October 17, 2026

سکھر (بیورو رپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی) بھتیجے کے قتل میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف احتجاج، لواحقین کا اعلیٰ حکام سے انصاف اور

IMG-20260128-WA0099

سکھر (بیورو رپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی)
بھتیجے کے قتل میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف احتجاج، لواحقین کا اعلیٰ حکام سے انصاف اور تحفظ کا مطالبہ سکھر گاؤں پیر مسافر، تعلقہ پنوعاقل کے رہائشی اور مہر برادری سے تعلق رکھنے والے عبدالخالق مہر نے اپنے بھتیجے کے قتل میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاج کے دوران انہوں نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کے حق میں نعرے بازی کی۔تفصیلات کے مطابق عبدالخالق مہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چار ماہ قبل ان کے بھتیجے شمس الدین ولد کمال دین کو ملزم نزیر مہر اور اس کے دیگر چھ ساتھیوں نے مبینہ طور پر بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ واقعے کے بعد لواحقین کی جانب سے متعلقہ تھانہ کڈھری میں قتل کی ایف آئی آر درج کرائی گئی، جس میں نزیر مہر سمیت مجموعی طور پر سات ملزمان کو نامزد کیا گیا، تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔عبدالخالق مہر کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود پولیس کی جانب سے کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آ رہی، جس کے باعث ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں اور انہیں مسلسل جان لیوا دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی عدم کارروائی سے لواحقین شدید عدم تحفظ اور خوف کا شکار ہیں۔احتجاج کرنے والے نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِ اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے پرزور مطالبہ کیا کہ قتل میں ملوث تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، انہیں قرار واقعی سزا دی جائے اور لواحقین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