69

*بلڈنگ میٹریل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں* *غریب شہری کیلٸے اپنا گھر ایک خواب بن گیا*

*بلڈنگ میٹریل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں*

*غریب شہری کیلٸے اپنا گھر ایک خواب بن گیا*

میلسی(محمدمختارسولگی) پچھلے کچھ عرصہ سے غریب شہری کیلٸے گھر بنانا ناممکن ہوتاجارہاہے۔ انتظامیہ کی غفلت سے دن بدن اضافے کی وجہ سے بلڈنگ میٹریل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ہیں۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے مکان کی تعمیر کیلٸے پہلی سیڑھی یعنی اینٹوں کاسرکاری ریٹ 8000روپے فی ہزار اینٹ مقرر ہے۔لیکن ذمینی حقاٸیق اسکے نرعکس ہیں۔ اول درجے کی اینٹ ملک بھر میں کہیں بھی 8000 روپے میں نہیں مل رہی۔ کم ازکم 10000سے 13000روپے فی ہزار اینٹ مل رہی ہے۔ اگر سرکاری ریٹ کاتقاظا کیاجاٸے تو دو نمبر یا تین نمبر اینٹ دی جاتی ہے جو ناقص اور ناقابل استعمال ہوتی ہے۔ سیمنٹ کی بوری 1300روپے سے 1500روپے فی بوری مل رہی ہے جو 5سال پہلے تک 500سے کم میں ملتی تھی۔اور یہ قیمت سالوں سے مقرر تھی مگر غریب شہریوں کی بجاۓ دولت مند تاجروں کامفاد دیکھتے ہوٸے روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہوتی ہوتی 1500روپےفی بوری
کی غریب شہریوں کیلٸے ناقابل اداٸیگی سمجھی جانیوالی رقم تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح سریا،بجری، ٹی۔ أر گارڈر سمیت مزید تعمیراتی سامان اتنا مہنگا ہوچکا ہے کہ
غریب آدمی چھت کے سائے سے محروم ہو گیاہے، ڈراٸع کے مطابق حکومت کی جانب سےتعمیراتی سامان کی قیمتیں کنٹرول نہ ہونے سے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں ہیں، ان حالات میں ملک کی اکثریتی طبقہ اپناگھر،اپنی چھت سے محروم ہوتا نظر أۖرہاہے۔ شہریوں نے حکمرانوں سے اپیل کی ہے کہ انھیں اپنا گھر، اپنی چھت کا مالک بننے دیں اور شتر بے مہار مہنگاٸ ختم کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں