بلوچستان کا ایک جاہل وزیر گستاخی معاف / آغا نیاز مگسی
بلوچستان کا ایک جاہل وزیر
گستاخی معاف / آغا نیاز مگسی
سستی شہرت اور ناجائز مفادات حاصل کرنے کے بھی کٸی طریقے ہیں جس کے لیے سب سے پہلے اپنے ضمیر کو قتل کر کے دفن کرنا پڑتا ہے جب جس انسان کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے تو پھر اس کے لیے عزت اور ننگ و ناموس کوٸی اہمیت نہیں رکھتے ۔ بدقسمتی سے بلوچستان کی کابینہ کا ایک جاہل اور ان پڑھ وزیر جسے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا کہہ رہا ہے لیکن اس کی حرکتیں دیکھنے اور اوٹ پٹانگ باتیں سننے والے لوگ شرمندہ ضرور ہوتے ہیں ایسے شخص کو پاگل خانہ (مینٹل ہسپتال ) میں داخل کرنا چاہئے تھا کہ لیکن افسوس کہ اس کو پاگل خانے کے بجاٸے بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں داخل کرایا گیا جو کہ اس معزز ایوان کی بہت بڑی توہین ہے ۔ وہ اسمبلی کے اجلاسوں میں آٸے روز معزز ارکان اسمبلی سے الجھ کر سستی شہرت حاصل کرنے اور “شاباشی” لینے میں مصروف عمل ہے ۔ ایسے شخص جو انتہائی قابل احترام بلوچ خواتین کے سامنے جا کر عجیب گفتگو اور حرکتیں کریں انہیں اسمبلیوں میں لایا جاٸے تو یہ اس ملک اور قوم کی بدقسمتی ہے۔