30

پیراپلیجک سنٹر پشاور میں اکوپیشنل تھراپی کا عالمی دن جوش و خروش سے منایا گیا

پیراپلیجک سنٹر پشاور میں اکوپیشنل تھراپی کا عالمی دن جوش و خروش سے منایا گیا

طلبہ کے جدید اسٹالز، عملی مظاہرے، ڈاکٹر الیاس سید نے ایوارڈ و اسناد تقسیم کئے۔

پشاور(نمائندہ فاطمہ جعفر)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق پیراپلیجک سنٹر پشاور اور کالج آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبیلیٹیشن نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے اشتراک سے اکوپیشنل تھراپی کا عالمی دن نہایت جوش و جذبے سے منایا۔ تقریب میں طلبہ و طالبات، اساتذہ اور متعلقہ طبی ماہرینِ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مختلف پروگراموں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ عالمی دن کا متاثر کن نعرہ تھا “اکوپیشنل تھراپی، راکھ سے اُبھرتی کوشش”۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات نے سنٹر کے وسیع سبزہ زار میں جدید اور تخلیقی اسٹالز سجائے جن میں ویل چیئر باونڈ مریضوں اور افراد باہم معذوری کے موثر علاج، ذہنی سکون اور نگہداشت و بحالی میں درپیش مسائل کے جدید حل پیش کئے گئے۔ جوش و خروش کا یہ سلسلہ کالج کے ملٹی پرپز ہال میں بھی جاری رہا جہاں طلبہ نے دلچسپ اسکیچز، ایمرجنسی سروسز کی مشقوں اور عملی مظاہروں کے ذریعے اپنی مہارتوں کا دلچسپ مظاہرہ کیا۔اختتامی نشست سے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر سید محمد الیاس (چیف ایگزیکٹیو، پیراپلیجک سنٹر پشاور)، مہمان اعزاز نازش عبدالقادر (اسسٹنٹ پروفیسر، انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیب، خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور) اور ڈاکٹر عامر زیب (ڈائریکٹر ری ہیب اور وائس پرنسپل سی پی ایم آر) نے خطاب کیا اور عالمی دن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر سید محمد الیاس نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اکوپیشنل تھراپی جدید طب کا بنیادی اور معزز ترین شعبہ ہے جو مریضوں کی جسمانی بحالی کے علاؤہ ذہنی و سماجی فعالیت کا ضامن ہے۔ انہوں نے طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، تخلیقی اپروچ اور بین‌الشعبہ جاتی ٹیم ورک کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں اور حادثات کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ یہ متاثرہ نوجوانوں کو معذوری کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ ڈاکٹر الیاس سید نے بتایا کہ پیراپلیجک سنٹر پشاور میں جسمانی علاج کے ساتھ ساتھ اکوپیشنل تھراپی کو بھی کامیابی سے متعارف کرایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ فزیوتھراپی ایک جدید میڈیکل فیلڈ ہے لیکن اس کے ماہرین کی تعداد ضرورت سے زیادہ ہو چکی ہے جبکہ اکوپیشنل تھراپی اور اسپیچ لینگویج تھراپی جیسے شعبوں کی مانگ روز بروز بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے عالمی معیار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر ایک لاکھ آبادی کیلئے کم از کم پینتیس اکوپیشنل تھراپسٹس درکار ہوتے ہیں لیکن پشاور کے بڑے ہسپتالوں میں ان کی تعداد انتہائی کم ہے۔ مثلاً لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں صرف دو اکوپیشنل تھراپسٹس ہیں حالانکہ وہاں سینکڑوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے تمام بڑے ہسپتالوں میں عالمی معیار کے مطابق اکوپیشنل تھراپسٹس کی آسامیاں پیدا کی جائیں تاکہ بحالیِ صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ دفاتر اور اداروں میں بھی اکوپیشنل تھراپسٹس کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ عملے کی پیداواری اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہو۔ ڈاکٹر الیاس نے اس شعبے میں اعلیٰ تعلیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اکوپیشنل تھراپی میں ماسٹرز ڈگری پروگرام کا اجراء بھی ناگزیر بن چکا ہے۔ پروفیسر نازش عبدالقادر نے بتایا کہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی اکوپیشنل تھراپی میں ماسٹرز ڈگری پروگرام کے آغاز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور امید ہے کہ طبی برادری جلد اس حوالے سے خوشخبری سنے گی۔ انہوں نے پیراپلیجک سنٹر پشاور اور سی پی ایم آر کو صوبے کے نمایاں بحالیاتی و ٹدریسی ادارے قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین‌الشعبہ تربیت، تحقیق اور صحت کی جدت کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔تقریب کا اختتام کیک کاٹنے اور تقسیم اسناد کی رنگا رنگ تقریب سے ہوا جس میں مہمانِ خصوصی نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ، اکوپیشنل تھراپسٹس اور منتظمین کو ایوارڈ اسناد دیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں