37

ہیلتھ یونٹس کو مریم نواز ہیلتھ کلینک کے نام سے اؤٹ سورس کر دیا گیا اور ایک کنٹریکٹ پالیسی کے تحت میڈیکل ہیلتھ افیسر کے ساتھ کنٹریکٹ پالیسی ک

ہیلتھ یونٹس کو مریم نواز ہیلتھ کلینک کے نام سے اؤٹ سورس کر دیا گیا اور ایک کنٹریکٹ پالیسی کے تحت میڈیکل ہیلتھ افیسر کے ساتھ کنٹریکٹ پالیسی کے تحت سپرد کیے گئے ہاسپٹل کو چند ماہ بعد ہی اسکے کنٹریکٹ کو ٹرمینیٹ کر دیا گیا جس کے خلاف ڈاکٹر عافیہ چوھدری نے لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس لاء فرم کے توسط سے رٹ پٹیشن فائل کی۔ مسز نائلہ مشتاق احمد دھون ایڈوکیٹ نے ڈاکٹر عافیہ کی طرف سے دلائل دیے۔
کنٹریکٹ پالیسی ہونے کے باوجود لاہور ہائی کورٹ نے یہ معاملہ زیر سماعت لاتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ کو بطور اربیٹریٹر اس معاملے کو حل کرنے کے لیے بھیجوا دیا۔
کنٹریکٹ پالیسی میں ٹرمینیشن سے متعلق مبہم شقوں کی وجہ سے ایسے پروجیکٹس اور خصوصا ہیلتھ کے حوالے سے اؤٹ سورس کیے جانے والے یونٹس عدم دلچسپی کا باعث بن سکتے ہیں جس کی وجہ سے صحت کے حوالے سے متوسط طبقہ مزید ایک بڑے ٹرامہ کا شکار ہو سکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں