تحریر – محمد فاروق عزمی
رابطہ 0321-4788517
مصور پاکستان کا یومِ ولادت
حکیم الامت ، مصورِ پاکستان ، شاعرِ مشرق ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ میری عمر کے لوگوں کو اقبال سے عشق تھا۔ وہ ایک عہد آفرین شخصیت تھے۔ ہم نے بچپن میں اپنی نصابی کتب میں ان کی نظمیں پڑھیں ۔ یہ نظمیں خود بہ خود زبانی یاد ہو جاتی تھیں۔ آج سے ساٹھ باسٹھ برس پہلے تیسری چوتھی جماعت میں پڑھی نظمیں “بلبل اور جگنو ” پہاڑ اور گلہری ، بچے کی دعا (لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری) اور دیگر آج بھی ازبر ہیں ۔ بڑے ہوئے تو علامہ اقبال کا کلام شوق و ذوق سے پڑھتے رہے ۔ علامہ اقبال جس گھر میں رہتے تھے اس کے در و دیوار کو عقیدت اور محبت کے بوسے دیئے ۔ بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کے درمیان حضوری باغ میں علامہ علیہ رحمہ کے مزار پر سیکڑوں بار حاضری دی ۔ اقبال ڈے پر پاکستان بھر میں عام تعطیل ہوتی تھی ۔ علامہ اقبال کے حوالے سے سکولوں ، کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں تقریبات منعقد ہوتی تھیں ۔ سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر اور اداروں میں جہاں حضرت قائد اعظم رحمة اللہ علیہ کی تصویر مکتب کا حسن و وقار بنتی ساتھ علامہ اقبال کی تصویر بھی زینتِ دیوار ہوتی اور ان معتبر ہستیوں کے سائے میں بیٹھے فرائض منصبی ادا کرنے والے ان کے احسان تلے دبے رب تعالی کا شکر ادا کرتے کہ ہم ایک آزاد مملکت کے باسی ہیں ۔ آج جب ہم نے اپنی نصابی کتب سے اقبال کے کلام کو بے دخل کر دیا ہے ۔ یومِ اقبال ہمیں یاد نہیں رہا ۔ شاعرِ مشرق پر تنقید ایک فیشن کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ اقبال کو بے عملی کے طعنے دیئے جاتے ہیں۔ ان کے مقام و مرتبہ کو بھلا کر اسے کم کرنے کی سازشوں کے جال بنے جا رہے ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اقبال کی باتیں کی جائیں خصوصاً آج کی نوجوان نسل کو اس عاشقِ رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کے چند گوشے دکھائے جائیں اس قلندرِ لاہوری کے مقام و مرتبے سے آگاہ کیا جائے ، تو آئیے ذرا اختصار کے ساتھ اقبال کی باتیں کرتے ہیں۔
علامہ اقبال علیہ رحمہ 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، خوش بخت والد کا نام شیخ نور محمد اور والدہ کا نام امام بی بی تھا ۔ گھر کا ماحول پاکیزہ اور والدین کا چلن صوفیانہ تھا ۔ قدرتِ حق نے جو بلندیاں اس بلند بخت بچے کو عطا کرنی تھیں ۔ شاید اس کا اندازہ اس کے والدین کو بھی نہیں تھا، لیکن انہوں نے بچے کا نام” اقبال ” رکھا تو اقبال کا ” اقبال ” ہمیشہ بلند ہی رہا اور رہے گا ۔
ہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی
وہ مرد جس کا فقر خزف کو کرے نگیں
آپ کے والد گرامی شیخ نور محمد رحمة اللہ علیہ سلسلہ عالیہ قادریہ کے صاحبِ فیض اور صاحب اجازت بزرگ تھے۔ خود علامہ اقبال بھی سلسلۂ قادریہ میں بیعت تھے ۔ پانچ چھے برس کے اقبال نے پڑھائی کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ علم کی شمع سے محبت
آپ کا خاصہ تھی بلکہ اس شمع سے آپ کو والہانہ عشق تھا ۔ حصولِ علم کے ذوق و شوق کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ آدھی سے زیادہ رات گزر چکی تھی کہ اقبال کی والدہ جنھیں وہ” ہے جی ” کہا کرتے تھے ، کی آنکھ کُھلی تو اقبال کو دیے کی مدھم سی روشنی کے قریب بیٹھ کر سکول کا کام کرتے دیکھا تو شانوں سے پکڑ کر ہلایا اور کہا ، اقبال آدھی رات تک کیا پڑھ رہے ہو ؟ اٹھو، سو جاؤ، تو اقبال نے جواب دیا، بے جی سویا ہوا تو ہوں ، لیکن اقبال نے کتابوں سے زیادہ نگاہوں سے سیکھا ۔ آپ کا مقام و مرتبہ کسی مکتب کی دین نہیں بلکہ فیضان نظر تھا ۔ اقبال ابھی شکم مادر میں ہی تھے کہ ماں نے ایک خواب میں دیکھا کہ چاند کا ایک ٹکڑا چاند سے الگ ہو کر ان کی گود میں آپڑا ہے۔ جس کی کرنوں سے گھر کے در و دیوار چمک اٹھے ہیں ۔ ایک عالمِ دین بزرگ سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی گئی تو انہوں نے فرمایا ۔ اللہ آپ کو ایک ایسا بیٹا دے گا جو قرآن کی روشنی پھیلائے گا۔ ایک بار رات کے پچھلے پہر ایک عجیب بات ہوئی، والدہ نے دیکھا کہ ننھا اقبال اپنے کمرے میں تلاوت قرآن مجید میں مگن ہے اور کمرہ ایک عجیب طرح کی تیز لیکن نرم سی روشنی سے بھر گیا ہے ۔ وہ نیک بخت خاتون گھبرا کر صبح دم اقبال کے استادِ محترم مولوی میر حسن کے پاس گئیں اور واقعہ کا ذکر کیا ۔ استاد محترم نے مسکراتے ہوئے نوید سنائی کہ گھبرانے کی نہیں یہ خوش ہونے کی بات ہے کہ تمہارا یہ لخت جگر بڑا ہو کر قرآن کی روشنی پھیلائے گا ۔ آج آپ غور کریں تو حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا کلام قرآن مجید کا ہی ترجمان اور قرآن کی ہی فکر کا عکس بن کر جگمگا رہا ہے ۔
اقبال کے استاد سید میر حسن نے اقبال کی فطری صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انہوں نے اقبال کو اسلامی علوم اور تصوف و عرفان کے علاوہ قدیم و جدید علوم سے بھی بہرہ ور کیا۔ انہوں نے اقبال کو صحیح معنوں میں اقبال بنا دیا ۔
اقبال بیسویں صدی عیسوی کے ایک معروف ، شاعر، مصنف، قانون دان سیاست دان ، اور تحریکِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ آپ کو اردو اور فارسی پر عبور حاصل تھا۔ اور انہی دو زبانوں میں آپ کا کلام موجود ہے آپ کی بنیادی وجہُ شہرت شاعری ہی ہے ۔ شاعری میں آپ کے بنیادی رجحانات
تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھے ۔ آپ پکے ٹھکے صوفی اور سچے عاشقِ رسول تھے۔
1930 میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نظریہ پاکستان کا تصور پیش کیا۔ بحیثیت سیاست دان یہ آپ کا سب سے نمایاں کارنامہ ہے جو بعد میں قیام پاکستان کی بنیاد بنا۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ بھی سمجھا جاتا ہے ۔ بدقسمتی سے وہ پاکستان کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ سکے لیکن پاکستان میں انہیں قومی شاعر اور خطے میں انہیں شاعرِ مشرق کی حیثیت حاصل ہے ۔
6 مئی 1893 عیسوی میں اقبال نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور 1895ء میں ایف اے کر لیا تھا۔ مزید تعلیم کے لیے لاہور تشریف لے آئے ۔ یہاں گورنمنٹ کالج میں بی اے کی کلاس میں داخلہ لیا۔ انگریزی، فلسفہ اور عربی خاص مضامین تھے ۔ فلسفہ اور انگریزی تو گورنمنٹ کالج میں پڑھتے لیکن عربی پڑھنے کے لیے اورینٹل کالج جاتے جو گورنمنٹ کالج لاہور ہی کی عمارت کے ایک حصے میں قائم تھا۔ 1898 ء میں اقبال نے بی اے کر کے ایم اے فلسفہ میں داخلہ لے لیا۔ یہاں اقبال کو پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ کا تعلق میسر آیا۔ 1899ء میں ایم اے کا امتحان پنجاب بھر میں اول پوزیشن میں پاس کیا ۔ اس دوران شاعری کا سلسلہ بھی چلتا رہا ۔ لاہور کے بازارِ حکیماں کے ایک مشاعرے میں نوجوان اقبال نے ایک غزل پڑھی ۔ جس کا ایک شعر یہ تھا ۔
