وحدتُ الوجود اور وحدتُ الشہود، قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ۔ بدھ 03 دسمبر 2025 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
وحدتُ الوجود اور وحدتُ الشہود، قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ۔
بدھ 03 دسمبر 2025
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*تصوف میں وحدت الوجود اور وحدت الشہود کا تعارف*
فہرست:
1- دونوں اصطلاحات کا تاریخی پس منظر۔
2- قرآن سے دلائل اور ان کا صحیح مفہوم۔
3- احادیثِ نبویہ سے دلائل اور ان کی تشریح۔
4- اہلِ سنت علماء کی آراء۔
5- کیا بندہ عبادت کے ذریعے “اللہ کے ساتھ حلول ہو سکتا ہے؟
6- صوفیانہ عبارات کا صحیح مطلب۔
7- خلاصہ و نتیجہ
8- حوالہ جات
اسلام میں اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور بندے کے مقام کے متعلق سب سے بنیادی عقیدہ توحید ہے۔ صدیوں میں بعض صوفیانہ اصطلاحات نے جنم لیا جن میں سب سے معروف دو اصطلاحات ہیں:
وحدتُ الوجود
وحدتُ الشہود
ان دونوں کا صحیح شرعی مفہوم سمجھنا ضروری ہے کیونکہ غلط تعبیر سے انسان حقیقی توحید سے دور ہو سکتا ہے۔
2.وحدت الوجود کیا ہے؟
سیدنا شیخ محی الدین ابن عربیؒ کی طرف منسوب یہ نظریہ کہ:
“کائنات میں حقیقی وجود صرف اللہ کا ہے، باقی سب مظاہر اس کے وجود کا ظہور ہیں۔”
اس کا غلط مفہوم بعض لوگ یہ لیتے ہیں:
نعوذ باللہ! اللہ اور مخلوق ایک چیز ہیں۔
یہ مفہوم قطعی کفر اور اسلام کے خلاف ہے، اور خود ابن عربیؒ نے بھی اسے نہیں کہا۔ اہلِ سنت علماء کہتے ہیں کہ صحیح مفہوم یہ ہے:
“مخلوق کا وجود حقیقی نہیں، سب کچھ اللہ کی تخلیق اور محتاج ہے۔”
یعنی: اللہ خالق ہے
باقی سب مخلوق ہے
خالق اور مخلوق کبھی ایک نہیں ہو سکتے۔
3.وحدت الشہود کیا ہے؟
یہ مولانا مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ کا نظریہ ہے جو وحدت الوجود کی اصلاح کے طور پر سامنے آیا۔
“سالک (عبادت گزار) کو دورانِ ذکر و عبادت ایسی کیفیت محسوس ہوتی ہے جیسے وہ صرف اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ مگر یہ مشاہدہ ہے، حقیقت نہیں کہ صرف اللہ موجود ہے۔”
یعنی:
بندہ فناء فی اللہ کے وجدانی و روحانی اثرات میں ایسا محسوس کرتا ہے کہ گویا کائنات مٹ گئی۔
لیکن حقیقت وہی ہے: اللہ خالق ہے، بندہ عبد ہے۔
یہ نظریہ اہلِ سنت کے زیادہ قریب ہے اور شرعی اصولوں کے مطابق ہے۔
4.تاریخی پس منظر
وحدت الوجود کے بانی یا مشہور ترجمان: شیخ ابن عربیؒ
وحدت الشہود کے مصلح: شیخ احمد سرہندیؒ (مجدد الف ثانی)
دونوں کے نزدیک اللہ اور بندے کی وحدت حقیقی نہیں بلکہ کیفیتی و روحانی ہے، جب کہ عوام نے اس کو غلط سمجھ کر “اتحاد” کا نظریہ بنا لیا۔
5.قرآن سے دلائل اور ان کا صحیح مفہوم
1) لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ
(الشوریٰ: 11)
ترجمہ: اللہ جیسی کوئی چیز نہیں۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ:
اللہ کی ذات، صفات، وجود، ہر چیز مخلوق سے جدا ہے۔
