کو شدید متاثر کیا۔ طالبان کی پہلی حکومت اور بعد میں عالمی فوجی موجودگی نے پاکستان کے لیے واضح چیلنجز پیدا کیے کہ کسی بھی ملک کی زمین ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ پاکستان کی طرف سے دہشتگرد گروہوں کے خلاف اقدامات اور انسانی مدد کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک مسلسل چیلنج رہا ہے۔
موجودہ حالات میں پاکستان کا موقف سخت اور واضح ہے۔ وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کے مطابق افغانستان میں بیس سے زائد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔ خيبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والے حملے، سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے اور سرحد پار سے سہولت کاری کے الزامات صورتحال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ سرحدی تحفظ ہر ریاست کا بنیادی حق ہے، اور اگر سرحد پار دہشتگردی جاری رہی تو سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
سفارتی دروازے پاکستان نے ہمیشہ کھلے رکھے ہیں۔ اعلیٰ سطحی وفود افغانستان بھیجے گئے، بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن نتائج محدود رہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسی دہشتگرد تنظیمیں افغانستان سے محفوظ ٹھکانے حاصل کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں اعتماد کی کمی پیدا ہوئی ہے۔ طالبان حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ عملی اقدامات کرے تاکہ افغانستان کی زمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو اور عالمی برادری میں مثبت ساکھ حاصل ہو۔
افغان پناہ گزینوں کا معاملہ بھی انتہائی حساس ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں تک لاکھوں افغان بھائیوں کو پناہ دی۔ ہزاروں خاندان تعلیم، روزگار اور صحت کی سہولیات سے جڑے رہے۔ اب جب پاکستان مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع کر رہا ہے، تو یہ قانونی طور پر درست ہے، مگر انسانی بنیادوں پر، وقار اور عزت کے ساتھ عمل کرنا لازمی ہے۔ عام افغان شہری کسی بھی دہشتگرد کارروائی کے ذمہ دار نہیں ہیں، لہٰذا انہیں واپس بھیجنے میں انسانیت کا خیال رکھنا لازمی ہے۔
دہشتگردی کا مسئلہ صرف سرحد پار کا نہیں ہے، بلکہ اندرونی سطح پر بھی موجود ہے۔ اگر ملک کے اندر اقتصادی بحران، بے روزگاری، سیاسی کشیدگی اور سماجی ناانصافی بڑھے تو انتہا پسندی کو مواقع ملیں گے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اندرونی ادارے مضبوط ہوں، نوجوانوں کو مثبت راستے دکھائے جائیں، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی جائے۔ قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام بھی انتہائی ضروری ہیں۔ اگر اندرونی استحکام مضبوط ہوگا تو بیرونی خطرات کا مقابلہ آسان ہوگا۔
اقتصادی ترقی خطے کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام کی وجہ سے تجارت متاثر ہوئی ہے اور پاکستان کے لیے بھی خطے میں امن اور استحکام معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور توانائی کے منصوبوں کے لیے لازمی ہے۔ اگر دہشتگردی جاری رہی تو معاشی نقصان، بے روزگاری اور عوام پر منفی اثرات بڑھیں گے۔ اقتصادی تعاون، تجارت کی روانگی اور سرحدی سہولیات کو فروغ دینے سے طویل مدت میں امن قائم ہو سکتا ہے۔
سماجی پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ افغان پناہ گزینوں کے ساتھ انسانی ہمدردی اور ثقافتی تعلقات مضبوط رہے ہیں۔ تعلیم، صحت، ثقافت اور روزگار کے شعبوں میں تعاون سے امن قائم ہو سکتا ہے۔ اگر انسانی بنیادوں پر مدد جاری رہے، مگر دہشتگردی کے خلاف اقدامات نہ ہوں تو امداد کا مقصد ختم ہو جائے گا اور امن متاثر ہوگا۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ افغان حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے، علاقائی فورمز میں شرکت، عالمی برادری کے ساتھ تعاون اور اقتصادی منصوبوں کی ہم آہنگی سے خطے میں اعتماد کی فضا پیدا کی جا سکتی ہے۔ مضبوط سفارتی تعلقات، باہمی تعاون اور مشترکہ سرحدی نگرانی طویل مدتی امن کے لیے ضروری ہیں۔
عالمی برادری کا کردار بھی اہم ہے۔ انسانی بنیادوں پر دی گئی امداد شفاف طریقے سے خرچ ہونی چاہیے۔ اگر امداد سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہو تو اعتماد میں کمی پیدا ہوگی۔ طالبان کے لیے ضروری ہے کہ دہشتگردی کے خلاف واضح اور عملی اقدامات اٹھائیں۔ پاکستان کو بھی تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ خطہ استحکام کی طرف بڑھ سکے۔
مستقبل میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا دارومدار اعتماد، عملی اقدامات اور مشترکہ منصوبہ بندی پر ہوگا۔ دونوں ممالک کو دہشتگردی کے خاتمے، اقتصادی تعاون، انسانی بنیادوں پر مدد، سرحدی نگرانی اور عالمی برادری کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے خطے میں امن قائم کرنا ہوگا۔ سیاسی، اقتصادی اور سماجی استحکام کے لیے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ عوام کی زندگی میں بہتری آئے اور دہشتگرد گروہوں کو فروغ نہ ملے۔
آخرکار، امن بات چیت، اعتماد، عملی اقدامات اور طویل مدتی حکمت عملی کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ جنگ اور کشیدگی کسی قوم کے لیے مستقل حل نہیں ہیں۔ پاکستان کا موقف واضح ہے: ہم امن چاہتے ہیں، مگر امن ایک طرفہ کوشش سے ممکن نہیں۔ دونوں ممالک کو مل کر قدم اٹھانے ہوں گے، تاکہ سرحدیں خوف کی نہیں بلکہ امن کی علامت بنیں۔ ماضی سے سبق سیکھنا، موجودہ چیلنجز کو سمجھنا اور مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ضروری ہے تاکہ یہ خطہ استحکام، خوشحالی اور سکون کی طرف بڑھ سکے۔ امن مشکل ضرور ہے، مگر مشترکہ ارادے سے ناممکن نہیں۔
یہ کالم سیاسی، اقتصادی، سماجی اور علاقائی پہلو واضح کرتا ہے، اور انسانی بنیادوں پر مدد اور سفارت کاری کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں