November 3, 2026

حضرت پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ ایک معروف صوفی بزرگ اور مذہبی شخصیت ہیں۔

IMG-20261103-WA0215

حضرت پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ ایک معروف صوفی بزرگ اور مذہبی شخصیت ہیں۔

پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ ملک و بیرونی ممالک میں اپنے عقیدت مندوں میں ایک معتبر روحانی پیشوا کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

پشاور(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق حضرت پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ المعروف موتیاں والی سرکار ایک معروف صوفی بزرگ اور مذہبی شخصیت ہیں، جو عالمی سطح پر متحرک تنظیم “تحریک عشق مصطفیٰ انٹرنیشنل کے سربراہ اور بانی ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان خیبرپختونخوا پشاور سے ہے اور وہ ملک و بیرونِ ملک اپنے عقیدت مندوں میں ایک معتبر روحانی پیشوا کے طور پر جانے جاتے ہیں۔پیر سید عنایت علی شاہ اس وقت دینِ اسلام کی اشاعت، تصوف کے فروغ اور لوگوں کی اخلاقی و روحانی تربیت میں مصروف ہیں۔وہ تحریک عشق مصطفیٰ انٹرنیشنل کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر میں اسلام کا پیغامِ امن اور محبتِ رسول ﷺ عام کر رہے ہیں۔وہ پاکستان کے مختلف شہروں اور اہم مقامات پر بڑے پیمانے پر مذہبی اور روحانی محافل کا انعقاد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ مختلف علاقوں میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ اور دیگر اسلامی تقریبات کی خود قیادت کرتے ہیں۔روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں اور وہ اپنے مریدین کو ذکر و اذکار اور شریعت کی پابندی کی تلقین کرتے ہیں۔پیر سید عنایت علی شاہ کی خدمات کا دائرہ تصوف اور انسانیت کی بھلائی تک پھیلا ہوا ہے۔ان کی تحریک کا بنیادی مقصد ہی لوگوں کے دلوں میں نبی کریم ﷺ کی سچی محبت اور عشق کو بیدار کرنا ہے۔ وہ اپنی گفتگو اور خطابات میں سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے پر زور دیتے ہیں۔مزارات اور صوفی روایات کے مطابق، ان کی روحانی دعوت سے متاثر ہو کر کثیر تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے اور ان کے بیعت کے حلقے میں غیر ملکی (بشمول مغربی ممالک کے لوگ) بھی شامل ہوئے ہیں۔انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ دنیاوی آسائشوں اور مال و دولت سے کنارہ کش اور تنہائی میں عبادت میں گزارا، جس کی وجہ سے ان کا روحانی مرتبہ ان کے عقیدت مندوں میں بہت بلند مانا جاتا ہے۔وہ اپنے آستانے پر آنے والے زائرین کی اخلاقی تربیت کرتے ہیں، انہیں نفرتوں سے دور رہنے، انسانیت کا احترام کرنے اور امن و امان کے ساتھ زندگی گزارنے کا درس دیتے ہیں۔عوام کی خدمت کرنا اسکا مقصد ہے کیونکہ عوام کی خدمت ہی عبادت ہے۔ انہوں نے خدا کی مخلوق کیلئے اپنے اپکو وقف کیا ہوا ہے جو ایک بہترین عمل ہے جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ کھل کر متاثرین کے ساتھ مال و دولت اور جسمانی طریقے سے اس میں سلاحیت رکھتی ہے۔