رئیس! وہ کتے کا بچہ گھر سے چلا گیا ہے، جلدی سے آجاؤ!”
“رئیس! وہ کتے کا بچہ گھر سے چلا گیا ہے، جلدی سے آجاؤ!”
یہ وہ الفاظ تھے جن کے ذریعے آمنہ نے 23 سالہ رئیس کو اپنے گھر بلایا۔ مگر اسے کیا معلوم تھا کہ جس گھر میں وہ پہلے بھی کئی مرتبہ آچکا ہے، اس بار وہاں سے زندہ واپس نہیں جا سکے گا۔
گرگٹ کی طرح بدلتے بیانات اور مگرمچھ کے آنسوؤں کے پیچھے چھپی ایک دردناک کہانی!
2023 میں لاہور میں پیش آنے والے ڈیلیوری بوائے رئیس کے قتل کے مقدمے میں اس کے بھائی نے ایسے انکشافات کیے ہیں جو اس واقعے کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ رئیس نو بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا اور گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹانے کے لیے پارٹ ٹائم ڈیلیوری بوائے کا کام کرتا تھا۔ اسی دوران اس کی ملاقات آمنہ سے ہوئی اور دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوگئے۔
رئیس کے بھائی کے مطابق، بعد میں سامنے آنے والے تفتیشی شواہد سے معلوم ہوا کہ رئیس اور آمنہ کے درمیان مبینہ طور پر وقوعے سے سات ماہ قبل ہی رابطہ شروع ہوچکا تھا۔ ان کے بقول، دونوں کی ملاقاتیں زیادہ تر آمنہ کے گھر پر ہوتی تھیں اور رئیس کو آمنہ خود بلاتی تھی۔ اگرچہ رئیس کی اپنی غلطی بھی تھی کہ وہ اس تعلق میں آگے بڑھتا رہا، لیکن گھر والوں کے مطابق اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ معاملہ اس قدر سنگین رخ اختیار کرلے گا۔
وقوعے سے صرف ایک ہفتہ پہلے کیا ہوا تھا؟
رئیس کے بھائی نے بتایا کہ قتل سے تقریباً ایک ہفتہ قبل رئیس آمنہ سے ملنے اس کے گھر گیا ہوا تھا۔ دونوں بیڈروم میں موجود تھے کہ اچانک آمنہ کا سسر گھر پہنچ گیا اور دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔ آمنہ نے دروازہ کھولنے کے بجائے رئیس کو بالکونی کے راستے باہر نکلنے کا کہا۔ جلدبازی میں رئیس کا موبائل فون اور دیگر سامان وہیں رہ گیا، جبکہ وہ کھڑکی سے چھلانگ لگا کر گھر سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔
آمنہ کے سسر نے ایک نوجوان کو بالکونی سے بھاگتے دیکھ لیا تھا۔ اس نے فوراً اپنے بیٹے فرحان کو فون کرکے ساری صورت حال بتائی۔ فرحان گھر پہنچا تو تلاشی کے دوران رئیس کا موبائل فون اور دیگر سامان برآمد ہوگیا۔ اس واقعے کے بعد فرحان نے آمنہ کو تشدد کا نشانہ بنایا، اسے بچوں سمیت میکے چھوڑ آیا اور بچوں کو بھی اس سے الگ کردیا۔
لیکن رئیس کے بھائی کے مطابق، اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ اس پورے واقعے کا سب سے اہم موڑ تھا۔
بچوں کی خاطر معافی یا بدلے کی منصوبہ بندی؟
بھائی کے بیان کے مطابق، فرحان اگلے چند روز تک کسی منصوبے پر غور کرتا رہا۔ پھر وہ آمنہ کو واپس گھر لے آیا اور اسے کہا کہ بچوں کی خاطر وہ اس کی غلطی معاف کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اسے رئیس کو سزا دلوانے میں اس کی مدد کرنا ہوگی۔ اس نے مبینہ طور پر آمنہ کو یقین دلایا کہ وہ رئیس کو ایسی سزا دے گا جو اسے زندگی بھر یاد رہے گی۔
اس کے بعد آمنہ نے ایک پارسل کا آرڈر کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے گھر کے مخصوص آرڈرز عموماً رئیس ہی پہنچایا کرتا تھا۔ چنانچہ جب رئیس معمول کے مطابق پارسل لے کر گھر پہنچا تو اس بار حالات پہلے جیسے نہیں تھے۔
پارسل دینے آیا تھا، مگر واپسی کا راستہ بند ہوچکا تھا!
