October 13, 2026

پی ایس ڈی جے ایس ٹی ویٹنگ لسٹ امیدواروں کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج چار سال سے آفر آرڈر کے منتظر، کوٹہ پالیسی پر عملدرآمد کا مطالبہ

IMG-20260125-WA0137

پی ایس ڈی جے ایس ٹی ویٹنگ لسٹ امیدواروں کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج
چار سال سے آفر آرڈر کے منتظر، کوٹہ پالیسی پر عملدرآمد کا مطالبہ

سکھر (بیورورپورٹ)پی ایس ڈی جے ایس (PSD-JST) ویٹنگ لسٹ میں شامل امیدواروں نے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور حکومتِ سندھ کے خلاف نعرے بازی کی۔احتجاج کرنے والے امیدواروں کا کہنا تھا کہ ان کا مرکزی احتجاجی کیمپ گزشتہ 215 دنوں سے کراچی میں قائم ہے جبکہ وہ چار سال سے آفر آرڈر کے منتظر ہیں۔مظاہرین کے مطابق گزشتہ چھ ماہ سے پرامن احتجاج جاری ہے مگر تاحال ان کے مسائل حل نہیں کیے گئے۔امیدواروں نے بتایا کہ سندھ کے مختلف اضلاع میں 40 پلس نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو ایڈجسٹ کر دیا گیا ہے، تاہم سکھر سٹی کے ویٹنگ امیدوار آج بھی آفر آرڈر کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکھر میں میرٹ بدستور 50 نمبروں پر قائم ہے جبکہ دیگر علاقوں میں 32 اور 33 نمبر حاصل کرنے والوں کو بھی نوکریاں دے دی گئی ہیں۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ وزیر تعلیم سردار شاہ اور وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے حلقوں میں کم نمبروں پر کامیاب امیدواروں کو ہزاروں کی تعداد میں آفر آرڈر جاری کیے، جبکہ پورے سندھ میں 7 سے 8 ہزار امیدوار ایسے ہیں جن کے نمبرز 40 سے 50 کے درمیان ہیں اور وہ تاحال بیروزگار ہیں۔احتجاج کی قیادت کرنے والے محفوظ احمد، ماجد دور اور علی رضا نے کہا کہ جن امیدواروں نے 50 نمبر حاصل کیے ہیں وہ سراپا احتجاج ہیں، جبکہ کم نمبروں پر منتخب امیدوار گزشتہ چار سال سے نوکریاں کر رہے ہیں جو کھلی ناانصافی ہے۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ سندھ کوٹہ پالیسی اور کورٹ آرڈر پر عملدرآمد کرتے ہوئے انہیں فوری آفر آرڈر جاری کرے تاکہ بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اب بھی پانچ ماہ کا وقت موجود ہے، اس دوران ریٹائرمنٹ سے خالی ہونے والی ہزاروں اسامیوں، خصوصاً جون 2025 میں ریٹائر ہونے والی نشستوں کو کورٹ آرڈر کے مطابق ویٹنگ امیدواروں کو دیا جائے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ کراچی میں شدید احتجاج کریں گے اور بلال ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ بھی کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتِ سندھ پر عائد ہو گی۔