October 26, 2026

چاند بھی بڑا، فیصلہ بھی بڑا –

IMG-20250719-WA0158(52)

چاند بھی بڑا، فیصلہ بھی بڑا –

رات کے آسمان پر پھیلی چاندنی ہمیشہ سے انسان کی تہذیب، اس کی سوچ اور اس کی سیاست کے ساتھ جڑی رہی ہے۔ مگر 2025 کا آخری سپر مون محض ایک فلکیاتی منظر نہیں تھا— یہ پاکستان کے سیاسی و دفاعی افق پر اُبھرتے ایک نئے دور کا استعارہ بھی لگ رہا تھا۔ جس طرح آسمان پر چاند معمول سے بڑا اور روشن دکھائی دیا، ویسے ہی زمین پر پاکستان کا ایک فیصلہ معمول سے بڑا، غیر معمولی اور تاریخی طور پر روشن نظر آیا: جنرل عاصم منیر کو ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) مقرر کرنا۔

یہ محض ایک عہدہ نہیں — پاکستان کے دفاعی ढانچے کی نئی تشکیل ہے۔
اور یہ سپر مون کی رات… جیسے پوری فضا میں ایک علامتی کہانی رقم ہوگئی ہو۔

—

جب چاند قریب آکر پورا آسمان گھیر لیتا ہے، تو لوگ صرف روشنی نہیں دیکھتے— وہ فاصلے کم ہوتے محسوس کرتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی اس تقرری نے بھی کیا ہے۔ پاکستان کے دفاعی نظام میں فوج، بحریہ اور فضائیہ کو ایک متحد کمانڈ میں لانے کا فیصلہ برسوں سے زیرِ بحث تھا، مگر عمل کی وہ روشنی نہیں پھوٹ رہی تھی جس پر قوم یقین کر سکے۔

اب یہ اعتماد بحال ہوا ہے۔
یہ فیصلہ صرف ایک فرد کی نامزدگی نہیں، یہ اداروں کے درمیان فاصلے کم کرنے کی طرف سب سے مضبوط قدم ہے۔

—

بیرونی دنیا میں واویلا ضرور سنائی دیا— کچھ حلقے پریشان، کچھ نقاد بے چین۔ مگر یہ لوگ اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں کہ جب قوم داخلی طور پر متحد ہوتی ہے، تو خارجی بے چینی خود بخود بڑھ جایا کرتی ہے۔ ہر مضبوط ملک کے دفاعی ڈھانچے میں ایک مرکزی کمان موجود ہوتی ہے۔ امریکہ، چین، روس— سب میں ہے۔ پاکستان میں دیر سے آیا، مگر درست وقت پر آیا۔

اس تقرری پر حکومت کی ہمت اور بصیرت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
یہ فیصلے وہی کرتے ہیں جنہیں اپنی ترجیحات کا یقین ہو:
ملکی استحکام، پیشہ ورانہ دفاع، اور ادارہ جاتی ہم آہنگی۔

—

سپر مون کی رات لوگ چاند کو تصویروں میں قید کرتے رہے، اور ملک کے اندر ایک فیصلہ تاریخ میں قید ہوگیا۔
ایک طرف آسمان کا سب سے روشن منظر…
دوسری طرف پاکستانی دفاع کا سب سے مضبوط قدم…
دونوں جیسے ایک ہی صفحے پر لکھے ہوں۔

مگر سب سے دل چسپ بات یہ ہے کہ سپر مون کی روشنی وقتی تھی—
مگر CDF کی ذمہ داری پانچ برسوں کی مسلسل روشنی ہے۔
یہ روشنی عسکری نظم و ضبط، مشترکہ آپریشنز، اور علاقائی چیلنجوں کے مقابل ایک متحد حکمتِ عملی کی شکل میں سامنے آئے گی۔

—

اس کالم کا مقصد یہ نہیں کہ سیاست کو چاند کے ساتھ جوڑ دیا جائے—
مقصد صرف یہ ہے کہ بعض فیصلوں کی عظمت، بعض مناظر کے ساتھ خود بخود جڑ جاتی ہے۔
سپر مون سال میں ایک بار آتا ہے۔
ایسے فیصلے دہائیوں میں ایک بار ہوتے ہیں۔

آسمان پر چاند کے بڑھ جانے سے کسی کا نقصان نہیں ہوتا—
اور زمین پر مضبوط فیصلوں سے قوم کا فائدہ ہی فائدہ ہے۔

پاکستان آج ایک نئے دفاعی دور کے دہانے پر کھڑا ہے۔
ایک روشن آسمان…
ایک متحد پاکستان…
اور ایک فیصلہ جس کا وزن آنے والے برسوں میں مزید واضح ہوگا۔

سپر مون اپنی روشنی لے کر واپس چلا جائے گا—
مگر یہ فیصلہ پاکستان کے افق پر بہت دیر تک روشن رہے گا۔

@@@@@@@@@@@@@