October 26, 2026

*احمد فراز : جہد مسلسل سے کامیابی کی منزل تک، دبئی میں پاکستانی کاروباری کامیابی کی روشن مثال

IMG-20261025-WA0242

*احمد فراز : جہد مسلسل سے کامیابی کی منزل تک، دبئی میں پاکستانی کاروباری کامیابی کی روشن مثال*

دبئی/متحدہ عرب امارات (خصوصی رپورٹ، نثار بیٹنی)

کچھ لوگ زندگی میں کامیابی کو محض ایک منزل سمجھتے ہیں جبکہ کچھ اسے ایک مسلسل سفر کا نام دیتے ہیں۔ معروف پاکستانی کاروباری شخصیت احمد فراز کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے کامیابی کو کسی مختصر راستے، اتفاق یا وقتی موقع کا نتیجہ نہیں بننے دیا بلکہ اسے برسوں کی محنت، مستقل مزاجی، دیانت داری، صبر اور جہدِ مسلسل سے تعمیر کیا، ان کی داستان جدجہد دراصل اس یقین کی داستان ہے کہ اگر انسان اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ہو، حلال رزق کے حصول کو اپنا نصب العین بنائے اور مشکلات کے سامنے ہمت نہ ہارے تو وقت ایک دن اس کی محنت کو کامیابی کے عنوان سے ضرور لکھتا ہے،
متحدہ عرب امارات میں گزشتہ تقریبا تین دہائیوں سے کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ *پلگ اینڈ پوائنٹ* یو اے ای کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد فراز آج ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے طور پر اپنی شناخت قائم کرچکے ہیں، ان کی کامیابی صرف ایک کاروبار کے پھیلاؤ کی کہانی نہیں بلکہ ایک خاندانی کاروباری روایت کو نئی نسل کے جذبے، محنت اور جدید کاروباری تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھانے کی داستان بھی ہے،
احمد فراز 1998ء میں دبئی آئے اور اپنے والد اور بڑے بھائیوں کی قائم کردہ کاروباری روایت کا حصہ بن گئے۔ اس سے قبل ان کے والد نے دبئی میں کاروبار کی بنیاد رکھی تھی۔ یوں احمد فراز نے اپنے والد کے شروع کیے ہوئے سفر کو ناصرف جاری رکھا بلکہ اپنی محنت، تجربے اور جدید سوچ کے ذریعے اسے نئی وسعتیں دینے میں اپنا کردار ادا کیا،

آج *پلگ اینڈ پوائنٹ* کے دبئی اور شارجہ میں شورومز قائم ہیں، جہاں سام سنگ، ایل جی، بوش، گری اور دیگر معروف عالمی برانڈز کی الیکٹرونک مصنوعات صارفین کو فراہم کی جاتی ہیں۔ کمپنی کی کاروباری پالیسی میں معیار، مناسب قیمت، مصنوعات کی دستیابی اور صارفین کے اعتماد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور یہی عوامل گزشتہ چار دہائیوں سے اس کاروباری سفر کی بنیاد بنے ہوئے ہیں۔

*کامیابی کا راز: سر ٹھنڈا، زبان میٹھی اور پاؤں گرم*

احمد فراز اپنی کامیابی کو کسی پیچیدہ فارمولے سے تعبیر نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک کاروبار میں ترقی کے لیے چند بنیادی اصول کافی ہیں، لیکن ان پر مستقل مزاجی سے عمل کرنا ضروری ہے۔

وہ اپنے کاروباری تجربے کی بنیاد پر تین باتوں کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں: سر ٹھنڈا، زبان میٹھی اور پاؤں گرم۔

ان کے مطابق کاروبار میں سب سے پہلے انسان کو اپنا سر ٹھنڈا رکھنا چاہیے۔ غصہ، جلد بازی اور ہر معاملے میں بحث و تکرار کاروبار کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہے۔ دوسرا اصول زبان کی مٹھاس ہے۔ خوش اخلاقی اور اچھا رویہ ایسا سرمایہ ہے جو گاہک کو ایک مرتبہ نہیں بلکہ بار بار واپس لاتا ہے۔ تیسرا اصول پاؤں گرم رکھنے کا ہے، یعنی انسان صبح سویرے اٹھے، اپنے کاروبار کو وقت دے، مسلسل محنت کرے اور کام سے جی نہ چرائے۔

احمد فراز کے مطابق اگر انسان کے پاؤں گرم رہیں گے تو کاروبار بھی گرم رہے گا؛ لیکن سستی، کاہلی اور کام سے دوری کاروبار کو بھی ٹھنڈا کر دیتی ہے۔

یہ تین مختصر جملے بظاہر سادہ ہیں، مگر ان کے پیچھے احمد فراز کی تقریبا تین دہائیوں پر محیط عملی زندگی کا تجربہ موجود ہے۔

