آمد مصطفی ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیری کیا بات ہے خصوصی تحریر : راجہ نور الہی عاطف
آمد مصطفی ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیری کیا بات ہے
خصوصی تحریر : راجہ نور الہی عاطف
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جہاں رب العالمین نے خاتم النبیین کی صفت سے نوازا ہے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر بے شمار اوصاف حمیدہ بھی پیدا فرما دیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء کرام رضوان اللہ تعالی ا اجمعین کے سردار بنا کر مبعوث فرمائے گئے اس لیے تمام انبیاء کرام رضوان اللہ تعالی ا اجمعین کے اوصاف و کمالات بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر یکجا کر دیے گئے۔ بقول شاعر ۔
حسن یوسف، دم عیسی ا، ید بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند ،تو تنہا داری
اللہ تبارک و تعالی ا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمت دو عالم بنا کر بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری سے کفر و شرک کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھٹ گئے، حق کا بول بالا ہوا اور باطل نیست و نابود ہوا ۔ اس وقت دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں جہاں جشن میلاد مصطفی ا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہ منایا جاتا ہو تمام عالم اسلام میں اسے بڑے جوش و جذبے اور عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات والا صفات منبع سرچشمہ ء رشد و ہدایت تھی ۔ یہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فصاحت و بلاغت کا نتیجہ تھا کہ دین اسلام ترقی کے زینے طے کرتا گیا ۔
لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق اور حسن سلوک کو دیکھ کر دین اسلام کو جوق در جوق قبول کرنے لگے ۔ یہ اللہ تعالی ا کا عطیہ تھا کہ زبان نبوت کو پاکیزگی اور شائستگی کے ساتھ فصاحت و بلاغت کے تمام اعلی ا اوصاف سے نوازا ، فخر موجودات سیدنا حضرت محمد مصطفی ا، احمد مجتبی ا، صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت طیبہ کے اعلی ا اوصاف کا اعتراف غیر مسلموں نے بھی کیا ہے ۔ جارج برنارڈ شاہ کے مطابق “میں نے ہمیشہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منصب کو احترام کے ساتھ دیکھا ہے اس کے اندر حیرت انگیز زندگی ہے دنیا میں اگر کوئی مذہب باقی رہے گا تو وہ اسلام ہے ” گرو نانک کے مطابق “انسان کو دائمی پریشانی اس لیے ہو رہی ہے کہ اس نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احترام چھوڑ دیا ہے ”
پنڈت جواہر لال نہرو کے مطابق عہد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عوام ایسی زبردست طاقت اور ایسی عجیب و غریب زندگی کے مالک تھے کہ بڑے بڑے حکمرانوں کی افواج بھی مقابلہ کی تاب نہ لا سکتی تھیں”
برطانیہ کے ایک مورخ جون ڈبون پورٹ اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ دنیا کی تاریخ کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ مخالفین کو سرعام قتل کیا گیا لیکن یہ شرف مسلمانوں کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ انہوں نے خونریزی نہیں کی۔ یورپ کے معروف محقق میجر ارتھ گلشن مورنڈ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا وہ لکھتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم بلا شبہ اپنے مقدس زمانہ کی ارواح طیبہ میں سے تھے وہ صرف مقتدر رہنما ہی نہ تھے بلکہ تخلیق دنیا سے اس وقت تک کے جتنے صادق سے صادق اور مخلص سے مخلص پیغمبر آئے وہ سب میں ممتاز مقام رکھتے ہیں ۔ ہسٹری اف اسلامک پیس کے مصنف مسٹر وائل لکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو ایسے مذہب کے شیرازہ میں منسلک کر دیا جس میں صرف خدائے واحد کی پرستش اور ابدی نجات کی تعلیم تھی اور مکمل شریعت سے بہرہ ور کیا اور اس قانون کا عامل بنا دیا جو ہر زمانہ میں یکساں انصاف کے ساتھ نافذ و رائج ہو سکتا ہے ۔
کی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں