سرگودھا(راجہ نورالہی عاطف سے ) عصر حاضر میں ہمیں بہت سے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ہم بہت سے مسائل کا شکار ہیں ۔ڈاکٹرعلامہ محمداقبالؒ کا کلام اس تناظر میں ہمارے لیے باعث
سرگودھا(راجہ نورالہی عاطف سے ) عصر حاضر میں ہمیں بہت سے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ہم بہت سے مسائل کا شکار ہیں ۔ڈاکٹرعلامہ محمداقبالؒ کا کلام اس تناظر میں ہمارے لیے باعث تقلید ہے۔ ان کا کلام ہر دور کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے یونیورسٹی آف سرگودھا کے شعبہ اُردو کے زیر اہتمام سیمینار بعنوان ”عصر حاضر کے چیلنجز اور فکر اقبالؒ“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔قبل ازیں معروف ماہر اقبالیات ،ماہر تعلیم، سیرت نگار پروفیسر تفاخر محمود گوندل ، ڈاکٹر نسیم عباس احمر(صدر شعبہ اُردو)، ڈاکٹر سمیرا اعجاز، ڈاکٹر شفیق آصف، ریحان ، سویرا نذیراور عتیق الرحمان نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے مزیدکہا کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے اشہب قلم نے دنیا کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً سبک رفتاری کا پیغام دیا۔ مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے حرکت و عمل اور جہد مسلسل کا درس دیا۔ ان کے خیالات کی ضرب کلیمی نے بر عظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کی عروقِ مردہ میں خون زندگی اور آزادی کی حرارت پیدا کی۔ پروفیسر تفاخر محمود گوندل نے کہا کہ عصر حاضر میں انسانیت بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔ ظلم وبربریت ،دہشت گردی، جنگ و جدل، معاشی استحصال اور تہذیبی تصادم بڑھ رہا ہے۔ اقبال نے مسلمانوں کو روحانی فکر کی تجدید کا پیغام دیا ۔وہ شعوری بیداری اور عالمی عدل قائم کرنے کے خواہاں تھے۔اسلام خودی، عشقِ رسول ﷺاور نظریہ توحید ایسے زوایہ ہائے نظر اُن کی شعری کی معراج ہے ۔ ڈاکٹر نسیم عباس احمر نے کہا کہ کلام اقبال ہمارے پاس ایک عرصہ سے موجود ہے ۔ اس کا از سرِ نو مطالعہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ماہرین اقبالیات کا فرض ہے کہ وہ کلام اقبال کی تفہیم کی ذمہ داری سنبھالیں۔ نسلِ نو تک اقبال کا کلام پہنچانے کے لیے تگ و دو کریں۔ محترمہ پروفیسر ڈاکٹر سمیرا اعجاز نے کہا کہ کامیاب زندگی کے لیے سوزِ عشق بہت ضروری ہے ۔ علمی ، فکری اور تہذیبی مسائل حل کرنے کے لیے دانش وروں کے خیالات سے استفادہ ضروری ہے۔ موضوعات کے اعتبار سے کلامِ اقبال ایک جہانِ دانش ہے ۔ طالب علموں کے لیے اقبال کی شاعری جذبہ ء عشق سے مزین ہے ۔ دورانِ تعلیم ہمیں اقبال کے کلام پر بھرپور توجہ کرنا ہوگی۔ پروفیسر ڈاکٹر شفیق آصف نے کہا کہ اقبال اُردو اَدب کا گراں بہا سرمایہ ہے ۔ دنیا میں اقبال سے محبت کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ شعبہء اُردو نے طالب علموں کو فکرِ اقبال سے آگاہ کرنے کا اپنا فریضہ انجام دے دیا ہے ۔اب طالب علموں کا فرض ہے کہ وہ اس پر عمل کریں۔ کیوں کہ اقبال باتوں کا نہیں عمل کا شاعرہے۔ تقریب کے آخر میں صدر شعبہء اُردو ڈاکٹر نسیم عباس احمر نے ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم اورپروفیسر تفاخر محمود گوندل کو یادگاری شیلڈزز سے بھی نوازا۔