*چار دہائیوں کی خاندانی روایت*

احمد فراز کے مطابق ان کے کاروبار کی آج کی کامیابی دراصل ان کے والد اور بڑے بھائیوں کی محنت کا تسلسل ہے۔ دبئی میں قائم ہونے والا یہ کاروبار وقت کے ساتھ مختلف مراحل سے گزرا اور بالاخر چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ایک مستحکم کاروباری سفر میں تبدیل ہوگیا۔

2024ء میں کمپنی نے اپنی 40ویں سالگرہ بھی منائی، جس میں کمپنی کے اسٹاف کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔ اس موقع پر کیک کاٹا گیا اور کمپنی کی شرٹس بھی ڈسپلے کی گئیں۔ یہ تقریب صرف ایک کاروباری ادارے کی سالگرہ نہیں تھی بلکہ چار دہائیوں کی محنت، اعتماد اور تعلقات کے سفر کی یادگار تھی۔

احمد فراز کے لیے اس سفر میں سب سے اہم چیز صرف کاروباری حجم یا فروخت نہیں بلکہ وہ اعتماد ہے جو صارفین نے برسوں میں کمپنی پر قائم کیا۔

*صارف، کاروبار کا اصل سرمایہ*

احمد فراز کا کہنا ہے کہ کمپنی کی اصل کامیابی اس کے صارفین کا اعتماد ہے۔ ان کے مطابق معیار اور مناسب قیمت کے ساتھ اگر گاہک کے ساتھ عزت اور خوش اخلاقی کا برتاؤ کیا جائے تو کاروبار میں مضبوط اور دیرپا تعلق قائم ہوتا ہے۔

ان کے نزدیک شوروم میں موجود اسٹاف محض ملازمین نہیں بلکہ کمپنی کا چہرہ ہیں۔ اگر اسٹاف خوش اخلاق، مہذب اور صارفین کے ساتھ احترام سے پیش آئے تو گاہک مطمئن ہوکر واپس جاتا ہے اور دوبارہ بھی آتا ہے، لیکن نامناسب رویہ ناصرف ایک گاہک بلکہ کمپنی کی مجموعی ساکھ کو متاثر کرسکتا ہے۔

اسی سوچ کے تحت احمد فراز اپنی کمپنی کے 200 سے زائد ملازمین کو محض ملازم نہیں سمجھتے بلکہ انہیں کمپنی اور *پلگ اینڈ پوائینٹ* خاندان کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

ان کے مطابق 200 سے زائد ملازمین کا مطلب صرف 200 سے زائد افراد نہیں بلکہ 200 سے زائد خاندان ہیں۔ ان خاندانوں کی خوشیاں، دعائیں اور نیک تمنائیں بھی کمپنی کے سفر میں شامل ہیں۔ یہی احساس وابستگی ایک ادارے کو محض کاروباری مرکز کے بجائے ایک بڑے انسانی خاندان میں تبدیل کردیتا ہے۔

*سوشل میڈیا: کاروبار کو نئی دنیا سے جوڑنے کا ذریعہ*

احمد فراز جدید دور میں سوشل میڈیا کو بھی کاروباری ترقی کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق آج کاروبار صرف شوروم کی چار دیواری اور ڈسپلے تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے مصنوعات کو ہزاروں لوگوں تک بیک وقت پہنچایا جاسکتا ہے۔

وہ خود بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی مصنوعات اور کاروباری سرگرمیوں کو متعارف کراتے ہیں، جس کے نتیجے میں صارفین کی جانب سے لائکس، ردعمل اور آرڈرز موصول ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک سوشل میڈیا کا مثبت، تعمیری اور کاروباری استعمال نئی مارکیٹوں تک رسائی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

*کاروباری شخصیت کے ساتھ ایک ادبی مزاج*

احمد فراز کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ کاروباری مصروفیات کے باوجود ان کا دل ادب اور شعر و شاعری کی دنیا سے جڑا ہوا ہے۔

یہ نسبتا کم دکھائی دینے والا امتزاج ان کی شخصیت کو مزید دلچسپ بناتا ہے۔ ایک طرف شورومز کی گہماگہمی، عالمی برانڈز، کاروباری فیصلے، صارفین اور مارکیٹ کے تقاضے ہیں، تو دوسری طرف شعر و ادب کی وہ دنیا ہے جہاں انسان کچھ دیر کے لیے حساب کتاب، منافع اور کاروباری مصروفیات سے نکل کر الفاظ، احساسات اور تخیل کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔

شاید یہی ادبی وابستگی ان کی شخصیت میں ایک خاص ٹھہراؤ بھی پیدا کرتی ہے۔ کاروبار انسان کو فیصلوں کی دنیا سکھاتا ہے، جبکہ ادب اسے احساس کی دنیا سے جوڑے رکھتا ہے۔ احمد فراز کے مزاج میں یہ دونوں رنگ ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

