*قرآن اور تقدیر — علمِ الٰہی اور انسانی اختیار کا توازن* منگل 06 جنوری 2025 تحقیق و تحریر انجینئر نذیر ملک سرگودھا
*قرآن اور تقدیر — علمِ الٰہی اور انسانی اختیار کا توازن*
منگل 06 جنوری 2025
تحقیق و تحریر
انجینئر نذیر ملک سرگودھا
تقدیر (Destiny) انسان کی زندگی کا سب سے گہرا اور حساس سوال ہے۔
یہی وہ موضوع ہے جس پر تاریخ کے ہر دور میں عقل حیران اور دل مطمئن رہا ہے۔
کسی نے اسے جبریت (Predestination) سمجھا،
کسی نے آزادیِ ارادہ (Free Will) کا نعرہ لگایا —
مگر قرآن نے اس بحث کو نہایت توازن اور حکمت سے واضح کیا ہے۔
اسلام میں تقدیر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مجبور محض ہے،
بلکہ یہ علمِ الٰہی کا مکمل احاطہ ہے —
کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے، مگر مجبور نہیں کرتا۔
علمِ الٰہی — زمان و مکان سے ماورا
قرآن کہتا ہے:
“وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ”(الأنعام: 59)
“غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔”
یہ آیت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ
اللہ تعالیٰ کے لیے وقت ایک ساتھ موجود ہے۔
اس کے علم میں ماضی، حال، مستقبل تینوں ایک ہی لمحے میں منکشف ہیں۔
وہ جانتا ہے کہ بندہ کیا کرے گا، مگر بندے کے اختیار کو سلب نہیں کرتا۔
جیسے استاد امتحان سے پہلے جانتا ہے
کہ اس کا کون سا شاگرد کامیاب ہوگا،
مگر علم رکھنے سے وہ شاگرد کو مجبور نہیں کرتا۔
⚖️ اختیار اور تقدیر، قرآن کی متوازن تعبیر
قرآن نے انسان کو
نہ تو مکمل طور پر مجبور قرار دیا
اور نہ بالکل آزاد۔
“إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا” (الدہر: 3)
“ہم نے انسان کو راستہ دکھا دیا، اب چاہے شکر گزار بنے یا ناشکرا۔”
یہی آیت انسانی اختیار (Free Will) کا سب سے واضح اعلان ہے۔
انسان کے سامنے دو راستے ہیں
اللہ تعالیٰ نے عقل، وحی اور ضمیر کی رہنمائی دے دی،
فیصلہ بندے کے اپنے ہاتھ میں ہے۔
*اعمال کا حساب — تقدیر کے باوجود*
قرآن میں بارہا “حساب و کتاب” کا ذکر آیا ہے۔
اگر انسان مجبور ہوتا تو پھر قیامت کے دن حساب کا کیا معنی
“فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ” (الزلزال: 7-8)
یعنی انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔
اللہ نے راستہ دکھایا، مگر چلنا انسان نے ہے۔
*تقدیر کی اقسام — علمائے امت کے نزدیک*
علمائے اہلِ سنت کے نزدیک تقدیر چار پہلو رکھتی ہے:
1 علم (علمِ الٰہی):
اللہ ہر چیز کو پہلے سے جانتا ہے۔
2. کتابت (نوشت):
ہر چیز “لوحِ محفوظ” میں درج ہے۔
3 مشیت (ارادہ):
جو کچھ ہوتا ہے، اللہ کی اجازت سے ہوتا ہے۔
4 خلق (تخلیق):
اللہ ہی خالقِ اعمال ہے، مگر بندہ فاعلِ مختار۔
یہی وہ ترتیب ہے جس سے اسلام جبریت اور آزاد خیالی کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔
مثال: بیج اور زمین
انسان کا اختیار ایسا ہے جیسے کسان کا۔
وہ زمین میں بیج بوتا ہے، پانی دیتا ہے، مگر
بارش، ہوا اور نشوونما اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔
اگر کسان سستی کرے، تو فصل نہیں اگتی۔
اگر محنت کرے، تو اللہ اس کے اسباب میں برکت دیتا ہے۔
اسی طرح اعمال انسان کے اختیار میں ہیں، نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں۔
سائنسی زاویہ — Determinism vs Quantum Freedom
جدید سائنس میں بھی “جبریت” اور “آزادی” کی بحث موجود ہے۔
کلاسیکل فزکس (نیوٹن) میں کائنات ایک گھڑی کی طرح چلتی تھی —
یعنی سب کچھ پہلے سے طے ہے۔
مگر کوانٹم فزکس (Quantum Mechanics) نے دکھایا کہ ذرات کے رویے میں “غیر متوقع آزادی” موجود ہے۔
یہی نظریہ قرآن کے تصورِ تقدیر سے ہم آہنگ ہے
کہ نظامِ کائنات منظم بھی ہے، مگر انسان کے لیے انتخاب کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
*انبیاء اور تقدیر پر ایمان*
قرآن میں تمام انبیاء نے تقدیر کو مانا مگر کبھی اسے عذر نہیں بنایا۔
حضرت نوحؑ نے طوفان میں کشتی بنائی یہ اختیار تھا۔
حضرت ابراہیمؑ نے آگ میں کودنے سے انکار نہیں کیا یہ تسلیم تھا۔
اور رسولِ اکرم ﷺ نے ہجرت فرمائی یہ تقدیر کے ساتھ عمل کا امتزاج تھا۔
“تَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَوَكِّلِينَ”(الأنفال: 49)
توکل کا مطلب یہ نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ لیا جائے،
بلکہ یہ کہ فیصلہ اللہ کے سپرد کر کے اپنی پوری حتمی کوشش کی جائے۔
توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر تیز رکھ اپنا
پھر اس کی تیزی کو مقدر کے حوالہ کر
نتیجہ
تقدیر، علمِ الٰہی کا نام ہے جبر کا نہیں۔
اللہ جانتا ہے، مگر بندے کا اختیار باقی ہے۔
عمل کے بغیر ایمان ادھورا ہے،
اور عمل کے بغیر تقدیر کا سہارا خود فریب۔
بندے کو چاہئے کہ عمل میں رسول ﷺ کو نمونہ بنائے،
اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔
“وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ”(الانسان: 30)
یعنی تم کچھ نہیں چاہتے مگر وہی جو اللہ چاہے —
اور یہی اسلام کا سب سے بلند فلسفہ ہے:
رضائے الٰہی پر راضی ہونا۔
الدعاء
یا میرے رب میری عقل و فہم اور ایمان کی حفاظت فرما۔
آمین یا رب العالمین
انجینئر نذیر ملک
سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
قرآن اور تقدیر