ملک ساجد عباس بگھور نمبردار، بے لوث عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
ملک ساجد عباس بگھور نمبردار، بے لوث عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
معاشرے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محض عہدوں اور مناصب کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے کردار، رویّے اور خدمت کے خلوص سے دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ اُن کی پہچان اقتدار نہیں، بلکہ انسانیت کی بھلائی ہوتی ہے۔ تحصیل نورپور تھل کی سرزمین ایسی کئی روشن مثالوں سے مالا مال ہے، مگر ملک ساجد عباس بگھور نمبردار کا نام اس فہرست میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ وہ اُن عظیم المرتبت انسانوں میں سے ہیں جو دوسروں کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرتے ہیں اور خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں۔
رنگپور بگھور کا یہ بگھور خاندان طویل عرصے سے سماجی خدمت، دیانت اور عوامی اعتماد کا معتبر حوالہ رہا ہے۔ ملک ساجد عباس نے نمبرداری کے منصب کو محض ایک روایتی ذمہ داری نہیں سمجھا بلکہ اسے علاقے کی بہتری اور عوامی فلاح کا عملی پلیٹ فارم بنا دیا۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ:
“جو اختیار انسان کو لوگوں کے قریب لے آئے، وہی حقیقی خدمت ہے۔”
آج کے دور میں سادگی، ملنساری اور نرم خوئی بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے، مگر ان اوصاف کی جھلک ملک ساجد عباس بگھور کی شخصیت میں نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ ہر طبقے کے افراد سے ایک جیسے خلوص اور محبت سے ملتے ہیں۔ چاہے کوئی غریب مزدور ہو یا پڑھے لکھے نوجوان، ہر شخص کے لیے اُن کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ انہیں نہ صرف احترام ملتا ہے بلکہ عوام ان پر بے پناہ اعتماد بھی کرتی ہے اور ملک ساجد عباس بگھور علاقہ تھل میں نہایت عزت واحترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔
ملک ساجد عباس بگھور اُن لوگوں میں سے ہیں جنہیں خدمت کے لیے کسی تقریب یا ایونٹ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کسی غریب کے گھر راشن پہنچانا ہو، کسی بیمار کے علاج کے لیے مدد کرنا ہو، کسی بیوہ کے لیے مالی تعاون ہو یا کسی یتیم کے لیے تعلیمی سہارا—وہ ہر موڑ پر پیش پیش نظر آتے ہیں۔مشکل وقت میں ان کی موجودگی علاقے کے لوگوں کے لیے ڈھارس اور حوصلے کا باعث بنتی ہے۔ نمبردار ملک ساجد عباس بگھور بگھور ہاوس / وائیٹ ہاوس پر ہمہ وقت بے لوث عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر خلق خدا کی خدمت کرتے نظر آتے ہیں ۔ وہ ڈیرہ پر آنے والے لوگوں کے مسائل کے حل کےلیے حتی المقدور اپنا بھرپورکردار ادا کرتے ہیں۔
علاقے کے نوجوان ہمیشہ اچھے رهنما کی تلاش میں رہتے ہیں، اور ملک ساجد عباس ان کے لیے ایک مشفق رہنما اور دوراندیش دوست کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے ہیں بلکہ کھیل، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات بھی کرتے ہیں۔ مقامی کھیلوں کی سرپرستی ہو یا ذہین طلباء کی حوصلہ افزائی—وہ نوجوانوں کو اپنے قدموں پر کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔
ملک ساجد عباس بگھور کا کردار صرف انفرادی مدد تک محدود نہیں بلکہ وہ علاقے کی مجموعی ترقی کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ وہ ورلڈ بینک کے تعاون سے رنگپوربگھور میں جاری عوامی ترقیاتی سکیم کے حوالے سے بھی متعلقہ حکام سے مخلصانہ تعاون کررہے ہیں۔ سڑکوں کی بہتری، نکاسِی آب کے مسائل، بنیادی سہولیات کی فراہمی، صحت اور تعلیم کے معاملات—ہر فلاحی کام میں ان کی دلچسپی اور کوشش قابلِ ستائش ہے۔ مقامی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں سے رابطے میں رہ کر مسائل کے حل کے لیے ان کی جدوجہد انہیں ایک متحرک سماجی رہنما کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔
زمانہ خودغرضی کی طرف بڑھ رہا ہے، مگر ملک ساجد عباس بگھور آج بھی اخلاص، وقار اور دیانت کی اعلیٰ مثال ہیں۔ انہوں نے کبھی نمود و نمائش کو اہمیت نہیں دی۔ خاموشی سے کیے گئے ان کے بڑے بڑے کام آج بھی عوام کی یادوں میں تازہ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ:
“خدمت وہی ہے جس سے اللہ راضی ہو، نہ کہ وہ جو دنیا کو دکھائی جائے۔”
وقت کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ وہ سماجی میدان میں نئی جہتوں کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔ نوجوانوں کے پروگرام، کمیونٹی میٹنگز، علاقائی مشاورت، فلاحی سرگرمیوں کا تسلسل—یہ سب ان کی بصیرت اور مستقبل بینی کا واضح ثبوت ہیں۔
اگر عوامی خدمت ایک مثال بن سکتی ہے تو وہ مثال یقیناً ملک ساجد عباس بگھور نمبردار کی صورت میں موجود ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عملی خدمت میں طاقتور اثر ہوتا ہے۔ وہ آج بھی اپنے علاقے کے لیے امید اور روشنی کے چراغ ہیں۔ ایسی شخصیات ہی معاشروں کو سنوارتی، بستیوں کو آباد اور دلوں کو مطمئن رکھتی ہیں۔ملک ساجد عباس بگھور کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ اگر جذبہ سچا ہو تو خدمت راستہ خود بناتی ہے۔