اگر صرف محنت کرنے سے غربت ختم ہوتی تو کسی مزدور کے بچے بھوکے نہ سوتے، ان کے پاس ساری آسائشیں ہوتی۔ لیکن ایسا نہیں ہے، وجہ؟ تعلیم اور معاشی انصاف کے بغیر محنت صرف تھکاوٹ کماتی ہے
اگر صرف محنت کرنے سے غربت ختم ہوتی تو کسی مزدور کے بچے بھوکے نہ سوتے، ان کے پاس ساری آسائشیں ہوتی۔ لیکن ایسا نہیں ہے، وجہ؟ تعلیم اور معاشی انصاف کے بغیر محنت صرف تھکاوٹ کماتی ہے
“ظالم نظام اپنے شہریوں کو غربت میں مبتلا کیے رکھتا ہے تاکہ لوگ ہر وقت اپنی روزی روٹی کی فکر اور تلاش میں ہی مصروف رہیں اور پھر ان کے پاس اتنا وقت ہی نہ بچے کہ وہ اس ظالم نظام کے خلاف بغاوت کرنے کے بارے میں سوچ سکیں۔”
ارسطو
مجھے یہ تو پتہ نہیں کہ یہ بات ارسطو ھی کی ھے لیکن ھے سچ۔آج دیکھیں پاکستان میں چند خاندانوں نے کس طرح سارے نظام پر قبضہ کیا ھوا ھے۔25کروڑ سے زائد انسان چند ہزار کے ہاتھوں جدید غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یہ اشرافیہ اور نوکر شاہی ملکر سارے ملک کی دولت پر قابض ھیں۔لوٹ مار میں برابر کے حصے دار ھیں۔جب پکڑے جاتے ھیں قانون ہی تبدیل کردیتے ھیں۔اپنی مرضی کے قوانین بنا لیتے ھیں۔سارا سسٹم ایسا ترتیب دیا ھے کہ نسل درنسل انکو ھی ووٹ دیکر انکو حکومت میں لاؤاور جو بچ جاہیں وہ اپوزیشن میں بیٹھ کر مزے لیں اور پھر چند سال بعد وہ حکومت میں اور حکومت اپوزیشن میں بس غریبوں کی غربت کو چکر دے کر رکھتے ھیں۔تاکہ وہ سکھ کا سانس نہ لیں۔اگر سکھ کا سانس لیں گے تو روٹی۔پانی۔بجلی کے بل کے علاوہ کچھ سوچیں گے۔جب سوچیں گے تو کچھ نیا ھوگا۔فی الحال موجودہ حالات میں کوئی بڑی تبدیلی کی خبر نظر نہیں آتی لیکن کسی بھی وقت کچھ ھوسکتا ھے۔دراصل ھم ایک قوم نہیں ھیں۔ھم لسانی۔قومیت۔علاقائی ٹکڑوں میں بٹ چکے ھیں۔ھم کسی قومی ایشو پر بھی ایک قوم نہیں بنتے بلکہ اپنی اپنی جماعت کا جھںڈا لے کر نکلتے ھیں۔اور اپنے اینے لیڈر کی بات مانتے ھیں۔جس سے معلوم ھوتا ھے کہ انقلاب نام کی چیز صرف تقریروں۔نعروں ۔اور سوشل میڈیا تک محدودھے۔بڑی تبدیلی لانے کے لیے بڑی قربانی۔اور بڑے پن کا مظاھرہ کرنا پڑتا ھے۔حال ھی میں مشرقی پاکستان میں غداروں کے خلاف جو انقلاب آیا ھے وہ قومی جھنڈے کے نیچے آیا ھے۔ھم بھی اگر انقلاب لانا چاھتے ھیں اور اس جدید غلامی سے جان چھڑانا چاھتے ھیں تو یہ پارٹی بازی چھوڑ کر ایک قومی سبز ہلالی پرچم کے نیچے اکھٹے ھوجاھیں۔بصورت دیگر پٹواری۔یوتھیے۔جیالے۔لیبکی۔خدام۔جماعتی۔وغیرہ کی تقسیم سے کبھی تبدیلی نہیں ائے گی۔کیونکہ جب ایک کو مار پڑ رھی ھوتی ھے تو دوسرے کہتے ھیں ٹھیک ھے یہ اسی لائق ھے۔تو ضروری ہے کہ ھم اپنی قسمت بدلنے کے لیے اشرافیہ سے جان چھڑانے کے لیے سسٹم کو تبدیل کرنے کے لیے اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے۔انصاف کے حصول کے لیے۔تعلیم صحت کی یکساں سہولیات کے لیے۔قومی پرچم لے کر نکلو اور پھر دیکھو کیا ھوتا ھے۔
دل کی بات
خ ح شہزاد