*طلاق دینے کا شرعی طریقہ* بدھ 07 جنوری 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*طلاق دینے کا شرعی طریقہ*
بدھ 07 جنوری 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
طلاق نہایت سنجیدہ اور ناپسندیدہ مگر بعض حالات میں جائز عمل ہے۔ شریعتِ اسلام نے اس کے لیے واضح، منظم اور حکیمانہ طریقہ مقرر کیا ہے تاکہ ظلم، جلد بازی اور خاندان کی تباہی سے بچا جا سکے۔ ذیل میں طلاق دینے کا شرعی طریقہ
مرحلہ وار بیان کیا جا رہا ہے:
1️⃣ طلاق کی نیت اور آخری حل ہونا۔
قرآن کے مطابق طلاق آخری حل ہے، اس سے پہلے:
*نصیحت
*وقتی علیحدگی
*خاندان کے ثالث آزمانا ضروری ہے(سورۃ النساء: 35)
2️⃣ طلاق دینے کا مسنون (شرعی و سنت کے مطابق) طریقہ
✅ طریقۂ احسن (سب سے بہتر)
*شوہر ایک طلاق دے
*یہ طلاق اس وقت دی جائے:
جب بیوی حیض میں نہ ہو
*اور اس طہر میں جماع نہ ہوا ہو۔
*اس کے بعد شوہر عدّت تک انتظار کرے۔
عدّت کے دوران:
*رجوع (واپس لینا) جائز ہے
*یا عدّت مکمل ہونے پر نکاح خود ختم ہو جائے گا۔
(سورۃ البقرہ: 229)
✅ طریقۂ حسن
*شوہر تین طہروں میں:
*ہر طہر میں ایک ایک طلاق دے۔
*عدّت کے دوران رجوع کی گنجائش باقی رہتی ہے
*تیسری طلاق کے بعد رجوع ممکن نہیں۔
3️⃣ ناجائز اور گناہ والا طریقہ (بدعت)
❌ ایک ہی وقت میں تین طلاق دینا
❌ حیض کی حالت میں طلاق دینا
❌ غصے میں، جلد بازی میں طلاق دینا
یہ طریقہ حرام اور گناہ ہے، اگرچہ اکثر فقہاء کے نزدیک واقع ہو جاتی ہے۔
*سورۃ الطلاق: 1
4️⃣ عدّت کے احکام
*عدّت: تین حیض
*اس دوران:
✅ بیوی شوہر کے گھر میں رہے گی۔
✅ نان و نفقہ شوہر کے ذمے ہوگا
✅ شوہر کو رجوع کا حق حاصل رہتا ہے
5️⃣ رجوع کا طریقہ
عدّت کے اندر:
✅ زبانی کہنا: “میں نے رجوع کر لیا”
✅ یا ازدواجی تعلق قائم کرنا
✅ رجوع کے لیے نیا نکاح ضروری نہیں۔
6️⃣ ایک ساتھ تین طلاق کا حکم۔
*رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں طلاق نافذ نہیں ہوتی تھی۔
*خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں بھی طلاق نافذ نہیں ہوتی تھی۔
*خلیفہ دوئم حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پہلے دو سال میں میں بھی طلاق نافذ نہیں ہوتی تھی۔
*دو سال بعد حضرت عمر نے تین طلاق کو یہ کہہ کر نافذ کر دیا تھا کہ لوگ اب تعدی سے کام لینے لگے ہیں۔
***بعض اہلِ علم کے نزدیک تین طلاق نافذ ہو جاتی ہیں مگر سنت رسول اللہ سے ثابت نہیں۔
7️⃣ عورت کا حق: خلع
اگر عورت علیحدگی چاہے تو:
خلع لے سکتی ہے
*مہر واپس کر کے نکاح ختم کروا سکتی ہے(البقرہ: 229)
**عدالت فیصلہ دی سکتی ہے خلع کی صورت میں حق مہر عورت کو اور جہیز مرد کو واپس کرنا ہو گا۔
***خلع کی عدت ایک طہر ہے لیکن طلاق کی عدت تین طہور ہے.
*خلاصہ کلام*
✔️ سنت طریقہ: ایک طلاق، طہر میں، عدّت تین طہور کا انتظار
❌ بدعت: ایک ساتھ تین طلاق، حیض میں طلاق
⚠️ طلاق آخری حل ہے، کھیل نہیں.
نوٹ:
تین طلاق کے نافذ ہونے پر اس مرد سے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا تاوقتیکہ یہ عورت کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کر لے اور وہاں سے بھی اسے طلاق ہو جائے۔
*الدعاء*
یا اللہ تعالی ہر مرد و زن کو معاہدہ نکاح نبھانے کی توفیق عطا فرما۔
یا اللہ تعالی سب کی عزتیں محفوظ فرما۔
آمین یا رب العالمین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333