October 24, 2026

ٹھٹھہ سندھ میں شفافیت اور حقِ معلومات کے فروغ کے لیے سیمینار کا انعقاد

IMG-20260109-WA0222

ٹھٹھہ
سندھ میں شفافیت اور حقِ معلومات کے فروغ کے لیے سیمینار کا انعقاد
سندھ میں شفافیت کے فروغ، حقِ معلومات کے قانون پر عمل درآمد اور پبلک انفارمیشن افسران کی استعداد کار بڑھانے کے لیے “سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن، انگیجمنٹ اینڈ کیپیسٹی بلڈنگ آف پبلک انفارمیشن آفیسرز” کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار میں محکمہ صحت، تعلیم، پولیس، سوشل ویلفیئر، لوکل گورنمنٹ، اطلاعات و دیگر مختلف سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر تخلیق فاؤنڈیشن کے سی ای او محمد یعقوب نے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔ سی ای او محمد یعقوب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ انفارمیشن کمیشن ایکٹ 2017 پاکستان کا ایک بہترین قانون ہے، جس کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت کو یقینی بنانا اور عوام کو معلومات تک رسائی کا حق دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ انفارمیشن کمیشن کی جانب سے اس قانون کے تحت باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے، جس کے مطابق ہر سرکاری محکمے میں پبلک انفارمیشن آفیسر کی تعیناتی لازمی قرار دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے تحت تمام سرکاری افسران عوام کی جانب سے طلب کی گئی معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں جبکہ معلومات فراہم نہ کرنے یا تاخیر کی صورت میں سزا اور جرمانے کی شقیں بھی ایکٹ میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معلومات کی مؤثر فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری محکموں میں مطلوبہ مشینری، ریکارڈ اور جدید سہولیات دستیاب ہوں تاکہ عوام کو بروقت اور درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔ سیمینار کے دوران شرکاء نے حقِ معلومات کے قانون پر عمل درآمد، اس سلسلے میں درپیش مسائل اور ممکنہ حل پر بھی گفتگو کی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ شفافیت اور معلومات تک رسائی سے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے بلکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آتی ہے۔ آخر میں شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سندھ انفارمیشن کمیشن ایکٹ 2017 پر مؤثر عمل درآمد کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے اور عوام کو ان کا قانونی حق دلانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔

You may have missed