September 2, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

**سکھر چلڈرن ہسپتال غریب بچوں کے لیے امید یا صرف نمائشی منصوبہ؟* چلڈرن ہسپتال غریب بچوں کے لیے امید یا صرف نمائشی منصوبہ؟*

Screenshot_2026-01-28_152108
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

*سکھر چلڈرن ہسپتال غریب بچوں کے لیے امید یا صرف نمائشی منصوبہ؟*

سندھ کا تیسرا بڑا شہر سکھر، جہاں آبادی میں مسلسل اضافہ اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی ایک تلخ حقیقت ہے، وہاں حکومتِ سندھ کی جانب سے چلڈرن ہسپتال کا قیام بظاہر ایک انقلابی اور قابلِ تحسین قدم تھا۔ اس منصوبے کا مقصد بچوں کی بیماریوں کے علاج اور ان کے لیے خصوصی طبی سہولیات کی فراہمی تھا، تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے والدین کو بڑے شہروں کے مہنگے نجی ہسپتالوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔
بدقسمتی سے آج یہی چلڈرن ہسپتال اپنی اصل روح اور مقصد سے دور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ہسپتال کی انتظامیہ پر نااہلی کے سنگین الزامات ہیں اور یہاں سفارشی کلچر اس حد تک فروغ پا چکا ہے کہ عام اور غریب شہری کے لیے دروازے عملاً بند نظر آتے ہیں۔ بااثر افراد کی سفارش پر بچوں کو داخلہ تو مل جاتا ہے، مگر بے سہارا اور مفلس والدین اپنے بیمار بچوں کو گود میں اٹھائے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
غریب مریضوں کا کہنا ہے کہ بغیر سفارش کے نہ تو بچوں کا داخلہ ممکن ہے اور نہ ہی انہیں مناسب طبی توجہ دی جاتی ہے۔ کبھی بیڈ کی کمی کا بہانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی عملہ یہ کہہ کر جان چھڑا لیتا ہے کہ مریض کی حالت سنگین ہے، لہٰذا اسے کسی نجی ہسپتال میں منتقل کر دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سرکاری چلڈرن ہسپتال ہی غریب بچوں کا علاج نہیں کر سکتا تو پھر اس کے قیام کا مقصد کیا تھا؟
انتظامیہ کے ساتھ ساتھ سکیورٹی گارڈز اور عملے کا رویہ بھی انتہائی افسوسناک اور تذلیل آمیز بتایا جاتا ہے۔ لاچار والدین، جو پہلے ہی اپنے بچوں کی بیماری کے باعث ذہنی اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں، انہیں یہاں مزید بے عزتی اور ناانصافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا یہ کہنا بے جا نہیں کہ سکھر کا چلڈرن ہسپتال اپنی افادیت کھو چکا ہے اور یہ ادارہ اب صرف تختیوں، افتتاحی تقاریب اور نمائشی دعوؤں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ چلڈرن ہسپتال سکھر میں فوری طور پر سفارشی کلچر کا خاتمہ کیا جائے، انتظامی امور کو شفاف بنایا جائے اور غریب و مستحق بچوں کو بلا امتیاز طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ وہ اس اہم ادارے کی کارکردگی کا سختی سے نوٹس لے اور ایسے اقدامات کرے جن سے چلڈرن ہسپتال ایک بار پھر غریب عوام کے لیے امید کی کرن بن سکے، نہ کہ مایوسی کی علامت۔
اگر واقعی حکومت عوامی فلاح کے دعووں میں سنجیدہ ہے تو سکھر کے اس چلڈرن ہسپتال کو محض نمائشی منصوبے کے بجائے ایک فعال اور انسان دوست ادارہ بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0