October 28, 2026

نوجوانوں کو منشیات اور جرائم سے بچانے کے لیے کھیلوں کے میدان آباد کرنا ہوں گے، امیدوار صوبائی اسمبلی چوہدری کاشف ثنا

IMG-20261028-WA0216

نوجوانوں کو منشیات اور جرائم سے بچانے کے لیے کھیلوں کے میدان آباد کرنا ہوں گے، امیدوار صوبائی اسمبلی چوہدری کاشف ثنا
چک نمبر سو سکس ارمیں فٹ بال میلہ
نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں اور منشیات کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
ہارون آباد (نمائندہ خصوصی سٹی رپورٹر) امیدوار صوبائی اسمبلی چوہدری کاشف ثنا وائیٹل گروپ والے نے 30اکتوبر شام 4بجےڈاکٹر نجم الدین مرحوم فٹ بال میلہ 100سکس ار میں بطور چیف گیسٹ شامل ہو نگے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شہر کے نوجوانوں کو منشیات، جرائم اور دیگر سماجی برائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کھیلوں کا فروغ اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ اور ملک و قوم کا روشن مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دینا، انہیں صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا اور منشیات و جرائم سے محفوظ رکھنا حکومت، انتظامیہ، پولیس، تعلیمی اداروں، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے نوجوانوں کی بہتر تربیت اور کردار سازی کے لیے تعلیم کے ساتھ کھیلوں کو بھی یکساں اہمیت دینا ضروری ہے۔ کرکٹ، فٹ بال، والی بال اور دیگر کھیل نہ صرف نوجوانوں کو جسمانی طور پر صحت مند رکھتے ہیں بلکہ ان میں نظم و ضبط، خود اعتمادی، برداشت، باہمی تعاون اور ٹیم ورک جیسی مثبت خصوصیات بھی پیدا کرتے ہیں۔ کھیلوں کی سرگرمیاں نوجوانوں کو غیر صحت مند رجحانات سے دور رکھنے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر ، اسسٹنٹ کمشنر۔محکمہ کھیل اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ تحصیل بھر میں کھیلوں کے میدانوں کی بحالی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے باقاعدہ مقابلوں کے انعقاد کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے کے مناسب مواقع میسر آ سکیں۔
انہوں نے ڈی ایس پی اور متعلقہ ایس ایچ اوز سے بھی اپیل کی کہ نوجوانوں کے ساتھ رابطے مضبوط بنائے جائیں، تعلیمی اداروں اور مقامی آبادیوں میں منشیات کے مضر اثرات سے متعلق آگاہی مہمات چلائی جائیں اور منشیات فروشوں و جرائم پیشہ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی کی جائے۔
ڈاکٹر ایم لال واگھانی نے مزید کہا کہ منشیات اور جرائم جیسے سماجی مسائل کا خاتمہ صرف قانونی کارروائیوں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، کھیلوں، فنی تربیت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے لیے مناسب ماحول اور ضروری سہولتیں میسر ہوں تو انہیں اپنی صلاحیتوں کو تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قومی و سماجی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے تعلیمی اداروں، والدین، مقامی صنعت کاروں، مخیر حضرات، سماجی تنظیموں اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات کو بھی آگے آنا چاہیے۔ نوجوانوں کو کھیلوں کا سامان، تربیت، رہنمائی اور مقابلوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرکے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر ایم لال واگھانی نے مطالبہ کیا کہ تحصیل انتظامیہ اور پولیس شہر میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور کھیلوں کے فروغ کو ترجیح دیں، کھیلوں کے میدانوں کو فعال بنانے کے لیے اقدامات کریں اور مقامی سطح پر کرکٹ، فٹ بال، والی بال سمیت دیگر کھیلوں کے باقاعدہ مقابلوں کا انعقاد یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ نوجوانوں کو محفوظ، باصلاحیت اور ذمہ دار شہری بنانے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔ کھیلوں کے میدان آباد ہوں گے تو نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے مواقع ملیں گے، ان کی صلاحیتیں نکھریں گی اور معاشرے میں صحت مند رجحانات کو فروغ حاصل ہوگا۔
یاد رکھیے! کھیلوں کے میدان آباد ہوں گے تو نوجوانوں کے لیے ترقی کے راستے کھلیں گے، نوجوان محفوظ ہوں گے تو معاشرے کا مستقبل روشن ہوگا۔