پی ٹی آئی کے برطانیہ میں ہونے والے احتجاج کے دوران ہرزہ سرائی اور سنگین دھمکیوں پر مبنی بیان سامنے آنے کے بعد پارٹی قیادت نے متعلقہ خاتون سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا
پی ٹی آئی کے برطانیہ میں ہونے والے احتجاج کے دوران ہرزہ سرائی اور سنگین دھمکیوں پر مبنی بیان سامنے آنے کے بعد پارٹی قیادت نے متعلقہ خاتون سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا
مطلب اپنایا پھر گلے سے لگایا اور پھر واپسی کا راستہ دکھایا
ایک طرف حکومتِ پاکستان نے برطانوی حکام کو باضابطہ خط لکھ دیا تو دوسری جانب جن قوتوں کے سہارے یہ احتجاج منظم کیا گیا تھا وہی آقاؤں نے بھی ہاتھ کھینچ لئے جس کی وجہ سے اب صورتحال یہ ہے کہ جس خاتون کو استعمال کیا گیا وہ تنہا کھڑی نظر آتی ہے
اگر برطانوی قوانین کے تحت کارروائی ہوئی اور ڈی پورٹ کر کے واپس پاکستان لایا گیا تو انجام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہو
گا
قانون بالکل واضح ہے جس تنظیم یا گروہ کے پلیٹ فارم سے کوئی پروگرام یا احتجاج منعقد ہوتا ہے اس کے دوران ہونے والے ہر عمل اور ہر بیان کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے بعد میں لاتعلقی کے بیانات ذمہ داری سے فرار تو ہو سکتے ہیں حقیقت نہیں بدل سکتے
واضع رہے کہ 9 مئی کے بعد بھی لوگوں سے اسی طرح اظہار لاتعلقی کیا گیا تھا
#قصوریات