گل پلازہ سانحہ اور متاثرین کی بحالی کا اعلان کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالي تعلقہ: ٹنڈوباغو ضلع بدین
گل پلازہ سانحہ اور متاثرین کی بحالی کا اعلان
کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالي
تعلقہ: ٹنڈوباغو ضلع بدین
فون: 0333-3737575
کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شہر، ہمیشہ اپنی تجارتی سرگرمیوں اور لوگوں کی روزمرہ زندگی کے لیے مشہور رہا ہے۔ لیکن 17 جنوری 2026 کی رات کراچی میں ایک ایسا المناک واقعہ پیش آیا، جس نے نہ صرف شہر بلکہ پورے سندھ اور ملک کو صدمے اور دکھ میں مبتلا کر دیا۔ محمد علی جناح روڈ پر قائم گل پلازہ، جو تقریباً 1200 دکانوں پر مشتمل ایک بڑا شاپنگ مال تھا، اچانک رات کے وقت آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ یہ سانحہ شہر کے تجارتی مراکز میں حفاظت اور ضوابط کی اہمیت کے بارے میں ایک بڑا پیغام بن گیا۔
آگ لگنے کی ابتدائی وجہ شاید الیکٹرک شارٹ سرکٹ یا دکانوں میں موجود سامان میں شارٹ سرکٹ ہونا تھی، لیکن آگ کی شدت کے باعث عمارت کے اندر موجود لوگ پھنس گئے۔ Rescue 1122، فائر بریگیڈ، پولیس اور رینجرز فوری طور پر موقع پر پہنچے اور بچاؤ کا عمل شروع کیا، لیکن عمارت کی ناقص تعمیر اور حفاظتی انتظامات کی کمی کے سبب عمل مشکل ہو گیا۔ کئی لوگ اپنے ساتھیوں اور خاندان کو بچانے کی کوشش میں زخمی یا فوت ہو گئے۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق اس حادثے میں 73 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں سے 23 لاشوں کی شناخت کی جا چکی ہے اور باقی DNA ٹیسٹ کے تحت رکھی گئی ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 20 سے زیادہ ہے اور تقریباً 70 لوگ ابھی بھی لاپتہ ہیں۔ کئی متاثرہ خاندانوں کا روزگار ختم ہو چکا ہے اور انہیں دوبارہ زندگی شروع کرنے کے لیے مالی مدد کی سخت ضرورت ہے۔
حادثے کے ابتدائی گھنٹوں میں متاثرہ خاندانوں میں مایوسی، خوف اور صدمہ عام تھا۔ ایک خاندان کی خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے دو چھوٹے بچوں کے ساتھ دکان کے اندر پھنس گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ دھویں اور آگ کی شدت کے سبب باہر نکلنے کے راستے بند تھے اور انہیں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے بغیر باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملا۔ ایسے واقعات متعدد متاثرہ خاندانوں میں سامنے آئے، جن میں کئی لوگ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھے۔
اسی دوران متعدد دکاندار اپنے کاروبار کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن آگ کی شدت اور عمارت کی ناقص تعمیر کے سبب کئی دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ کاروباری نقصان کے ساتھ ساتھ لوگوں نے اپنی روزی روٹی، وسائل اور زندگی کا اہم حصہ کھو دیا، جس کے اثرات طویل مدتی طور پر محسوس ہوں گے۔
حادثے کے بعد سندھ حکومت اور وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے فوری ردعمل ظاہر کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔ سرکاری اعلان کے مطابق ہر فوت شدہ شخص کے خاندان کو 10 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی، جبکہ متاثرہ شاپ مالکان کو عارضی مالی سہارا فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔ حکومت نے متاثرہ افراد کو نیا شاپنگ مال یا اسی جگہ پر دکان فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جسے امید ہے کہ آئندہ دو مہینوں میں مکمل کیا جائے گا۔
گل پلازہ کا واقعہ صرف ایک آگ کا حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ ہمیں شہری حفاظت، ہنگامی نظام، اور عمارتوں کے حفاظتی ضوابط کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ عمارت میں فائر الارم، ایگزٹ راستے اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھے، جس کے سبب آگ تیزی سے پھیلی اور انسانی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔ آگ کے دوران بچاؤ کا عمل تقریباً 36 گھنٹے جاری رہا، جس دوران فائر بریگیڈ اور ہنگامی عملے کو داخل ہونے کے لیے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی دکاندار اندر موجود لوگوں کو باہر نکالنے کی کوشش میں زخمی ہو گئے۔
