November 6, 2026

عمرکوٹ رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف : بزم صو فیائے سندھ کے جانب سے عمرکوٹ پریس کلب کے سامنے بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے سندھ کے بارے میں دیئے گئےشرانگیز زھریلے بیان

Screenshot_2025-12-03_161440

عمرکوٹ رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف
: بزم صو فیائے سندھ کے جانب سے عمرکوٹ پریس کلب کے سامنے بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے سندھ کے بارے میں دیئے گئےشرانگیز زھریلے بیان پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بزم صوفیائے سندھ کے صدر ارباب نیک محمد نے کہا کہ ھندستانی وزیر کا بیان بد حواسی کابین الاقوامی مظاہرہ ہے ،سندھ ہند سے قدیم تہذیب ہے ہند خود سندھ کا حصہ رہا ہے، ابن الحوقل کے نقشے میں موجودہ ہندستان کا آدھا حصہ ہریانہ، پنجاب، راجستھان، سوراشٹر اور مہاراشٹر سندھ میں شامل ر ہے ہیں تاجکستان، ازبکستان، افغانستان سیستان ،کرمان، عمان کے بحری حدود بھی سندھ کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان میں تقسیم ہند کے بعد سندھ کے بارے میں زہریلا پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے، کیرت بابانی نے “سندھو دیش کیوں اور کس لیئے “کتاب چھاپ کر تاریخ کے ماتھے کا جھومر چھین لیا ہے ارباب نیک محمد نے کہا کہ اگر راجناتھ سنگھ سندھ کو ہند کا حصہ سمجھتا ہے تو اپریل 1964 میں رن آف کچھ کی جنگ میں بھارت نے پہل کرکے سندھ کے سمندری اور دلدلی علاقوں کے چھاڑ اور باڑہ جزیروں پر کس مقصد کیلئے جنگ کی تھی؟ اقوام متحدہ کے جنیوا کمیشن میں ہندوستان کو چھاڑ اور باڑھ جزیرے خالی کرنے پڑے تھے۔ ستمبر 1965 میں سندھ کے صحرائی علاقے کا ڈرائی پورٹ “گڈڑو “پر بمباری کرکے سندھ راجستھان سیکٹر پر ہندستان نے جنگ کیوں شروع کی تھی؟ 1971 کی جنگ میں ٹھاکر لچھمن سنگھ جو مغربی پاکستان اسمبلی کا ایم ایل اے رہ چکا تھا جنگ سے چند ماہ پہلے بھارت بھاگ گیا اور اس نے “ہوم گارڈ بورڈ ” نامی پیرا ملٹری فورس قائم کرے برگیڈیئر سوائی بھوانی سنگھ کی قیادت میں سندھ کی چھ تحصیلوں کھپرو، عمرکوٹ، چھاچھرو، ننگرپاکر، مٹھی اور ڈیپلو اور چار ریلوے اسٹیشنوں کھوکھراپار، واصل بہہ، جالو جو چئونرو، اور پرچی کی ویری پر اپنے ناپاک قدم کیوں جما رکھے تھے؟ ان علاقوں کو شملہ معاہدے میں ہندوستان نے خالی کیا تھا، ارباب نے مزید کہا کہ کیپٹن ممتاز کی قیادت میں بلوچ رجمنٹ نے “ھنگورہ ٹیلے ” پر ہندوستانی فوج کے حوش اڑادیئے تھے، انڈیا کے 50 فوجی جہنم رسید ہوئے تھے اور ان کو ٹینکوں سمیت بارودی سامان چھوڑ کر بھارت کی طرف بھاگتے ہوئے ہزاروں لوگوں نے دیکھا، بزم کے صدر نے تفصیلات بتائے ہوئے کہا کہ ایل کے آڈوانی کے بڑوں نے انگریز سے مل کر سندھ کا وجود ختم کرکے اسے ممبی میں شامل کر دیا تھا جس کے خلاف سندھیوں نے بھرپور تحریک چلاکر 1936 میں ممبی سے سندھ کو آزاد کرایا تھا ، ارباب نے کہا کہ موجودہ پاکستان قدیم سندھ ہے اور سندھ کے تمام باشندے سو فیصد پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے تسلط میں آنے والی قدیم سندھ کو ضرور آزادی ملے گی ، ہریانہ، مشرقی پنجاب، ماناؤدر، جھونا گڑھ، جیسلمیر اور جودھپور سمیت حیدرآباد دکھن، کلکتہ والا مسلم بنگال، تامل ناڈو اور کشمیر ہندستان سے علیحدہ ہو جائیں گے، انہوں نے نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس متعصب شخص نے خوبصورت ہندستان کا حلیہ بگاڑ دیا ہے ،سکھ، عیسائی، دلت اور مسلمانوں پر مشتمل ایک ارب آبادی دھلی سے خوف محسوس کرتی ہے انہیں جو بھی موقعہ ملے گا وہ ہندستان سے گلوخلاصی کرنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگائیں گے، اس موقعہ میونسپل کونسلر حاجی شوکت ادھیپوری ، مسلم لیگ فنکشنل کے مقامی صدر حاجی عبدالغفار ناگوری، راجا صاحب، محمود، گھنشام مینگھواڑ، امین میمن سمیت اور دوسرے لیڈروں نے بھی خطاب کیا، اس موقع پر شدید نفرت کے اظہار کے طور پر نریندر مودی اور راجناتھ سنگھ کے پتلے جلا کر انہیں پیروں تلے روند دیا گیا۔