ابو گھر پہ نہیں ہیں
ابو گھر پہ نہیں ہیں
ابو گھر پہ نہیں ہیں. یہ وہ زبان خاص و عام سے ادا ہونے والا وہ جملہ ہے جسے آپ میں سے اکثریت نے اگر ادا نہیں کیا تو سنا ضرور ہوگا. اس بظاہر سادہ مگر درحقیقت زہریلے جملے کو ہم آپ اور دوسرے بہت سے لوگ کیوں ادا کرتے ہیں؟
کیوں اسے جان بوجھ کر اپنے پیاروں سے ادا کرواتے ہیں؟
” اور اس جملے کے ان کی زندگی پہ یا ان سے منسلک لوگوں کی زندگیوں پہ کیا فرق پڑتا ہے.
یہ سب کچھ آج کے مضمون میں تفصیل سے قلم ہو گا.
ابرار احمد ایک سرکاری ادارے میں کلرک تھے. ان کی میز پہ مختلف کنسٹرکشن کمپنیوں کی فاءیلوں کا ایک انبار ہر وقت موجود رہتا تھا. گویا دولت کا ایک انبار اس کی میز پہ سجا رہتا تھا, جس فایل کو اپروو کروانے لوگ پہنچتے وہ ابرار احمد کو اس کے من پسند دام دیتے, ابرار احمد جھٹ پٹ اس فائل کو بڑے صاحب سے ساین کروا کے اپنے دام کھرے کر لیتا. ابرار احمد میٹرک پاس تھا, اس کے ابا شہر کے ایم این اے کے ڈرائیور تھے ڈرائیور نے ایم این اے سے جا کے کہہ دیا صاحب میرا اکلوتا بیٹا سرکاری نوکری کی ضد کر بیٹھا ہے اگر نوکری نہ ملی تو خود کشی کر لے گا، انتہائی جابر اور سخت طبیعت ایم این اے جانے کس موڈ میں تھا کہ اس نے سرکاری نوکری دلوانے کی حامی بھر لی. ابرار احمد کو اللہ جانے؛ کس حقدار کا حق مار کے کلرک بھرتی کر لیا گیا. پھر ابرار احمد نے مڑ کے نہیں دیکھا اس کے دروازے پہ دستکیں دینے والے ہاتھوں میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا رہا اور ساتھ ساتھ ابرار احمد کے بینک بیلنس میں یہ اور بات کہ ابرار احمد نے اپنا ظاہری حلیہ اور سٹیٹس ہمیشہ غریبانہ ہی رکھا. جائیدادیں. پراپرٹیز سب بیوی بچوں کے نام، ہاں خود ساری عمر دونوں ہاتھوں سے جہنم سمیٹنے میں لگے رہے. اپنے آپ کو کوی اوپر کی شے سمجھ کے غرض مندوں سے لکن میٹی کا کھیل خوب کھیلتے رہے. جن لوگوں کی فایلز ان کے میز پہ ہوتیں وہ دیوانہ وار اور پروانہ وار آن کے آفس اور گھر کے چکر لگاتے رہتے آفس میں تو میٹنگ کا والا بہانہ کافی حد تک چل جاتا مگر گھر پہ بھی ابرار احمد نے تمام بچوں کو یہ ازبر کروا رکھا تھا کہ
(ابو گھر پہ نہیں ہیں!)
