October 26, 2026

ریاست مضبوط ہو تو قوم محفوظ ہوتی ہے- پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک بار پھر وہی

IMG-20250923-WA0272(53)

ریاست مضبوط ہو تو قوم محفوظ ہوتی ہے-

پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک بار پھر وہی بحث زوروں پر ہے— حکومت اور فوج کے بڑھتے اختیارات۔ تنقید کرنے والے اسے اندھیری گلی ثابت کرنے پر تُلے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ گلی اندھیری نہیں، ایک منظم اور روشن شاہراہ ہے جس پر قدم رکھ کر ہی پاکستان کو آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔

ہماری قومی بدقسمتی یہ رہی کہ ہر ادارے کی مضبوطی کو شک کی نظر سے دیکھا گیا، اور ہر فیصلہ ساز کو طاقت کی بھوک کا طعنہ دیا گیا۔ مگر کیا ہم نے کبھی اپنے اردگرد کے ممالک کا جائزہ لیا؟ کیا ہم نے سوچا کہ عالمی سیاست کن قدموں پر کھڑی ہے؟ دنیا اب طاقت کے شور میں فیصلے سنتی ہے، اور کمزور ریاستوں کی آوازیں صرف ہوا میں بکھر جاتی ہیں۔

ایسے دور میں اگر پاکستان اپنی فوجی اور حکومتی بااختیاری میں اضافہ کرتا ہے، مضبوط نظم و ضبط قائم کرتا ہے، اور ریاستی مشینری کو ایک سمت میں کھڑا کرتا ہے— تو یہ کمزوری کا نہیں، حکمتِ عملی کا اعلان ہے۔

—

فوج کے اختیارات بڑھنے پر اعتراض کرنے والوں کو شاید یہ یاد نہیں کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں پاکستان کو کس قسم کی جنگوں اور نظریاتی حملوں کا سامنا رہا۔ ملک کے اندر دہشت گردی کی نئی شکلیں، سرحدوں پر مسلسل دباؤ، بیرونی پروپیگنڈا، بین الاقوامی دباؤ، اور سیاسی انتشار— یہ سب ایک عام انتظامی ڈھانچہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

ایسے میں، ریاست کو اپنے طاقتور بازو کی ضرورت تھی۔
اور وہ بازو اگر مضبوط نہ ہو تو ریاست لڑکھڑا جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج فوج اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی کو تنقید نہیں، ادراک کی ضرورت ہے۔

—

تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ اختیارات بڑھ رہے ہیں۔
میں کہتا ہوں— بالکل بڑھ رہے ہیں، اور بڑھنے چاہئیں۔

کیا ایک ایسا ملک جو چار اطراف سے سیاسی، اقتصادی اور عسکری دباؤ میں گھرا ہو، فیصلہ سازی کو کمزور کرے؟
کیا وہ اپنے اداروں کو غیر مؤثر چھوڑ دے؟
یا اپنی سلامتی کو غیر یقینی کے ہاتھوں گروی رکھ دے؟

پاکستان کو ایک ایسے دفاعی و حکومتی ماڈل کی ضرورت ہے جو تیز رفتار فیصلے کر سکے، جو داخلی و خارجی محاذ پر یکساں توجہ دے سکے، اور جو انتشار سے زیادہ اتحاد کو ترجیح دے۔
آج یہی ماڈل تشکیل پا رہا ہے۔

—

یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ عام پاکستانی کے لیے استحکام سب سے بڑی نعمت ہے۔
لوگوں کو نہ آئینی و قانونی پیچیدگیوں سے غرض ہوتی ہے، نہ وہ طاقت کی تقسیم کے فلسفے سمجھتے ہیں۔
وہ صرف امن، پیٹ کی روٹی، اور محفوظ مستقبل چاہتے ہیں۔

اگر بڑھتے ہوئے ریاستی اختیارات انہیں یہی تین چیزیں دے سکتے ہیں—
تو پھر اس پر بحث محض دانشورانہ مشغلہ ہے، حقیقت نہیں۔

—

دنیا خود بدل رہی ہے۔
عالمی طاقتیں اپنے عسکری ماڈلز کو اپ گریڈ کر رہی ہیں، حکومتیں فیصلہ سازی کو مجتمع کر رہی ہیں، اور ریاستیں داخلی انتشار کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑ رہیں۔
تو پھر پاکستان ایسا کیوں نہ کرے؟

کیا ہم ہمیشہ غیر یقینی میں جیتے رہیں؟
کیا ہم ہمیشہ باہر والوں کے بیانیے پر رقص کرتے رہیں؟
یا ہم اپنی ریاست کو ایک ایسی قوت میں بدل دیں جو دوستوں کے لیے قابلِ بھروسہ اور دشمنوں کے لیے قابلِ فکر ہو؟

—

حکومت اور فوج کے بڑھتے اختیارات سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں—
کیونکہ یہ اختیارات کسی فرد کی جیب میں نہیں، ریاست کے خزانۂ قوت میں جمع ہو رہے ہیں۔

یہ طاقت اگر قوم کے مفاد میں استعمال ہو تو یہی ریاست اپنے شہریوں کی محافظ بنتی ہے۔
اور اگر تاریخ ہمیں کچھ سکھاتی ہے تو وہ یہی ہے کہ:
کمزور ریاستیں ختم ہو جاتی ہیں— مضبوط ریاستیں باقی رہتی ہیں۔

آج پاکستان نے مضبوطی کا راستہ چنا ہے۔
یہ فیصلہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور قوم کی حفاظت کا ضامن بھی۔

اختیارات بڑھے ہیں— مگر قوم بھی پہلے سے زیادہ محفوظ ہے۔

ریاست مضبوط ہو…
تو قوم ہمیشہ محفوظ ہوتی ہے۔

@@@@@@@@@@@@@