رئیس کے بھائی کے مطابق، فرحان نے رئیس کو پکڑ کر ایک کمرے میں لے گیا اور آمنہ سے رسی منگوا کر اس کے پاؤں باندھ دیے۔ اس کے بعد ڈکیتی کا تاثر دینے کے لیے ایک ویڈیو بھی بنائی گئی۔ پھر فرحان نے رئیس کو ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے سینے پر بھی متعدد وار کیے۔ شدید زخمی ہونے کے بعد رئیس جانبر نہ ہوسکا۔
رئیس کی جان جا چکی تھی، لیکن ملزمان کے سامنے اب ایک اور بڑا مسئلہ تھا کہ لاش کو کیسے ٹھکانے لگایا جائے۔
رات ایک بجے لاش کو ویرانے میں لے جانے کا منصوبہ!
بھائی کے بیان کے مطابق، جب فرحان کو احساس ہوا کہ اس کے ہاتھوں قتل ہوچکا ہے تو اس نے آمنہ کو ساتھ لیا، رئیس کی لاش ایک گاڑی میں رکھی اور مانگا منڈی کے علاقے میں ایک اینٹوں کے بھٹے کے قریب لے گیا۔ رات تقریباً ایک بجے لاش کو ایک ویران مقام پر پھینکا گیا اور اس پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔ اس کے بعد دونوں واپس گھر آگئے۔
اگلی صبح مانگا منڈی پولیس کو ایک جلی ہوئی لاش کی اطلاع ملی۔ دوسری جانب رئیس کے اہل خانہ نے فیصل ٹاؤن پولیس کو اس کی گمشدگی کی اطلاع دے رکھی تھی۔
پولیس تفتیش میں کیسے حقیقت سامنے آئی؟
رئیس کے دوستوں سے پوچھ گچھ کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ آخری مرتبہ آمنہ کے گھر پارسل پہنچانے گیا تھا۔ اس کے ساتھی ڈیلیوری بوائز بھی بتاتے تھے کہ رئیس ان سے آمنہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا ذکر کرتا تھا۔
پولیس نے آمنہ اور فرحان کے گھر چھاپہ مار کر دونوں کو گرفتار کرلیا۔ ابتدا میں دونوں نے واقعے سے لاعلمی ظاہر کی اور یہی مؤقف اختیار کیا کہ رئیس پارسل دے کر واپس چلا گیا تھا۔ تاہم پولیس نے موبائل فون کے ریکارڈ، رابطوں اور دیگر شواہد کی مدد سے تفتیش آگے بڑھائی تو معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
وہ آڈیو جس نے عدالت میں آمنہ کے بیانات پر سوالات کھڑے کردیے!
رئیس کے بھائی کے مطابق، مقدمے میں سب سے اہم کردار ان آڈیوز اور ویڈیوز نے ادا کیا جو آمنہ رئیس کو بھیجا کرتی تھی یا فون پر گفتگو کرکے اسے اپنے گھر بلاتی تھی۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ اور مدعی مقدمہ کے وکیل کی محنت سے یہ شواہد عدالت میں پیش کیے گئے۔
مقدمے کے دوران ایک ایسا موقع بھی آیا جب آمنہ کی ریکارڈ شدہ گفتگو عدالت میں چلائی گئی۔ اس گفتگو میں آمنہ رئیس کو اپنے شوہر کی غیر موجودگی کا بتاتے ہوئے کہہ رہی تھی:
“وہ کتے کا بچہ گھر میں نہیں ہے، تم آجاؤ!”
رئیس کے بھائی کے بیان کے مطابق، جب عدالت میں یہ آڈیو اور دیگر شواہد پیش کیے گئے تو آمنہ اپنے بیانات اور ریکارڈنگز کے تضاد پر قابو نہ رکھ سکی اور زار و قطار رونے لگی۔
وہی خاتون جو مختلف انٹرویوز میں خود کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہی، اب عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کا سامنا کر رہی تھی۔
چار سال بعد انصاف کی منزل!
رئیس کے بھائی، جو اس مقدمے میں مدعی بھی تھے، کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان طویل عرصے تک اپنے پیارے بھائی کے لیے انصاف کی جنگ لڑتا رہا۔ ان کے مطابق، انہیں عدالتی کارروائی اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے انصاف ملا اور وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔
ایک 23 سالہ نوجوان جو اپنے گھر والوں کی مدد کے لیے روزگار کرتا تھا، ایک معمول کا پارسل پہنچانے نکلا تھا، مگر واپس اپنے گھر نہ پہنچ سکا۔
اس واقعے میں ایک خاندان نے اپنا سب سے چھوٹا بھائی کھو دیا، والدین نے اپنے جوان بیٹے کی جدائی برداشت کی اور بہن بھائیوں کی زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا جسے کبھی پُر نہیں کیا جاسکتا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ کسی بھی تعلق میں دھوکے، بدلے اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے کے نتائج کتنے بھیانک ہوسکتے ہیں۔