موتی سمجھ کر شانِ کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے میرے عرقِ انفعال کے
اس شعر نے محفل مشاعرہ میں موجود اچھے اچھے
استادوں کو متوجہ کر لیا ۔ اور وہ بے اختیار ہو کر داد دینے پر مجبور ہو گئے ۔ اقبال کا بحثیت شاعر شہرت کا آغاز یہیں سے ہوا اور اصرار کرکے مشاعروں میں بلائے جانے لگے۔ مرزا ارشد گورگانی نے اسی وقت پیشگوئی کر دی کہ اقبال کا مستقبل میں عظیم شعراء میں شمار ہوگا ۔ آپ نے غزل کے ساتھ نظم بھی کہنا شروع کر دی ایک مجلس میں جب آپ نے اپنی اولین نظم ” ہمالہ” سنائی تو آپ کی شہرت خوشبو کی طرح پھیلنے لگی۔ یہی زمانہ تھا جب آپ نے بچوں کے لیے بھی نظمیں لکھیں۔ بچے کی دعا وہ شہرہ آفاق نظم ہے جو آج بھی ہزاروں بچے ہر روز صبح سکولوں کی اسمبلی میں پڑھتے ہیں اور جسے بڑے بھی اپنی دعاؤں کا جُز بناتے ہیں۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
1905 میں آپ یونیورسٹی آف کیمبرج سے لاء کرنے کے لیے انگلینڈ تشریف لے گئے۔ فلسفہ سے دلچسپی کی وجہ سے آپ 1907 ء میں ہائیڈل برگ اور میونخ گئے، جہاں نطشے نے ان کی فکر و خیالات پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔ یہی وہ دور ہے جب ان کا زاویہ نگاہ تبدیل ہوا ۔ اور وہ مغربی تہذیب سے بیزاری کا اظہار واشگاف الفاظ میں کرنے لگے تھے۔
دیار مغرب کے رہنے والو، خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ، وہ اب زرِ کم عیار ہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پر بنے گا آشیانہ ناپائیدار ہو گا
علامہ اقبال صوم و صلوۃ کے پابند تھے، روزانہ صبح قرآن مجید کی تلاوت نہایت پابندی اور ذوق و شوق سے کرتے ۔ سحر خیزی کے دلدادہ اور شب بیدار ایسے کہ یہ معمول یورپ کے قیام کے دوران بھی نہ چھوٹا ۔ سحرخیزی کی اہمیت کو ایک شعر میں یوں اجاگر کرتے ہیں ۔
زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی
علامہ علیہ رحمہ نے اپنے ایک خط میں مہاراجہ سرکشن پرشاد کو لکھا
” بندہ رو سیاہ کبھی کبھی تہجد کے لیے اُٹھتا ہے اور بعض دفعہ تمام رات بیداری میں گزر جاتی ہے۔ تہجد کے وقت عبادت الہی میں بہت لذت حاصل ہوتی ہے۔ میں صبح کی نماز حتی الامکان قضا نہیں ہونے دیتا اور مجھے اس کی ادائیگی میں خاص لطف اور سکون میسر آتا ہے ”
یہ خط علامہ اقبال نے 11 جون 1919 کو مہا راجہ صاحب کو لکھا ۔آپ ہندوستان واپس آنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ پڑھانے لگے ۔ تاہم ہندوستانیوں کے احساسِ غلامی کا احساس انہیں بے چین کیے رکھتا ، آپ محکوم ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار پر رنجیدہ خاطر رہنے لگے ۔ 1922ء میں علامہ اقبال کو سر کے خطاب سے نوازا گیا۔ اب وہ اپنے نکتہ نظر میں ہندوستانی مسلمانوں کی علیحدگی پسندی اور آل انڈیا مسلم لیگ کے حمائتی تھے۔ یہی دور تھا جب اقبال کا ” شکوہ ” مسلمانوں کے دل کی آواز بنا ۔ لیکن اس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ لیکن اقبال تو اقبال تھے ۔ انہوں نے جوابِ شکوہ لکھ کر معترضین اور نقادوں کو لاجواب کر دیا ۔ اور ان کے منہ بند کر دیئے
1930 میں مسلم اکثریت والے علاقوں میں ایک علیحدہ مسلمان ریاست کا تصور سب سے پہلے علامہ اقبال نے پیش کیا ۔ لیکن پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی 21 اپریل 1938 کو علامہ اقبال انتقال کر گئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