“خاموشی کے سیل میں گونجتی صدائیں”
“خاموشی کے سیل میں گونجتی صدائیں”
پاکستان کی سیاست میں اختلاف اپنی جگہ، مگر ایک انسانی معاملے پر زبان بند رکھ دینا — یہ وہ رویّہ ہے جو نہ جمہوریت کا ہے، نہ انسانیت کا۔ عمران خان سے اختلاف کیجئے، ان کی پالیسیاں تنقید کے قابل سمجھئے، مگر اُن کی بنیادی انسانی صورتحال پر سوال اٹھانا جرم کب سے ہو گیا؟
عمران خان کے بیٹے کی آواز، جو پردیس سے بلند ہوئی ہے، کوئی سیاسی بیان نہیں… ایک بیٹے کی وہ لرزتی پکار ہے جو اپنے باپ کے ثبوتِ زندگی کا سوال پوچھ رہی ہے۔ یہ سوال محض ایک گھرانے کی بے چینی نہیں — یہ پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا سوال ہے۔
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ عمران خان “بالکل ٹھیک” ہیں۔ اگر وہ ٹھیک ہیں تو پھر تصویر کیوں نہیں؟ ملاقات کیوں نہیں؟ اہلِ خانہ کو “باپ کی آواز” تک سننے کی اجازت کیوں نہیں؟ جمہوریت میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ اس قدر رازداری… یہ کیسا نظام ہے جو اپنے سب سے بڑے مخالف کے وجود تک کو خبر بنا کر رکھتا ہے؟
بعض حلقے اسے افواہ کہتے ہیں، مگر افواہیں وہاں جنم لیتی ہیں جہاں سچ چھپایا جاتا ہے۔ ایک سیاسی رہنما جو تین بار منتخب وزیراعظم رہا، جس کی مقبولیت آج بھی جلسوں کی گونج میں دھڑکتی ہے، اسے اگر واقعی تنہائی کے “ڈیتھ سیل” میں رکھا جا رہا ہے تو یہ صرف PTI کا مسئلہ نہیں — پاکستان کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔
PTI کے کارکن آج سڑکوں پر نہیں، وہ دلوں میں بے چینی لیے گھروں میں بیٹھے ہیں۔ ان کی خاموشی احتجاج سے کم نہیں۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ ایک ایسے لیڈر کو، جو کروڑوں دلوں پر اثر رکھتا ہے، کس خوف کی وجہ سے قید کی دیواروں کے پیچھے اس حد تک چھپا دیا گیا ہے؟
عمران خان کے چاہنے والے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر ریاست کو یقین ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے تو ایک ملاقات، ایک تصویر، ایک مختصر ویڈیو تک میں کیا قباحت ہے؟ مضبوط حکومتیں اپنے مخالفین سے خوفزدہ نہیں ہوتیں… کمزور حکومتیں ہوتی ہیں۔
ایک خاتون صحافی کی حیثیت سے میں یہ لکھ رہی ہوں کہ لیڈر مخالف ہو سکتا ہے، دشمن نہیں۔ اس ملک کا آئین کسی بھی شخص کو “غیر انسانی، غیر شفاف اور بلا رسائی قید” کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ اصول صرف عمران خان کیلئے نہیں — ہر پاکستانی کیلئے ہونا چاہیے۔
آج PTI کی حمایت اس لیے ضروری ہے کہ معاملہ پارٹی کا نہیں، انسان کا ہے۔ سیاست سے اوپر اٹھ کر سوال یہی ہے:
ایک بیٹا اپنے باپ کی خیریت پوچھ رہا ہے… اور ہم سب خاموش کیوں ہیں؟
یہ کالم کسی سیاسی محبت سے نہیں لکھا گیا — یہ انسانیت کی وکالت ہے، انصاف کے حق میں کھڑی ایک آواز ہے۔ اگر عمران خان کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے، تو پھر کل یہ کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
اور یہ وہ پاکستان نہیں جس کیلئے ہم نے ووٹ ڈالا تھا… یہ وہ پاکستان ہے جس کے خلاف اب قلم اٹھانا بھی فرض ہے۔
@@@@@@@@@@@@