گل پلازہ کا سانحہ ہمیں سبق سکھاتا ہے کہ شہر میں آگ سے بچاؤ کے لیے جدید سامان، تربیت یافتہ عملہ اور ہنگامی منصوبہ لازمی ہے۔ اگر عمارت میں فائر الارم اور ایگزٹ درست طریقے سے کام کر رہے ہوتے تو انسانی جانوں کا نقصان کم ہو سکتا تھا۔ شہری انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو ایسے تعمیرات پر باقاعدہ نگرانی کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔
حکومت کا اعلان متاثرہ خاندانوں کے لیے اہم اقدام ہے، لیکن انہیں مستقل سہارا اور حفاظتی انتظامات کی بھی ضرورت ہے۔ متاثرہ شاپ مالکان کو نئی جگہ پر دکان فراہم کرنے سے نہ صرف روزگار بحال ہوگا بلکہ شہر کی تجارتی سرگرمیاں بھی دوبارہ فعال ہوں گی۔ اس بحالی سے متاثرہ افراد کو اپنی زندگی سنبھالنے کا موقع ملے گا اور سماجی، اقتصادی اور جذباتی توازن بھی قائم رہے گا۔
گل پلازہ کے حادثے کے دوران پیدا ہونے والا صدمہ صرف فوت شدگان تک محدود نہیں ہے۔ زخمیوں کے علاج، لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں کی روزمرہ زندگی پر اثرات طویل مدتی طور پر محسوس ہوں گے۔ معاشرے کے لیے یہ ایک اہم سبق ہے کہ زندگی کی حفاظت صرف قوانین میں نہیں بلکہ عملی حفاظتی اقدامات اور شعور میں بھی ہونی چاہیے۔
حکومت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ تربیت، حفاظتی جانچ اور جدید ہنگامی نظام نافذ کریں۔ فائر بریگیڈ اور ہنگامی عملے کے لیے جدید سامان، تربیت اور مکمل رہنمائی ضروری ہے۔ شہر کے تجارتی علاقوں میں ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے مستقل حکمت عملی اور نگرانی لازمی ہے۔
گل پلازہ کا سانحہ نہ صرف مالی نقصان کا سبب بنا بلکہ انسانی زندگی کی اہمیت اور حفاظت کے بارے میں ایک بڑا سوال بھی اٹھایا۔ ہمارے معاشرے کے لیے یہ ایک یادگار سبق ہے کہ ہر فرد کی زندگی کی حفاظت لازمی ہے اور کسی بھی قیمت پر انسانی جان کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
گل پلازہ کا سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی قیمت صرف اعداد و شمار میں نہیں بلکہ ہر فرد کی حفاظت، عزت اور حقوق میں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ حفاظتی شعور بڑھائیں، ضوابط پر عمل کریں اور شہر کے تجارتی علاقوں میں انسانی جانوں کو محفوظ بنائیں۔
اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے اور زخمیوں کو شفا دے۔ ہمیں چاہیے کہ ایسے سانحات سے سبق سیکھیں، اپنے معاشرے میں حفاظتی شعور بڑھائیں اور ایسے المناک واقعات سے بچاؤ کو ترجیح دیں۔
گل پلازہ کا سانحہ ایک ایسا یادگار واقعہ ہے جو ہمیں زندگی، روزگار اور حفاظت کی اہمیت سمجھنے پر مجبور کرتا ہے۔ حکومت کا اعلان متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے اہم اقدام ہے، لیکن معاشرہ، انتظامیہ اور سرکاری ادارے بھی یہ سبق سیکھیں کہ انسانی زندگی ہر حال میں محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
یہ حادثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہر کی عمارتوں اور تجارتی سرگرمیوں میں حفاظتی انتظامات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے ہر ممکن اقدام کیے جائیں تاکہ کسی اور شہر یا عمارت میں ایسا دردناک سانحہ دوبارہ پیش نہ آئے۔
گل پلازہ کا حادثہ ہمارے معاشرے، حکومت اور انتظامیہ کے لیے ایک موقع ہے کہ ہر ممکن قدم اٹھا کر انسانی زندگی اور شہری حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔ یہ سب کے لیے ایک یادگار سبق ہے کہ زندگی کی قدر کو ہر حال میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور شہری مراکز میں حفاظتی ضوابط سختی سے نافذ ہوں۔؟