اتحادی (اللہ اور بندہ ایک ہونے کا) عقیدہ باطل ہے۔
2) وَاللّٰہُ خَلَقَکُمۡ وَمَا تَعۡمَلُونَ
(الصافات: 96)
اللہ خالق ہے، باقی سب مخلوق ہے۔ خالق اور مخلوق ایک نہیں ہو سکتے۔
3) وَہُوَ مَعَکُمۡ اَیۡنَ مَا کُنتُمۡ
(الحدید: 4)
یہ معیتِ علمی ہے۔ اس کا مطلب حضورِ علمی ہے، جسمانی اتحاد نہیں۔
4) نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ (ق: 16)
اس کا مطلب:
اللہ کا علم، قدرت اور نگرانی بندے کے بہت قریب ہے۔
اللہ بندے کا “وجودی حصہ” نہیں بن جاتا۔
6. احادیث سے دلائل
1) احسان کی حدیث
“اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو۔”
(بخاری)
یہ کیفیت کا بیان ہے، اتحاد کا نہیں۔
2) قدسی حدیث:
“میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے…”(بخاری)
مطلب:
اللہ بندے کے اعمال کی توفیق دیتا ہے بندہ اللہ کا مظہر نہیں بن جاتا نہ اللہ بندے میں حلول کرتا ہے
3) دعا:
“اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں۔ (ترمذی)
یہ عبادت بندگی کی یاد دلاتی ہے، وحدت یا اتحاد کی نہیں۔
7.اہلِ سنت علماء کی آراء
1) امام ابو حنیفہؒ
“جو یہ کہے کہ میں اللہ ہوں یا اللہ مجھ میں ہے، وہ کافر ہے۔”
2) امام غزالیؒ
“صوفیوں کے مشاہدات کیفیت ہیں حقیقت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بندہ عبد رہتا ہے، رب رب رہتا ہے۔”
3) مجدد الف ثانیؒ
“اتحاد کا قول کفر ہے۔ صوفی کی کیفیت میں وحدتِ شہود ہوتی ہے، وجود نہیں۔”
4) شاہ ولی اللہ دہلویؒ
وحدت الوجود کی صحیح تاویل کو قبول کیا مگر حلول و اتحاد کو باطل کہا۔
8.کیا عبادت سے بندہ “اللہ کے ساتھ ایک” ہو جاتا ہے؟
ہرگز نہیں!
اسلام میں یہ عقیدہ فاسد، باطل اور کفر ہے کہ:
بندہ اللہ بن جائے
اللہ بندے میں حلول کرے
بندہ و رب ایک ہو جائیں
عبادت کا نتیجہ:
خشیت
تقویٰ
معرفت۔
قربِ الٰہی ہوتا ہے، وحدت نہیں۔
اللہ خالق ہے، بندہ عبد ہے دونوں کی ذات کبھی ایک نہیں ہو سکتیں۔
9.صوفیانہ عبارات کا صحیح مطلب
مثلاً:
انا الحق
ما فی الجبۃ الا اللہ
سب کچھ اللہ ہے
یہ عبارات حقیقت نہیں بلکہ:
وجد، جذب، کیفیات، یا
روحانی بے خودی میں کہی گئیں
اور ان کا معنی:
مخلوق معدوم نہیں
بندہ اللہ کا حصہ نہیں
یہ کیفیتی کلام ہے حقیقتی نہیں
10.خلاصہ و نتیجہ
وحدت الوجود (صحیح مفہوم):
وجود حقیقی صرف اللہ کا ہے، باقی سب اس کے محتاج اور اس کی مخلوق ہیں۔
وحدت الشہود:
عبادت میں بندے کو ایسا لگا جیسے وہ صرف اللہ کو دیکھ رہا ہے مگر حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔
اسلام کا بنیادی عقیدہ:
اللہ رب ہے، بندہ عبد ہے۔نه اللہ بندہ بنتا ہے اور نہ بندہ اللہ بن سکتا ہے۔
11. حوالہ جات
*صحیح بخاری
*صحیح مسلم
*ترمذی
*تفسیر ابن کثیر
*تفسیر قرطبی
*فتاویٰ عالمگیری
*مکاتیبِ امام ربانی (مجدد الف ثانی)
*احیاء العلوم (امام غزالی)
*الفتوحات المکیہ (ابن عربی)
الدعاء
یا اللہ تعالی دین محمدی کی سمجھ عطا فرما اور اس پر من و عن عمل کرنے والا بنا۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333