منزہ گوئندی کے ساتھ ایک شام — ادب، محبت اور یادوں کی خوشبو خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
منزہ گوئندی کے ساتھ ایک شام — ادب، محبت اور یادوں کی خوشبو
خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
ادب کی دنیا میں کچھ شامیں محض ایک تقریب نہیں ہوتیں بلکہ وہ یادوں کے ایسے روشن دریچے بن جاتی ہیں جو دیر تک دل و دماغ کو منور رکھتے ہیں۔ ایسی ہی ایک خوبصورت، پُروقار اور یادگار شام معروف افسانہ نگار، شاعرہ اور ریڈیو پاکستان سرگودھا کی معروف صداکارہ منزہ انور گوئندی کے اعزاز میں سجائی گئی، جسے برمنگھم پوئٹس کے زیرِ اہتمام معروف شاعرہ گلناز کوثر کی رہائش گاہ پر ’’منزہ گوئندی کے ساتھ ایک شام‘‘ کے عنوان سے منعقد کیا گیا۔
یہ محفل دراصل ادب سے محبت، اہلِ قلم کی قدر شناسی اور ایک باصلاحیت ادیبہ کی ادبی خدمات کے اعتراف کا خوبصورت اظہار تھی۔ محفل میں ڈاکٹر ثاقب ندیم، گلناز کوثر، شبانہ یوسف، جیم جازل، شہرام رضا اور سرفراز تبسم سمیت اہلِ ادب نے شرکت کی اور اپنے اپنے کلام سے محفل کو چار چاند لگا دیے۔
تقریب کا آغاز منزہ گوئندی کے افسانے سے ہوا۔ افسانے کے ذریعے انہوں نے اپنے تخلیقی اسلوب، مشاہدے کی گہرائی اور انسانی جذبات کی ترجمانی کا خوبصورت مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں شرکائے محفل نے اپنا کلام پیش کیا تو شعر و ادب کی یہ نشست ایک ایسی دلکش ادبی محفل میں ڈھل گئی جہاں لفظوں نے جذبات کا روپ دھارا اور اشعار نے دلوں کو چھو لیا۔
شام کی صاحبۂ محفل منزہ گوئندی نے جب نظم اور غزل کے ساتھ پنجابی کلام پیش کیا تو محفل میں موجود اہلِ ذوق نے انہیں بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔ ان کی آواز میں موجود ٹھہراؤ، ادائیگی میں سوز اور کلام میں احساس نے محفل کی فضا کو مزید دلنشیں بنا دیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے ادب صرف کتابوں کے صفحات تک محدود نہیں بلکہ ایک زندہ احساس ہے جو آواز، لفظ اور جذبے کے ذریعے دل سے دل تک سفر کرتا ہے۔
منزہ گوئندی کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ ان کا تعلق سرگودھا کے ایک معروف علمی و ادبی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد انور گوئندی اردو ادب کی دنیا کی ایک معتبر شخصیت اور ادبی سرگرمیوں کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کامران مشاعرہ اور کامران رسالہ کی اشاعت کے ذریعے اردو ادب کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا اور سرگودھا کی ادبی شناخت کو مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ڈالا۔
منزہ گوئندی نے اپنے والد کی علمی و ادبی میراث کو محض محفوظ ہی نہیں رکھا بلکہ اسے اپنی تخلیقی صلاحیتوں، محنت اور لگن کے ذریعے آگے بڑھایا۔ افسانہ ہو یا شاعری، صداکاری ہو یا ادبی سرگرمیاں، انہوں نے مختلف میدانوں میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ یہی تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی ادبی وراثت صرف نام منتقل ہونے سے قائم نہیں رہتی بلکہ اسے کردار، تخلیق اور مسلسل جدوجہد سے زندہ رکھنا پڑتا ہے۔
’’منزہ گوئندی کے ساتھ ایک شام‘‘ اسی ادبی تسلسل کی ایک خوبصورت مثال تھی۔ برمنگھم میں منعقد ہونے والی یہ محفل اس حقیقت کی عکاس بھی ہے کہ زبان، ادب اور تخلیقی اظہار کی کوئی جغرافیائی سرحد نہیں ہوتی۔ انسان جہاں بھی چلا جائے، اس کی زبان، تہذیب، یادیں اور ادب اس کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔
ایسی تقریبات اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو بھی یہ پیغام دیتی ہیں کہ کتاب، قلم، شعر اور افسانہ آج بھی انسانی زندگی میں اپنی معنویت رکھتے ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کی خدمات کو بروقت سراہیں اور ان کے لیے ایسی محافل کا انعقاد کرتے رہیں۔
محفل کے اختتام پر پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا، مگر یوں محسوس ہوتا تھا کہ اصل ضیافت تو الفاظ، اشعار، افسانوں اور محبتوں کی تھی—جس سے شریکِ محفل ہر شخص اپنا دامن بھر کر لے گیا۔
منزہ گوئندی کے ساتھ یہ شام یقیناً ایک ادبی تقریب سے کہیں بڑھ کر تھی؛ یہ سرگودھا کی ادبی روایت، برمنگھم کی ادبی محبت اور اہلِ قلم کے باہمی احترام کا حسین امتزاج تھی، جس کی خوشبو دیر تک محسوس کی جاتی رہے گی۔