رانا خلیل احمد — خدمت کا دوسرا نام
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
ضلع خوشاب کی مردم خیز سرزمین ہمیشہ سے ایسے ہمدرد اور مخلص لوگوں کو جنم دیتی آئی ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو عوامی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ انہی ہستیوں میں ایک نمایاں نام رنگپور بگھور سے تعلق رکھنے والی ہردلعزیز سماجی شخصیت رانا خلیل احمد کا ہے — ایک ایسے انسان جن کی شخصیت خلوص، سادگی، خدمت اور محبت کا حسین امتزاج ہے۔
راجپوت برادری کے سرمایہء افتخار رانا خلیل احمد نہ صرف ایک معروف سماجی کارکن ہیں بلکہ وہ ایک ہردلعزیز شخصیت کے طور پر عوامی دلوں میں اپنا جداگانہ مقام رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی اصل بنیاد انسان دوستی، عوامی فلاح اور سماجی ہم آہنگی پر قائم ہے۔ وہ ہمیشہ مسائل کے حل میں عملی کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں — خواہ کسی غریب کی داد رسی ہو، کسی بیمار کے علاج میں مدد یا کسی تعلیمی ادارے کی ضروریات پوری کرنا، رانا خلیل احمد ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔
ان کی خدمت کا دائرہ صرف اپنا آبائ گاوں رنگپور یا اس کے نواحی علاقوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ ہر اُس جگہ پہنچتے ہیں جہاں انسانیت ان کو آواز دیتی ہے۔ ان کا مقصد شہرت نہیں بلکہ رضائے الٰہی اور مخلوقِ خدا کی خدمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ نہ صرف ان کی عزت کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنا مسیحا سمجھتے ہیں۔ رانا خلیل احمد ، ممبر قومی اسمبلی ملک شاکر بشیر اعوان کے معتمد ساتھی ہیں اور اعوان گروپ میں نہایت عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں.
رانا خلیل احمد کا طرزِ عمل ہمیشہ عاجزی اور محبت سے بھرپور ہوتا ہے۔ وہ نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں، کیونکہ انہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نیت نیک ہو تو بغیر کسی عہدے یا منصب کے بھی بڑے کارنامے انجام دیے جا سکتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں سچائی اور ان کے عمل میں خلوص جھلکتا ہے۔ وہ پر خلوص، ملنسار، پروقار اور ہنس مکھ شخصیت کے مالک ہیں ۔ دوستوں کے ساتھ دوستی نبھانا کو ئ ان سے سیکھے ۔
معاشرتی اصلاح کے لیے ان کی کوششیں بے مثال ہیں۔ وہ اکثر مختلف فلاحی سرگرمیوں، تعلیمی پروگراموں اور رفاہی منصوبوں میں نہ صرف حصہ لیتے ہیں بلکہ اپنی جیب سے بھی تعاون کرتے ہیں۔ یہی جذبۂ ایثار ان کی شخصیت کو باقیوں سے ممتاز بناتا ہے۔
آج کے اس دورِ خودغرضی میں جہاں ذاتی مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے، رانا خلیل احمد جیسے لوگ امید کی کرن ہیں۔ وہ یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر ہر شخص اپنے حصے کا چراغ جلائے تو معاشرہ روشنی سے بھر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ رانا خلیل احمد ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک تحریک ہیں — خدمت، محبت اور اخلاص کی تحریک۔ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال ہے کہ حقیقی کامیابی اقتدار یا دولت میں نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت میں ہے۔