شریف اکیڈمی جرمنی کے زیراہتمام توسیعی لیکچر و شعری نشست کاانعقاد خصوصی تحریر : راجہ نورالہی عاطف
شریف اکیڈمی جرمنی کے زیراہتمام توسیعی لیکچر و شعری نشست کاانعقاد
خصوصی تحریر : راجہ نورالہی عاطف
ڈائریکٹر میڈیا شریف اکیڈمی جرمنی کے زیر اہتمام توسیعی لیکچر اور شعری نشست میں بطور مہمان خصوصی ڈاکٹر ارم صبا اسسٹنٹ پروفیسر فاطمہ جناح ویمین یورنیورسٹی راولپنڈی نے شرکت کی۔ انہوں نے اپنی اختتامی گفتگو میں کہا کہ تنقید کے حوالے سے توسیعی لیکچر کی نشست ایک جامع لیکچر ہے جس پر ڈاکٹر تقی نے تنقید کے موضوع پر انتہائی تحقیقی گفتگو کی ۔ انہوں نے کہا کہ شریف اکیڈمی جرمنی دراصل اردو ادب اور زبان کا ایک ادارہ ہی نہیں بلکہ تہذیب کے فروغ کی ایک روشن مثال ہے کیونکہ جہاں ادب کی بات آتی ہے وہاں ہم تہذیب اور ثقافت کو اس سے الگ نہیں کر سکتے یہ ادارہ ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے اور شفیق مراد دیار غیر میں رہتے ہوئے جس طرح اردو ادب کی شمع جلائے ہوئے ہیں ، یہ ایک کار ِ عظیم ہے ۔آپ اردو کے لئے جو خدمات سرانجام دے رہے ہیں انشاءاللہ مستقبل میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔اور آپ کی کاوشیں انشاءاللہ رنگ لائیں گی اور دن دگنی اور رات چگنی یہ ادارہ ترقی کرے گا۔ انشاءاللہ ۔ 2009 میں آپ نے شریف اکیڈمی جرمنی کی بنیاد رکھی ۔ ایک بہت محدود وقت میں جو بہت بڑا کام ہے وہ آپ سرانجام دے رہے ہیں اور خصوصا میں یہ کہوں گی کہ دیار غیر میں رہتے ہوئے جو لوگ یہاں سے جاتے ہیں ان کے سامنے سب سے پہلے معاش کی فکرہوتی ہے ۔ ڈاکٹر ارم صبا نے کہا کہ تمام مسائل کے باوجود شفیق مراد نے اپنا تعلق اپنے اپنے وطن زبان اور مٹی سے قائم رکھا ہے ۔آپ کی انتھک محنت خلوص اور خدمات کو ہم سلیوٹ پیش کرتے ہیں اور آپ کی یہی محنت جو ہے اس ادارے کو معتبر مقام دلائے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ
دیارِ غیر میں رہتے ہوئے نسلوں کو ،دلوں کو اور ثقافتوں کو جوڑ رہے ہوتے ہیں ۔ یہ سب مجھے بہت اچھا لگا ۔میں آخر میں دعا گو ہوں ۔شریف اکیڈمی کی ترقی کے لئے اور اکیڈمی کے تمام ممبران کے لئے جنہوں نے دیاِ غیر میں علم کی شمع جلا رکھی ہے۔ انشاءاللہ اس پلیٹ فارم سے ڈاکٹر تقی عابدی اور ان جیسے نابغہ روزگار شخصیات سے استفادہ کرتے رہیں گے ۔