عمرکوٹ میں خشک سالی کی صورتحال سنگین، ہنگامی امداد اور سرکاری اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی کا مطالبہ آواز دو پروگرام کے اختتام کے بعد بھی ضلعی فورم جاری رکھنے کا متفقہ فیصلہ
عمرکوٹ میں خشک سالی کی صورتحال سنگین، ہنگامی امداد اور سرکاری اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی کا مطالبہ آواز دو پروگرام کے اختتام کے بعد بھی ضلعی فورم جاری رکھنے کا متفقہ فیصلہ
عمرکوٹ (رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی) اویئر کے زیر اہتمام آواز دو پروگرام کے تحت منعقدہ ضلعی فورم کے چوتھے اجلاس میں تھر میں خشک سالی، پینے اور زرعی پانی کی قلت، سرکاری اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی اور خواتین، معذور افراد سمیت مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ایڈووکیٹ بھاگچند بھیل کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پروگرام کے اختتام کے باوجود ضلعی فورم کی سرگرمیاں جاری رکھنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔ اویئر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی اکبر راہموں نے کہا کہ بارشوں کی کمی کے باعث تھر میں خشک سالی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جس سے پینے کے پانی، مویشیوں کے چارے، خوراک اور روزگار کے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے متاثرہ علاقوں کا سروے کرانے اور متاثرہ خاندانوں، مال مویشی پالنے والوں اور آبادگاروں کے لیے ہنگامی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں سرکاری اسپتالوں میں نفسیاتی صحت، دماغ و اعصاب، امراضِ چشم اور ناک، کان و گلے کے ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی پر بھی زور دیا گیا۔ محکمہ ترقیِ نسواں کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہد حسین آرائیں نے خواتین کے تحفظ، سیف ہاؤس کو فعال بنانے اور تشدد سے متاثرہ خواتین کو قانونی و نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ فورم کے ارکان شیوا رام، منصور گرگیز، کنہیا لال اور بھارت کمار نے معذور افراد کے حقوق، تعلیم، علاج، سماجی تحفظ اور سرکاری ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹے پر عملدرآمد، جبکہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ پریس کلب عمرکوٹ کے صدر امین میمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ تھر میں خشک سالی کی سنگین صورتحال کے باعث دیہی آبادی، خصوصاً مال مویشی پالنے والے اور محنت کش خاندان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کو صرف عارضی امداد فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ پینے کے صاف پانی، روزگار اور بنیادی ضروریات کے مستقل حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ انہوں نے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور متعلقہ اداروں تک شہریوں کی آواز پہنچانے میں صحافیوں کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ پریس کلب عمرکوٹ عوامی فلاح و بہبود کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ اجلاس میں کنہیا لال کو سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کا رکن مقرر ہونے پر مبارک باد دی گئی اور آواز آگاہی مراکز کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ فورم کے چیئرمین ایڈووکیٹ بھاگچند بھیل نے کہا کہ آواز دو پروگرام کے اختتام کے بعد بھی ضلعی فورم جاری رہے گا، جہاں سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور سماجی رہنماؤں کے باہمی تعاون سے عوامی مسائل کے حل اور اداروں کی جوابدہی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