سیالکوٹ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والی ایک خاتون قیدی کی کہانی سن کر انسان ٹھہر جاتا ہے۔
سیالکوٹ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والی ایک خاتون قیدی کی کہانی سن کر انسان ٹھہر جاتا ہے۔
یہ پڑھی لکھی خاتون آج #جیل میں موجود دیگر خواتین قیدیوں کو تعلیم دے رہی ہے، مگر اس کی اپنی زندگی ایک نہ ختم ہونے والا #امتحان رہی ہے۔
وہ بتاتی ہے:
“میں اپنے شوہر کے ساتھ خوش و خرم #زندگی گزار رہی تھی۔ ہمارے پانچ بچے تھے اور چھٹا میرے پیٹ میں تھا، جب اچانک میرے شوہر کو ق تل کر دیا گیا۔ الزام مجھ پر آ گیا، صرف اس لیے کہ میں نے #محبت کی شادی کی تھی اور میں ان کی دوسری بیوی تھی۔
میں اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہوں، میرا کوئی بھائی نہیں تھا۔ والد پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ بتائیں، میرا کیس کون لڑتا؟
یوں عدالت نے مجھے عمر قید کی سزا سنا دی۔
میرے پانچ بچے اپنی نانی کے پاس رہتے ہیں، جبکہ ایک بیٹی جو #جیل میں پیدا ہوئی، وہ میرے ساتھ ہے۔
مجھے رہائی کی پیشکش بھی ہوئی ہے، مگر ایک شرط کے ساتھ۔ میرے بچوں کی پھوپھیاں کہتی ہیں کہ اگر میں اپنے شوہر کی جائیداد میں سے اپنا حصہ چھوڑ دوں تو مجھے #معافی مل سکتی ہے۔
لیکن میں نے اپنے بچوں کے بارے میں سوچا۔
اگر میں اپنے چھ بچوں کا حق چھوڑ دوں تو یہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
میری #قسمت میں اگر دکھ لکھے تھے تو میں برداشت کر لوں گی، مگر اپنے بچوں کے حق پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ کم از کم ان کے لیے یہ تو کر سکتی ہوں۔