October 13, 2026

بیوی کو طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا جرم قرار، پارلیمنٹ نے قانون منظور کرلیا۔

IMG-20260124-WA0241

بیوی کو طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا جرم قرار، پارلیمنٹ نے قانون منظور کرلیا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بیوی بچوں کے سماجی تحفظ سے متعلق قانون منظور کرلیا گیا۔

اسلام آباد(نمائندہ جاوید اقبال)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکا اجلاس میں گھریلو تشدد سے تحفظ اور روک تھام کا قانون منظور کرلیا گیا۔بل پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی نے پیش کیا تھا۔گھریلو تشدد سے مراد جسمانی، نفسیاتی اور جنسی زیادتی ہے۔بل کے مطابق کسی خاتون، مرد، مخنث شخص، بچے یا کمزور شخص کے خلاف کی گئی جسمانی، جنسی یا نفسیاتی زیادتی جو خوف پیدا کرے یا اسےجسمانی اور نفسیاتی نقصان پہنچائے وہ گھریلو تشدد ہے۔بل کے مطابق جسمانی زیادتی سے مراد جسمانی طور پر کسی کمزور شخص کے خلاف کیا گیا تشدد یا ایسا کوئی بھی فعل ہے۔نفسیاتی اور زبانی بد سلوکی سے مراد ذلت آمیز رویہ ہے جس سے متاثرہ شخص کی آزادی، سکیورٹی، رازداری، سالمیت پر حملہ کیا جائے۔ کسی متاثرہ شخص کی توہین یا تضحیک ، شریک حیات یاگھر کےدیگر افراد کو جسمانی سزا کی دھمکی دینا نفسیاتی اور زبانی زیادتی کے زمرے میں آتا ہے۔بل کے مطابق پاگل پن یا بانجھ پن کا الزام لگا کر کسی کو طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا، گھر کی خاتون یا کسی اور رکن کےکردار کے حوالے سےجھوٹے الزامات عائد کرنا بھی نفسیاتی اور زبانی زیادتی ہے۔متاثرہ شخص کو جان بوجھ کر چھوڑ دینا، ہراساں یا ا س کاپیچھا کرنا بھی نفسیاتی اور زبانی زیادتی ہے۔ بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی اور شخص کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا بھی نفسیاتی اور زبانی زیادتی ہے۔جنسی زیادتی سےمراد جنسی نوعیت کا کوئی بھی عمل ہےجس سے کوئی متاثرہو یا تذلیل محسوس کرے۔بل کے مطابق متاثرہ شخص کو مشترکہ گھر میں رہنے کاحق حاصل ہوگا، وہ شیلٹر ہوم میں بھی رہائش اختیار کرسکتا ہے۔ متاثرہ شخص کو پولیس کا تحفظ دیا جائےگا، اس کی مالی، معاشی، طبی یا دیگر ایسی ضروریات پوری کرنا مجرم کی ذمہ داری ہوگی۔مجرم کو پابند بنایا جائےگا کہ متاثرہ شخص سےکسی قسم کاذاتی، زبانی، تحریری، الیکٹرانک یا ٹیلیفونک رابطہ نہ کرے، اس سے دور یا مخصوص فاصلے تک رہے.اگر متاثرہ شخص کی جان شہرت یا وقار کو کسی سنجیدہ تشدد کےباعث خطرہ ہےتو عدالت مجرم کو گھر سے نکالنے اور اس کے رشتہ داروں کو گھر داخل ہونے سے روک سکتی ہے۔اگر متاثرہ شخص بچہ ہےتو عدالت بچے کی کسٹڈی کسی مناسب شخص یا ادارے کو دے گی، اگر متاثرہ فریق بالغ ہےتو کسٹڈی اس کی رضامندی سےکسی شخص یا ادارے کو دی جائے گی۔ بل کے مطابق متاثرہ شخص کی درخواست پر عدالت7 روز کےاندر پہلی سماعت کرے گی، درخواست 90 دن کے اندر نمٹائی جائے گی۔اگر جرم پینل کوڈ میں شامل نہیں تو گھریلو تشدد پر 6 ماہ سے 3 سال تک سزا اور 20 ہزار روپے سے 1 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید 3 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ جو گھریلو تشدد میں ساتھ دےاسے بھی6 ماہ سے3سال تک قید اور 1لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ فیصلے کے خلاف اپیل 10 دن کے اندر دائرکی جاسکےگی۔