October 28, 2026

*‏عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو* علی امین گنڈاپور کے خلاف کچھ لوگ پارٹی کے اندر سازشیں کررہے ہیں۔

20240905_150006

*‏عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو*

علی امین گنڈاپور کے خلاف کچھ لوگ پارٹی کے اندر سازشیں کررہے ہیں۔
پارٹی کو کہتاہوں کہ علی امین گنڈاپور کو انڈر مائن نا کریں۔
میں علی امین گنڈاپور کے ساتھ کھڑا ہوں۔
پوری پارٹی کو کہتا ہوں یہ وقت اختلافات کا نہیں ہے۔
جولوگ علی امین کے خلاف سازشیں کررہےہیں وہ بعد میں نا کہیں کہ ٹکٹ نہیں ملا۔
ہمارے لوگوں کو پی ٹی آئی کے نام پر ٹکٹ ملا ہے۔
سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کو فیصلہ سنایا ہے۔
حکومت کو این آر او 2 مبارک ہو۔
اس فیصلے سے ہمارا توشہ خانہ کا نیا کیس تو فارغ ہوگیا مجھے تو خوشی منانی چاہیئے۔
190 ملین پاؤنڈ ریفرنس بھی تقریبآ ختم ہونے والا ہے۔
یہ جو حکومت میں ہیں ان سب کے پیسے باہر پڑے ہیں۔
میں نے ملک سے بھاگنا نہیں ساری زندگی جیل میں رہنے کو تیار ہوں۔
شہباز شریف کے خلاف مقصود چپڑاسی کا 24 ارب کرپشن کا کیس ہم نے بنایا تھا۔
انکے خلاف کرپشن کے باقی سارے کیسز پرانے ہیں جو انہی کے دور حکومت میں بنے ہیں۔
کرپشن کا پیشہ پبلک کا پیسہ ہے۔
عوامی نمائندے کرپشن کرتے ہیں پھر اپنے کیسز ختم کرنے کیلئے قانون پاس کرواتے ہیں۔
اب وائٹ کالر کرائم پکڑنا ناممکن ہوگیا انہوں نے کرپشن کے راستے کھول دیئے ہیں۔
اڈیالہ جیل میں ساڑے 7 ہزار قیدی ہیں انکو ان قوانین کا کیا فایدہ ہوگا۔
جیسے میں رہا ہوا چیئرمین نیب کو پکڑونگا۔
نیب کے تفتیشی افسر اور وعدہ معاف گواہ انعام شاہ کے اوپر کیسز کرونگا۔
انکی وجہ سے میری بیوی 7 ماہ سے جیل میں ہے۔
نیب نے ایک کروڑ 80 لاکھ مالیت کے ہار کی قیمت 3 ارب 18 کروڑ لگائی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے وہ امپارشل اور غیر سیاسی ہیں۔
فوج اگر اب غیر سیاسی ہوگئی ہے تو یہ ملک کیلئے اچھی بات ہے۔
غیر سیاسی کہنے سے نہیں اعمال سے ہوتا ہے۔
اگر یہ کہہ رہے ہیں ہم ہمیشہ غیر سیاسی تھے تو اسے بڑی غلط بیانی کوئی نہیں ہوسکتی۔
اگر یہ غیر سیاسی ہیں تو میجر اور کرنل کا جیل میں کیا کام ہے۔
میری بیوی عاصم منیر کی وجہ سے جیل میں ہے۔
8 فروری کو کس نے دھاندلی کروائی۔
عاصم منیر نے نواز شریف کے ساتھ مل کر لندن معاہدہ کیا تھا۔
میں آج ان سے اپیل کرتا ہوں خدا کیلئے غیر سیاسی ہوجاو ملک تباہی کے دہانے پر ہے۔
9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز انکے پاس ہیں سامنے لائیں۔
9 مئی ہماری پارٹی ختم کرنے کیلئے کروایا گیا تھا۔
میری گرفتاری کا آرڈر کس نے دیا اسکی انکوائری کرائیں۔
یہ مجھے جنرل فیض سے ڈرا رہے ہیں۔
جنرل فیض جب بھی ملنے آتا تھا وہ جنرل باجوہ کی اجازت سے آتا تھا۔
آئی ایس آئی چیف آرمی چیف کے ماتحت ہوتا ہے۔
جنرل باجوہ کو ٹرائل سے باہر رکھا ہوا ہے کیونکہ رجیم چینج اس نے کیا تھا۔
جنرل باجوہ کو انکوائری سے کیوں باہر رکھا گیا ہے۔
جنرل باجوہ کے بغیر جنرل فیض کا ٹرائل بد نیتی پر مبنی ہے۔
باجوہ کو ٹرائل میں شامل کیا گیا تو سارے بھید کھل جائینگے۔
ملک تباہی کی طرف جارہا ہے قرضے بڑھتے جارہے ہیں