تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان میں دہشت گردی
پاکستان کافی عرصے سے دہشت گردی کا شکار چلاآرہا ہے۔دہشت گردی جیسے ناسور نے پاکستان کو کافی نقصان پہنچا دیا ہے۔دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں،مگر ابھی تک دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کا چھوڑا گیا اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔افغانستان میں موجود دہشت گرد پاکستان کی سالمیت کے لیے خطرہ بنے ہوئےہیں۔کئی دفعہ افغان حکومت کے سامنے احتجاج بھی کیا گیا اور وارننگ بھی دی گئی ہے لیکن دہشت گردی نہیں رک سکی۔پاکستان میں دہشتگردی میں صرف افغانستان ملوث نہیں بلکہ دیگر طاقتیں بھی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔بارہا ثبوت ملے ہیں کہ انڈیا بھی پاکستان میں دہشت گردی کرتا رہا ہے۔انڈیا کے علاوہ بھی کئی طاقتیں پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔حالیہ صورتحال بہت ہی خوفناک ہو چکی ہے۔دہشت گرد پاکستان میں آسانی سے دندنا رہے ہیں۔اسلام آباد سمیت پورے پاکستان میں دہشت گردی پھیلائی جا رہی ہے۔کچھ دن قبل بلوچستان میں بھی دہشت گردوں نے پوری طاقت سے حملہ کیا۔بلوچستان کے کئی ضلعوں میں دہشت گرد داخل ہو گئے۔سیکورٹی فورسز نے ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا۔شکر ہے کہ دہشت گردوں کو کامیابی حاصل نہیں ہو سکی،مگر سیکورٹی فورسز کے 22 جوانوں سمیت 36 معصوم شہری بھی شہید ہو گئے۔ان شہداء میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔سیکورٹی فورسز نے 216 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔بلا شبہ سیکورٹی فورسز نے بہترین منصوبہ بندی اور حکمت عملی سےبلوچستان میں دہشت گردی پر قابو پایا۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز نے آپریشن ردالفتنہ۔ون کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔بلوچستان میں گزشتہ سال جعفر ایکسپریس پردہشت گردوں نے قبضہ کر لیا تھا،نقصان تو پہنچایا گیا لیکن دہشت گردوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا۔صرف بلوچستان ہی نہیں دیگر صوبے بھی دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں۔
دہشت گرد صرف بھاری ہتھیار استعمال نہیں کر رہے بلکہ انسانی جانوں کو خودکش بمبار کی صورت میں بھی بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔برین واشنگ کے ذریعے نوجوانوں کو خود کش حملوں کے لیے تیار کر دیا جاتا ہے اور وہ نوجوان نادانی میں خودکش بمبار بن جاتے ہیں۔پاکستان کے بازاروں،تعلیمی درسگاہوں سمیت عبادت گاہوں تک کو بھی نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔دہشت گرد خوف کی فضا پیدا کرنے کے لیے کسی بھی جگہ کو نشانہ بنا دیتے ہیں۔دہشتگردی کوئی حالیہ طور پر شروع نہیں ہوئی بلکہ کافی عرصہ سے پاکستان میں ہو رہی ہے۔2014ء کوپشاورکےآرمی پبلک سکول میں 140 سے زائد افراد کو شہید کر دیا گیا تھا۔دیگر بھی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں جس میں دہشت گردوں نے پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔دو دہائیوں میں ہزاروں افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے ہیں اور اربوں ڈالرز کا مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ایران کی بارڈر سے بھی دہشت گرد بلوچستان میں داخل ہو جاتے ہیں۔مشہور انڈین دہشت گرد کل بھوشن یادیو بھی ایران کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔واضح رہے کہ کل بھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشتگردی کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک قائم کیاہوا تھا اور اس دہشت گرد کی گرفتاری کے بعد اس کا نیٹ ورک بھی توڑ دیا گیا تھا۔انڈیا نے صرف کل بھوشن یادیو کی صورت میں دہشت گردی نہیں کرائی بلکہ بار بار دہشت گردی کروا رہا ہے۔
دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے اداروں کے ساتھ عوامی تعاون بہت ہی ضروری ہے۔عوامی تعاون کے بغیر دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔دہشت گردی کے لیے اکثر اوقات مقامی افراد کو ورغلا لیا جاتا ہے۔بعض افراد کو لالچ کے ذریعے ہائر کر لیا جاتا ہے اور بعض افراد کی برین واشنگ کر کے دہشت گردی کے لیے تیار کر دیا جاتا ہے نیز دہشت گردی کے لیے دیگر طریقہ کار بھی اختیار کر لیے جاتے ہیں۔خودکش بمباروں کے لیے نو عمر نوجوان تیار کیے جاتے ہیں۔غربت کی وجہ سے بھی بعض افراد دہشت گردوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں نیز کم علمی کی وجہ سے بھی آسانی سے بعض افراد کوآلہ کار بنا دیا جاتا ہے۔بعض اوقات نفرت کا زہر مختلف اذہان میں انڈیل دیا جاتا ہے یا حق تلفی کے نام پر دہشت گردی کے لیے افراد کو تیار کر لیا جاتا ہے۔فرقہ یا علاقائی تعصب کو بھی دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔کبھی یہ نعرہ لگا دیا جاتا ہے کہ آپ کے حقوق چھینے جا رہے ہیں لہذا حکومت کے خلاف اٹھنا چاہیے تاکہ تمہیں تمہارے حقوق حاصل ہو جائیں۔انڈین ادارہ”را”پاکستان کو ہمیشہ نشانے پر رکھتا ہے۔دیگر کئی طاقتیں بھی پاکستان میں دہشت گردی پھیلاتی رہتی ہیں تاکہ پاکستان کمزور رہے۔
یہ بھی درست ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی ہوتی رہتی ہے۔مذہبی فرقہ ورایت بھی بہت زیادہ ہے۔سیاسی عدم استحکام اور غربت بھی بہت زیادہ ہے۔اشرافیہ کے لیے بہت زیادہ مراعات ہیں اور عام طبقہ پسماندگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔اگر دہشتگردی پر قابو پانا ہےتو انسانی حقوق کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا۔حکمرانوں اور اشرافیہ کی مراعات میں کمی کر کے عوام الناس تک اس کے ثمرات پہنچانے ہوں گے۔تعلیمی نظام کو بھی بہتر کرنا ہوگا اور سیاسی استحکام بھی بہت ہی ضروری ہے۔جن علاقوں میں بنیادی ضروریات ناپید ہیں،ان تک بنیادی ضروریات پہنچانی ہوں گی۔فرقہ واریت کو بھی کنٹرول کرنا ہوگا نیز میرٹ کا نظام بھی قائم کرنا ہوگا۔سب سے بڑی بات کہ جو فرد یا افراد دہشت گردوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں،ان کو ہر حال میں کڑی سے کڑی سزا دینی ہوگی۔دہشت گردوں کا سہولت کار جتنا بھی طاقتور ہو یا مقدس لبادے میں لپٹا ہوا ہو، اس کو ہر حال میں قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔پاکستان میں ایک اصول بنانا ہوگا کہ دہشت گرد کو کسی صورت میں معافی نہیں دی جائے گی۔جو افرادیا تنظیمیں کسی بھی طرح کی دہشت گردی میں ملوث ہوں،ان کو کسی صورت میں معاف نہیں کیا جانا چاہیے۔سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں،عوام الناس کو ان کے ساتھ تعاون بھی کرنا چاہیے اور حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے تاکہ وہ جلد از جلد دہشت گردی جیسے عفریت پر قابو پا سکیں۔پاکستان کو بچانے کے لیے ہر فرد اپنے حصے کا کردار ادا کرے تاکہ پاکستان قیامت تک سلامت رہے۔
قصور کے علاقہ کھڈیاں میں پیش آیا واقعہ
چوری کے چاکلیٹ اور پینو آپا تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
صومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی اڈا قبول نہیں۔صومالی صدر
طالبان نے نائن الیون سے پہلے کے دور سے زیادہ خطرناک حالات پیدا کردیے ہیں۔صدر پاکستان
بلوچستان کے بحرانوں کو ایک ہی طریقے سے حل کرنیکی کوشش کرکے ہم غلطی کررہے ہیں۔رانا ثناء اللہ