October 14, 2026

مظفرآباد کے سرکاری ہسپتال امید کی قبر یا انسانیت کی آزمائش؟ تحریر ۔۔۔۔۔ ضرار جگوال

IMG-20251201-WA0272(2)

مظفرآباد کے سرکاری ہسپتال امید کی قبر یا انسانیت کی آزمائش؟

تحریر ۔۔۔۔۔ ضرار جگوال

مظفرآباد آزاد کشمیر کے دل میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر نظر ڈالنا انسان کو اندر سے ہلا دیتا ہے ۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں زندگی اور موت کا فیصلہ چند لمحوں میں ہوتا ہے لیکن وہ لوگ جو سب سے زیادہ محتاج ہیں غریب بے سہارا غیر سیاسی مریض اور ان کے لواحقین اکثر اس بحران میں اکیلے رہ جاتے ہیں سرکاری ہسپتال جو عوام کی خدمت کے لیے بنائے گئے تھے، انسانی امید اور مایوسی کے درمیان ایک باریک لکیر پر کھڑے ہیں۔امبور عباس میڈیکل ہسپتال مظفرآباد کا ایک اہم سرکاری طبی مرکز کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ یہاں بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ہر شہری بروقت علاج حاصل کرے۔ مگر حقیقت کچھ اور ہے ہسپتال کی عمارتیں خوبصورت اور محفوظ ہیں لیکن بنیادی آلات کی کمی ہے، اور ضروری ادویات اکثر دستیاب نہیں ہوتیں۔ ہر دن یہاں کے عملے کے لیے چیلنج ہے، لیکن سب سے زیادہ چیلنج وہ لوگ جھیلتے ہیں جو علاج کے لیے آئے ہیں۔ یہ ہسپتال ایک علامت ہے، ایک آئینہ جس میں آزاد کشمیر کے صحت کے نظام کی خامیاں نمایاں ہیں۔ دیواریں اگرچہ مضبوط دکھتی ہیں، مگر اندرونی خلا اور سہولیات کی کمی ہر قدم پر محسوس ہوتی ہے۔ ایمرجنسی وارڈ میں ایک عورت شدید درد کے ساتھ لائی گئی۔ یہ ایک عام واقعہ لگ سکتا ہے، مگر اس رات کی کہانی اس بات کی گواہ تھی کہ سرکاری ہسپتال میں انسانی زندگی کس طرح خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ایمرجنسی کے دوران نہ تو تمام ضروری آلات دستیاب تھے، نہ ہی تربیت یافتہ عملہ۔ لواحقین کے چہرے خوف اور اضطراب سے بھرے ہوئے تھے، اور مریض کی اذیت ہر لمحے بڑھ رہی تھی۔ یہ قصہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ مظفرآباد کے سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ ہونے والی ان کہی کہانیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مریض، لواحقین، اور عملہ سب نظام کی خامیوں سے متاثر ہوتے ہیں، لیکن سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ مریض اور لواحقین کی ذہنی اذیت یہ ہسپتال وہ جگہ ہے جہاں امید اور خوف کا توازن انتہائی نازک حد تک جھکتا ہے۔ لواحقین اکثر عملے کی بے حسی یا بدتمیزی کا سامنا کرتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں، لیکن جواب صرف تھکاوٹ یا بے حسی کی شکل میں ملتا ہے کچھ لوگ اپنی محبت اور دعا کے سہارے ٹکے رہتے ہیں، لیکن دل میں بار بار یہ سوال گردش کرتا ہے کیا ہمارے پیارے کی جان محفوظ ہے ؟؟ ایسے لمحے میں جہاں انسان اپنی زندگی یا کسی عزیز کی زندگی کے لیے خوفزدہ ہوتا ہے، سرکاری ہسپتال کی ناکامی اس اذیت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ ہر بیمار کی چیخ، ہر لواحق کی فکر، اور ہر لمحے کی کشمکش انسانی صبر کی ایک آزمائش ہے۔ مظفرآباد میں زیادہ تر لوگ متوسط یا کم آمدنی والے ہیں غربت اور بے بسی، سرکاری ہسپتال کی ناقص سہولیات کے ساتھ مل کر ایک خطرناک امتزاج پیدا کرتی ہے۔ لوگ اپنی محدود استطاعت کے باوجود کسی پرائیویٹ ہسپتال کا سہارا نہیں لے سکتے کیونکہ خرچہ برداشت سے باہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری ہسپتال پر ان کی امیدیں لگی رہتی ہیں، لیکن یہ امید اکثر مایوسی میں بدل جاتی ہے۔ یہاں ہر مریض کی کہانی ایک الگ داستان ہے۔ ایک بوڑھا شخص جو ٹانگ کی تکلیف کے لیے آیا، ایک غریب والدہ جو بچے کی بخار میں تھک ہار گئی، ہر کوئی اپنے صبر اور طاقت کی آخری حد پر ہے۔ اور سب کو ایک ہی چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے توجہ، احترام، اور انسانی ہمدردی ۔ بدتمیز رویہ اور سہولیات کی کمی کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ایمرجنسی میں سب سے چھوٹی چیزیں بھی بڑی اہمیت رکھتی ہیں سرنج، دوائیں، بنیادی طبی آلات لیکن یہاں یہ چیزیں اکثر دستیاب نہیں ہوتیں۔ اسٹاف کی تربیت اور صبر کی کمی مریض اور لواحقین کے ساتھ غیر ضروری کشمکش پیدا کرتی ہے۔ بدتمیزی، بے حسی، یا محض بھاگ دوڑ میں تھکن، ہر صورت حال کو اور زیادہ مشکل بنا دیتی ہے۔ یہ منظر ایسا ہے جہاں انسانی زندگی اور نظام کی خامیوں کے درمیان ایک معرکہ جاری ہے۔ ایک عام مریض، جو بس علاج کے لیے آیا ہے، اسے نہ صرف بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ نظام کی خامیوں اور عملے کی محدودیت کا بھی بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر ایک عام شہری کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے صبر اور برداشت۔ لیکن یہ صبر ایک حد کے بعد انسان کی جان، عزت اور وقار پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ سرکاری ہسپتال، جو عوام کی خدمت کے لیے بنایا گیا تھا، ایک ایسے مقام میں بدل جاتا ہے جہاں انسانیت کو بھولا دیا جاتا ہے، اور امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہسپتال کا عملہ بھی ہمیشہ پوری طاقت سے کام نہیں کرتا مظفرآباد کے سرکاری ہسپتال نہ صرف صحت کے بنیادی اصولوں میں ناکام ہیں بلکہ انسانی احساسات، امید اور اعتماد میں بھی خلل پیدا کرتے ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں عام آدمی اپنی جان کے لیے خدا کے سوا کسی اور پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔ غربت، سہولیات کی کمی، بدتمیز رویہ اور انسانی بے حسی نے ہسپتال کو ایک ایسی جگہ میں بدل دیا ہے جہاں انسانیت کو بھولا دیا گیا ہے، اور امیدیں مایوسی میں بدل گئی ہیں۔آزاد کشمیر میں صحت کے شعبے کی بنیادی ذمہ داری حکومت اور محکمہ صحت پر ہے۔ لیکن زمین پر حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارے اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہیں۔ بجٹ کی کمی، تربیت یافتہ عملے کی غیر موجودگی، اور بنیادی آلات کی کمی صرف سطحی مسائل نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک ایسا خلاء پیدا کرتے ہیں جہاں انسانی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ محکمہ صحت کے دفتر میں رپورٹس موجود ہیں، لیکن عملی طور پر ان کی کوئی اثر پذیری نہیں۔ ہر سال نیا بجٹ منظور ہوتا ہے، لیکن یہ بجٹ اکثر بنیادی ضروریات پر خرچ نہیں ہوتا۔ دوا، آلات، اور ایمرجنسی سہولیات کی کمی ظاہر کرتی ہے کہ یا تو منصوبہ بندی نہیں کی گئی، یا نگرانی اور احتساب کا فقدان ہے۔ ایک اور مسئلہ ہے تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی کا بدتمیز نرسوں اور لیب ٹیکنیشنز سے بھی غریب مریضوں کو بہت کچھ جھیلنا پڑتا ہے یہ وہ سٹاف ہے جن کا بڑا سیاسی بیوروکریٹس اور فوجی بیگ رونڈ ہے ۔ اور بڑا مسلہ صحت کے شعبے کے لیے مختص بجٹ اکثر غیر مؤثر خرچ میں چلا جاتا ہے۔ رپورٹس اور کاغذی منصوبے موجود ہیں، مگر اصل میں یہ وسائل مریض تک پہنچتے نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی دوائیں اور آلات اکثر نایاب ہوتے ہیں، جبکہ ایڈمنسٹریشن کی رپورٹ میں سب کچھ مکمل دکھایا جاتا ہے۔ نگرانی اور احتساب کی کمی کی وجہ سے یہ صورتحال مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کوئی بھی سسٹم نہیں ہے جو واقعی یہ دیکھے کہ ہسپتال میں وسائل کہاں جا رہے ہیں، اور کس حد تک مریض تک پہنچ رہے ہیں۔ اس فقدان کی وجہ سے سرکاری ہسپتال عوام کے لیے عذاب کی جگہ بن چکے ہیں، جہاں نظامی خامیاں روزانہ زندگی اور موت کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ اگر ہم آزاد کشمیر کے سرکاری ہسپتالوں کا موازنہ دیگر ترقی پذیر ممالک یا پاکستان کے بعض شہروں کے ہسپتالوں سے کریں تو فرق واضح ہے۔ دیگر جگہوں پر تربیت یافتہ عملہ، بنیادی آلات، اور ایمرجنسی سہولیات موجود ہیں، جبکہ مظفرآباد میں یہ سب محدود ہیں۔ یہ جائزہ صرف اعداد و شمار یا رپورٹس میں نہیں بلکہ حقیقی انسانی تجربے میں نظر آتا ہے۔ مریضوں کی شکایات، لواحقین کے خوفزدہ چہرے، اور ایمرجنسی میں غیر دستیاب سہولیات سب اس ناکامی کا عملی ثبوت ہیں۔ اگر یہ سب نہیں تو سرکاری ہسپتال کا فائدہ کیا ؟ یہ سوال ہر مظفرآبادی شہری کے ذہن میں بار بار آتا ہے۔ غربت اور محدود وسائل کے باوجود، لوگ سرکاری ہسپتال کا سہارا لیتے ہیں، کیونکہ یہ سب سے سستا اور زیادہ قابلِ رسائی ذریعہ ہے۔ لیکن جب بنیادی سہولیات، تربیت یافتہ عملہ، اور ایمرجنسی مینجمنٹ موجود نہیں، تو سرکاری ہسپتال کی اصل افادیت کہاں جاتی ہے؟ یہ صورتحال صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ نظامی ناکامی کی علامت ہے۔ ہر مریض جو یہاں آتا ہے، اس کے لیے یہ ایک امتحان ہے کیا اس کی زندگی محفوظ رہے گی؟ اور ہر لواحق جو یہاں آتا ہے، وہ یہ سوال بار بار دہراتا ہے کہ کیا امید کی کوئی کرن باقی ہے؟ سرکاری ہسپتالوں کی ناکامی صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ معاشرتی اور انسانی مسئلہ بھی ہے۔ مریض اور لواحقین کے ذہنی دباؤ، خوف اور مایوسی پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ غربت اور محدود وسائل کے درمیان، یہ ناکامی لوگوں کو نہ صرف بیماری بلکہ نفسیاتی دباؤ میں بھی مبتلا کرتی ہے ۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی اکڑ گردن میں آے سریے کو توڑ کر انسانیت کے دل سے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ مظفرآباد کے سرکاری ہسپتال موجودہ حالت میں انسانی زندگی کی مکمل حفاظت کرنے سے قاصر ہیں۔ بنیادی آلات کی کمی، تربیت یافتہ اسٹاف کی کمی، ایمرجنسی مینجمنٹ کی ناکامی، اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم نے مریضوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ تسلیم کرنے کا مرحلہ محض شکایت نہیں، بلکہ ایک پہلا قدم ہے نظام کو بدلنے کی جانب۔ جب تک ہم حقیقت کو نہیں دیکھتے، کوئی بھی حل مؤثر نہیں ہو سکتا عملی اور قابلِ عمل حل اب سوال یہ ہے کہ اس بحران کا حل کیا ہے؟ اور یہ حل کیسے عملی طور پر نافذ ہو سکتا ہے؟ مظفرآباد کے ہسپتالوں کے لیے چند قابلِ عمل اقدامات جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہیں بجٹ کی درست تقسیم اور شفافیت ہر سال صحت کے شعبے کے لیے مختص بجٹ کی شفاف تقسیم ضروری ہے۔ صرف کاغذی منصوبے یا رپورٹس سے کام نہیں چل سکتا۔ بجٹ کو بنیادی سہولیات، دوائیوں، اور ایمرجنسی آلات پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ ہر ہسپتال کی مالی رپورٹ عوام کے لیے دستیاب ہونی چاہیے تاکہ احتساب ممکن ہو۔تربیت یافتہ اسٹاف کی فراہمی اور تربیت ڈاکٹرز، نرسیں، اور دیگر طبی عملہ مسلسل تربیت کے بغیر معیاری خدمات فراہم نہیں کر سکتے۔ مظفرآباد میں نئے تربیت یافتہ عملے کی بھرتی اور موجودہ اسٹاف کے لیے جدید تربیتی پروگرامز متعارف کرانا لازمی ہے ورنہ ایک کنولا لگانے کے لیے ایسے ہی تین تین جگہوں پر سوئیاں چبھتی ہیں کاش یہ ہمارے ضمیر انسانیت سے خالی دل کو چبھتی تو شاہد ہمیں احساس ہوتا برحال یہ تربیت صرف تکنیکی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی اور مریض سے بہتر تعلقات پر بھی مبنی ہونی چاہیے۔ ہر ہسپتال میں ایمرجنسی کے لیے ایک مضبوط اور الگ نظام ہونا چاہیے ایمرجنسی وارڈ میں تمام ضروری آلات، دوائیں، اور انسانی وسائل موجود ہونے چاہئیں۔ ایمرجنسی صورتحال میں فوری فیصلے کرنے کے لیے ایک واضح پروٹوکول بنایا جائے، تاکہ مریض کی زندگی خطرے میں نہ پڑے۔ ہسپتال کے ہر شعبے کی نگرانی کے لیے ایک خود مختار ادارہ قائم ہونا چاہیے جو وسائل، اسٹاف کی کارکردگی، اور مریضوں کی شکایات کو مؤثر انداز میں ٹریک کرے۔ کسی بھی غیر مؤثر یا غیر انسانی رویے کے لیے فوری ایکشن ہونا چاہیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں۔ عوام کو بھی صحت کے حقوق اور سہولیات کی دستیابی کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے۔ شہریوں کی شکایات اور فیڈبیک نظام کے ذریعے ہسپتال کی بہتری میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ اصلاحات محض تکنیکی تبدیلیاں نہیں بلکہ ایک انسانی وژن کی عکاسی ہیں جب یہ اصلاحات مکمل ہوں گی، تو ہسپتال صرف بیماری کے علاج کی جگہ نہیں بلکہ ایک ایسا مرکز بن جائے گا جہاں انسانی عزت، ہمدردی، اور علاج سب یکساں طور پر فراہم ہوں۔ ایمرجنسی میں وقت سب سے قیمتی ہوتا ہے۔ مظفرآباد کے ہسپتالوں میں اگر ایک منٹ کی تاخیر بھی ہوئی تو زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اسی لیے ایمرجنسی مینجمنٹ کی تربیت، آلات، اور واضح پروٹوکول زندگی بچانے کے لیے لازمی ہیں۔ یہ عمل صرف ایک ہسپتال کے لیے نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے مثال بن سکتا ہے صرف تکنیکی مہارت کافی نہیں، بلکہ مریض اور لواحقین کے ساتھ ہمدردی، صبر، اور احترام بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اسٹاف کی تربیت میں یہ انسانی پہلو بھی شامل ہونا چاہیے تاکہ ہر مریض کو نہ صرف علاج ملے بلکہ وہ عزت اور وقار کے ساتھ اس ہسپتال سے گزرے۔ مظفرآباد کے سرکاری ہسپتال اس وقت انسانی زندگی کے لیے ناقص ہیں، لیکن تبدیلی ممکن ہے۔ یہ تبدیلی محض حکومتی اقدامات، بجٹ، یا رپورٹس سے نہیں آئے گی بلکہ حقیقی عمل، احتساب، اور عوامی شمولیت سے ممکن ہو گی ہر شہری، ہر ڈاکٹر، ہر نرس، اور ہر منتظم کو یہ شعور ہونا چاہیے کہ انسانی جان کی قدر سب سے زیادہ ہے۔ اگر ہم نے آج اقدامات نہ کیے تو کل یہی ہسپتال مزید خطرناک اور غیر مؤثر بن جائیں گے۔ لیکن اگر ہم نے صحیح قدم اٹھائے، تربیت فراہم کی، وسائل فراہم کیے، اور انسانی ہمدردی کو اولین ترجیح دی، تو مظفرآباد کے سرکاری ہسپتال دوبارہ امید کی علامت بن سکتے ہیں۔