*1971 پاک بھارت جنگ:: الزامات، زمینی حقائق اور قومی ذمہ داری* تحریر: میجر وسیم محمود بٹ(ر)
*1971 پاک بھارت جنگ:: الزامات، زمینی حقائق اور قومی ذمہ داری*
تحریر: میجر وسیم محمود بٹ(ر)
1971ء کی پاک–بھارت جنگ پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس پر جذباتیت، سیاسی مفادات اور بیرونی پروپیگنڈے کی گرد آج بھی جمی ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے اس جنگ کو سمجھنے، اس کے اسباب جاننے اور اس سے قومی سطح پر سبق حاصل کرنے کے بجائے، اسے اکثر الزام تراشی اور خود احتسابی کے نام پر اپنی ہی مسلح افواج کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف تاریخی حقائق کے منافی ہے بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستانی فوج نے 1971ء کی جنگ اپنے مرکزی بیس سے تقریباً سترہ سو کلومیٹر دور، نہایت نامساعد عسکری اور جغرافیائی حالات میں لڑی۔ مشرقی پاکستان کی جغرافیائی تنہائی، رسد کی شدید قلت، فضائی اور بحری ناکہ بندی، اور دشمن کی واضح عددی برتری نے جنگ کے نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈالا۔ ان بنیادی حقائق کو نظرانداز کر کے کسی بھی نتیجے پر پہنچنا دیانت دارانہ تجزیہ نہیں کہلا سکتا۔
1971ء کے حوالے سے عموماً دو الزامات دہرائے جاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ پاکستانی فوج نے لاکھوں بے گناہ شہریوں کا قتلِ عام کیا، اور دوسرا یہ کہ 93 ہزار فوجیوں کا سرنڈر انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اور شرمناک شکست تھا۔ ان دونوں دعوؤں کا حقائق کی روشنی میں جائزہ لینا ضروری ہے۔
قتلِ عام کے الزام کے حوالے سے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ بھارت نے مکتی باہنی کے نام سے ایک مسلح علیحدگی پسند تنظیم قائم کی، جسے باقاعدہ تربیت، اسلحہ اور ہر قسم کی سرپرستی فراہم کی گئی۔ مختلف تحقیقی ذرائع کے مطابق مکتی باہنی کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی، جبکہ مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی کل نفری تقریباً چالیس ہزار تھی۔ مکتی باہنی کی کارروائیاں صرف عسکری اہداف تک محدود نہ تھیں بلکہ انفراسٹرکچر کی تباہی، خوف و ہراس پھیلانا اور عوام و فوج کے درمیان نفرت پیدا کرنا بھی ان کے مقاصد میں شامل تھا۔
بعد ازاں، انہی پرتشدد کارروائیوں کو ایک منظم بیانیے کے تحت پاکستانی فوج سے منسوب کیا گیا۔ یہاں یہ امر خاص توجہ کا طالب ہے کہ بھارتی نژاد بنگالی مصنفہ سرمیلا بوس نے اپنی کتاب Dead Reckoning میں تفصیلی تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پوری جنگ میں تمام فریقین کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 30 سے 50 ہزار کے درمیان تھی۔ یہ اعداد و شمار اس دعوے پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں کہ جنگ میں تیس لاکھ بے گناہ شہری مارے گئے۔
جہاں تک 93 ہزار کے سرنڈر کا تعلق ہے، تو یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی تعداد کبھی 40 ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ قیدیوں کی مجموعی تعداد میں فوج کے ساتھ ساتھ سول سرکاری ملازمین، پولیس اور دیگر اداروں کے افراد بھی شامل تھے۔ اسے محض فوجی سرنڈر قرار دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
عسکری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ شکست جنگ کا ایک پہلو ہوتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم میں فرانس جیسا ملک چند ہفتوں میں ہار گیا، روس کے لاکھوں فوجیوں نے سرنڈر کیا، اور جرمنی و جاپان جیسی طاقتیں مکمل طور پر شکست سے دوچار ہوئیں۔ حالیہ تاریخ میں امریکہ کو ویتنام اور افغانستان میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پس منظر میں 1971ء کو انسانی تاریخ کی “سب سے شرمناک شکست” کہنا نہ علمی دیانت کے مطابق ہے اور نہ تاریخی شعور کے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ 1948ء اور 1965ء میں، وسائل اور تعداد میں کم ہونے کے باوجود، پاکستانی افواج نے دشمن کو مؤثر جواب دیا۔ بھارت 1948ء میں خود اقوامِ متحدہ جا کر جنگ بندی کا خواہاں ہوا۔ آج بھی بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے، مگر اس کے باوجود پاکستانی افواج گزشتہ سات دہائیوں سے اس جارحیت کا مقابلہ کرتی آ رہی ہیں۔
قومی اختلافات اپنی جگہ، مگر اپنی مسلح افواج، شہداء اور غازیوں کی توہین کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔
زندہ قومیں اپنی تاریخ کا تنقیدی جائزہ ضرور لیتی ہیں، مگر اپنے محافظوں کو نفسیاتی جنگ کا ایندھن نہیں بناتیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ 1971ء کو جذبات کے بجائے حقائق، تحقیق اور دیانت داری کی روشنی میں دیکھا جائے—کیونکہ مضبوط قومیں سچ پر ہی کھڑی ہوتی ہیں۔
یہبسوال ہر ذی شعور پاکستانی کو خود سے پوچھنا چاہیے: کیا یہ پوری قوم کی توہین نہیں کہ چند گمراہ عناصر سوشل میڈیا پر بیٹھ کر ہمارے شہداء اور غازیوں کا تمسخر اڑائیں؟
غیرت مند قومیں سیاسی اختلافات کو کبھی قومی مفاد پر غالب نہیں آنے دیتیں۔
غیرت ہے بڑی چیز جہاں تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سر دارا
پاک افواج زندہ باد
پاکستان ہمیشہ پائندہ باد
میجر وسیم محمود بٹ (ریٹائرڈ)
پریزیڈنٹ
(پاکستان ایکس سروس مینز آف دی آرمڈ فورسز ویٹرنز ؛ عظیم پاکستان)