ان کے لیے شعر و شاعری محض شوق نہیں بلکہ زندگی کے مختلف تجربات کو محسوس کرنے اور انہیں ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کا وسیلہ بھی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جس شخص نے کاروبار میں سر ٹھنڈا، زبان میٹھی اور پاؤں گرم رکھنے کا اصول اپنایا ہو، اس کے اندر الفاظ اور احساسات کے لیے جگہ ہونا بھی فطری امر ہے۔

*محنت کی وہ داستان جو شوروم کی دیواروں سے باہر بھی سنائی دیتی ہے*

احمد فراز کی تقریباً 27، 28 سالہ کاروباری زندگی کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو شاید وہ جملہ ہوگا: مسلسل چلتے رہنے کا نام کامیابی ہے۔

پردیس میں قدم رکھنا آسان ہوسکتا ہے، لیکن پردیس میں اپنی شناخت بنانا، کاروبار کو کئی دہائیوں تک کامیابی سے چلانا اور صارفین کا اعتماد برقرار رکھنا ایک مسلسل امتحان ہوتا ہے۔ اس امتحان میں کبھی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سامنے آتے ہیں، کبھی کاروباری مشکلات، کبھی نئے مقابلے اور کبھی بدلتے ہوئے صارفین کے رجحانات، لیکن کامیاب لوگ مشکلات کو اختتام نہیں سمجھتے وہ انہیں اگلے مرحلے کی تیاری سمجھتے ہیں۔

احمد فراز کی داستان بھی اسی مسلسل سفر کی عکاس ہے۔ ایک قدم کے بعد دوسرا قدم، ایک دن کے بعد دوسرا دن اور ایک مشکل کے بعد اگلی منزل، یوں وقت گزرتا گیا اور محنت ایک ایسے کاروباری سفر میں تبدیل ہوگئی جس کی بنیاد آج بھی انہی اصولوں پر قائم ہے جنہیں احمد فراز اپنی کامیابی کا راز قرار دیتے ہیں۔

*کامیابی میں دیانت اور نیت کا مقام*

احمد فراز اپنی کامیابی کا کریڈٹ صرف کاروباری حکمتِ عملی کو نہیں دیتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت، والدین کی دعاؤں، بھائیوں کی محنت اور اپنی ٹیم کی کوششوں کو بھی اس کامیابی کا حصہ سمجھتے ہیں۔
ان کے نزدیک انسان کی نیت صاف ہونی چاہیے اور اسے حلال روزی کے حصول کے لیے ایمانداری اور محنت سے کوشش کرنی چاہیے۔ ان کا یقین ہے کہ جب نیت درست ہو اور انسان حلال رزق کے لیے اخلاص کے ساتھ جدوجہد کرے تو اللہ تعالی اس کی کوششوں میں برکت عطا فرماتا ہے۔
یہی سوچ شاید ان کے کاروباری سفر کی سب سے مضبوط بنیاد ہے کہ کامیابی صرف اعداد و شمار کا نام نہیں، اصل کامیابی وہ ہے جس میں رزق کے ساتھ عزت، کاروبار کے ساتھ اعتماد اور ترقی کے ساتھ انسانیت بھی باقی رہے۔

*پاکستانیوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال*
احمد فراز کی کامیابی بالخصوص بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔ ان کا سفر اس بات کا عملی اظہار ہے کہ پاکستانی صرف ملازمت کے حصول تک محدود نہیں بلکہ اپنی صلاحیت، محنت، کاروباری بصیرت اور مستقل مزاجی کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں کامیاب کاروبار قائم کرسکتے ہیں۔

آج دبئی اور شارجہ میں *پلگ اینڈ پوائنٹ* کی موجودگی صرف ایک کاروباری ادارے کی شناخت نہیں بلکہ اس خاندانی محنت کی علامت ہے جو 1984ء میں شروع ہوئی اور وقت کے ساتھ نئی نسل کے ہاتھوں مزید آگے بڑھی۔

احمد فراز کی کہانی دراصل ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے کامیابی کا انتظار نہیں کیا بلکہ اسے اپنی محنت سے تخلیق کیا۔ انہوں نے اپنے والد کے شروع کیے ہوئے سفر کو اپنی ذمہ داری سمجھا، اسے وقت دیا، مشکلات کا سامنا کیا اور مسلسل آگے بڑھتے رہے۔

شاید اسی لیے ان کی کامیابی کو محض فرش سے عرش تک کا سفر کہنا کافی نہیں، یہ دراصل ایک نسل کی بنیاد، دوسری نسل کی محنت اور ہزاروں صارفین کے اعتماد سے تعمیر ہونے والی کامیابی کی داستان ہے۔

اور اس داستان کا خلاصہ اگر احمد فراز کے اپنے تین اصولوں میں کیا جائے تو شاید یوں کہا جاسکتا ہے،

سر ٹھنڈا رکھیے، زبان میٹھی رکھیے اور پاؤں گرم رکھیے، کیونکہ کامیابی ان ہی قدموں کے ساتھ چلتی ہے جو رکنے کے بجائے مسلسل آگے بڑھتے رہیں