October 20, 2026

کیمیکل ملا دودھ، ادارہ جاتی ناکامی یا مجرمانہ ملی بھگت؟ لاہور فوڈ اتھارٹی اور پولیس کٹہرے میں

IMG-20260103-WA0161

*کیمیکل ملا دودھ، ادارہ جاتی ناکامی یا مجرمانہ ملی بھگت؟ لاہور فوڈ اتھارٹی اور پولیس کٹہرے میں*

لاہور میں عوام کی صحت سے کھلا مذاق جاری ہے اور افسوسناک امر یہ ہے کہ جن اداروں پر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہی ادارے ملاوٹ مافیا کے سہولت کار بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تھانہ باٹا پورہ لاہور کی حدود میں کیمیکل ملا دودھ تیار کرنے والی ایک غیر قانونی فیکٹری کا انکشاف ہونے کے باوجود نہ صرف ملاوٹ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی بلکہ الٹا سچ سامنے لانے والے میڈیا نمائندوں کو ہی نشانہ بنا دیا گیا۔
*رائل نیوز کی تحقیقاتی ٹیم نے جب اس فیکٹری کو بے نقاب کیا تو تمام شواہد، ویڈیوز اور ٹھوس معلومات لاہور فوڈ اتھارٹی کے متعلقہ افسران کے سامنے پیش کی گئیں،*
مگر حیرت انگیز طور پر فوڈ اتھارٹی نے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ *یہ خاموشی نااہلی نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت اور مبینہ ملی بھگت کا تاثر دے رہی ہے۔*
ذرائع کے مطابق *ملاوٹ مافیا طویل عرصے سے کیمیکل ملا دودھ تیار کر کے شہریوں بچوں اور بزرگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہا ہے، جبکہ اس پورے غیر انسانی کاروبار کو مبینہ طور پر ماہانہ رشوت کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔*
اس سے بھی زیادہ تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ *تھانہ باٹا پورہ کی پولیس نے ملاوٹ مافیا کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہی عناصر کو ریلیف فراہم کیا اور میڈیا نمائندوں پر مبینہ جھوٹی ایف آئی آر درج کروا دی، جو آزادیٔ صحافت، آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔*
یہ واقعہ لاہور فوڈ اتھارٹی، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک کھلا سوالیہ نشان ہے۔ کیا یہی وہ “صاف پنجاب” ہے جس کے دعوے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز عوام کے سامنے کر رہی ہیں؟ *اگر زمینی حقائق یہی ہیں تو یہ دعوے محض بیانات اور تشہیری نعرے بن کر رہ گئے ہیں۔*
عوامی، صحافتی اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں، *لاہور فوڈ اتھارٹی کے ذمہ دار افسران، پولیس اہلکاروں اور ملاوٹ مافیا کے سرپرستوں کے خلاف فوری اور مثال قائم کرنے والی کارروائی کی جائے جبکہ صحافیوں پر درج مبینہ جھوٹی ایف آئی آر کو فی الفور ختم کیا جائے۔*
عوام کا واضح مؤقف ہے کہ اگر ملاوٹ مافیا کو اسی طرح ادارہ جاتی تحفظ ملتا رہا اور میڈیا کو دبایا جاتا رہا تو نہ صرف شہریوں کی صحت داؤ پر لگتی رہے گی بلکہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بھی مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