جب بھی اطلاعی گھنٹی بجتی بچے جنہیں طوطے کی طرح رٹا دیا گیا تھا کہ ابو گھر پہ نہیں ہیں، بچے ابو گھر پہ نہیں ہیں، ابو گھر پہ نہیں ہیں کاراگ الاپتے، حاجت مند پریشان ہی آتا اور ہے زیادہ پریشانی لے کر چلا جاتا. یہ سب ابرار احمد ایک سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت کرتے تاکہ فایل اپروو کروانے والا مکمل طور پہ تھک جاے اور ان کی منہ مانگی رشوت دے کر اپنا کام کروا لیں اور یہی ابرار احمد کی زندگی کا فلسفہ حیات تھا. حیف دو روٹی کھانے والے ایک بستر پہ لیٹ کے رات گزارنے والے کو دولت کا کتنا انبار چاہیے تھا؟ لوگوں کی کتنی آہیں چاہیئے تھیں؟ اگر ہم یہ سمجھ جایں تو زندگی گلزار ہو جاے. بھوکے کو اگر سب ایک ایک دانہ گندم دے دیں ایک ایک دھاگہ تن ڈھانپنے دیں تو بھوکے کی بھوک بھی مٹ جاے گی اوراس کا تن بھی ڈھانپا جاے گا. مگر اس درجے پہ جانے کے لیے ہمیں اپنے نفس پہ قابو پانا ہو گا مذہب کی روح تک پہنچنا ہو گا.
ابو گھر پہ نہیں ہیں، ایک جھوٹ ہے ایک سانحہ ہے ایک طمانچہ ہے ایک ایسا زہر ہے جو ہم جانے انجانے میں اپنے بچوں، اپنے پیاروں اپنے نونہالوں کی رگوں میں انڈیل دیتے ہیں اور اس چند روزہ زندگی کو ذرا سا رنگین بنانے کے لیے اپنے مستقبل کو داو پہ لگا دینا کہاں کی عقلمندی ہے؟بچے کی تربیت ماں کے پیٹ میں ہی شروع ہو جاتی ہے اس لیے عقلمند اقوام اپنی عورتوں کو جب وہ حاملہ ہوتی ہیں تو نہ صرف ان کے کھانے پینے بلکہ ذہنی آسودگی کا خاص خیال رکھتے ہیں کھانے میں دودھ. پھل. گوشت. شہد دیتے ہیں انھیں ریاضی کی مشقیں سکھاتے ہیں انھیں روحانی طور پہ پرسکون رکھنے کے لیے قرآنی آیات کا ورد کرواتے ہیں. موسیقی کا بھی ذہنی آسودگی میں بہت اہم کردار ہے. بچے کی پیدائش سے لے کر پہلے سات سال، بچے کے کردار کی تشکیل میں بہت اہم ہیں. بچے نے جو کچھ سیکھنا ہوتا ہے، جو اس نے اپنی زندگی میں کارہائے نمایاں انجام دینے ہوتے ہیں، سات سال کی عمر تک سب کچھ کوزے میں بند ہو چکا ہوتا ہے. اور یہ بالکل درست ہے ہونہار برواکےہ چکنے پات،
بچے،اپنے والدین سے ہی سیکھتے ہیں لہذا اپنے بچوں کو تہذیب اور تمدن سکھاءیے.
ڈگریاں بھی ضروری ہیں مگر تربیت کے بغیر تعلیم کسی کام کی نہیں. شہزاد کے ابا جی ریلوے میں ملازم تھے رشوت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے ریٹائرمنٹ پہ انھوں نے پورے گودام کی لکڑی اور لوہے پہ قبضہ کر لیا ،ساری عمر صرف اپنی پوجا کروانے والے ریلوے افسر نے نہ کبھی بیوی کی عزت کی نہ بچوں کی تربیت، نہ مہمان نوازی کی، نہ ملازموں پہ رحم کیا، ان کا بیٹا شہزاد بھی ان سے یہ سب سیکھ کے آج نہ صرف اپنی کمپنی کو لوٹ کر کھا چکا ہے بلکہ والدین کی ساری منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد
فراڈ سے اپنے نام کروا چکا ہے.
لہذا اپنے بچوں کو یہ جملہ
ابو گھر پہ نہیں ہیں سکھانے سے پہلے سو دفعہ غور کیجیے
کہ آپ اپنے بچوں کو جھوٹ کے جہان میں جھونکنا چاہتے ہیں یا سچ کی بھٹی میں دہکا کر کے کندن بنا نا چاہتے ہیں.
مگر یاد رکھیے ببول کے بیج بو کر گندم کے خو شوں کی امید لگا نا شدید حماقت ہے. غور فرمائیے گا.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com