روسیوں نے 15 لاکھ افغانی قتل کیے اور 50 لاکھ کو مہاجر کر دیا۔۔
مگر افغان طالبان کو روسیوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اگے بڑھ کر ان کو گلے سے لگا لیا۔
امریکہ نے 20 سال میں پانچ لاکھ سے زائد افغانی قتل کیے، اور لاکھوں مہاجرین کی واپسی میں رکاوٹ بنا رہا۔۔۔
مگر طالبان کو امریکہ سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے گلے لگانے کو تیار ہیں، امریکہ جب افغانستان سے جا رہا تھا تو رونے لگے کے نہ جاؤ ورنہ تالبان افغانستان پر حکومت کرنے آجائیں گئے اور جب وہ وہاں سے جانے لگے تو امریکی ہوائی جہازوں کے ساتھ لٹک لٹک کر اپنے مُلک سے بھاگنے کی کوشش کرتے رہے اور اب ہر مہینے کروڑوں ڈالر بھی وصول کرتے ہیں۔۔
بھارت نے روس اور امریکہ کے ساتھ مل کر لاکھوں افغانیوں کو قتل کیا۔۔
مگر طالبان کو بھارت سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے آگے بڑھ کر اس کو گلے لگا لیا۔۔۔
پاکستان نے پچھلے 40 سال ان کی مہمان نوازی کی دو جنگوں کے دوران لاکھوں مہاجرین کو اپنے پاس رکھا۔ سوویت یونین کے جہاد میں تو پورا پاکستان شامل تھا اور ہم نے سوویت یونین سے ٹکر لے کر افغانستان کو آزاد کرایا۔
امریکہ سے ازادی کی جنگ میں پاکستان نے ان کی پشت محفوظ کی، مہاجرین کو رکھا۔
مگر حکومت لیتے ہی افغان طالبان نے سب سے پہلے پاکستان کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔۔کہتے ہیں آدھا پاکستان ہمیں دے دو۔۔ ورنہ ہم جہنم کے کتے بھیج کر تمہیں قتل کریں گے۔
پھر کہتے ہیں ہم کو نمک حرام کیوں کہتے ہو۔؟ تو اپ ہی بتا دیں اور کیا کہیں۔۔