27

یہ واقعہ چکوال شہر کے محلہ زمرد ٹاؤن کے رہائشی خورشید بابر کا ہے جن کی عمر چونسٹھ برس تھی۔ خورشید بابر ایئر فورس سے ریٹارڈ تھے۔ قدرت نے

یہ واقعہ چکوال شہر کے محلہ زمرد ٹاؤن کے رہائشی خورشید بابر کا ہے جن کی عمر چونسٹھ برس تھی۔ خورشید بابر ایئر فورس سے ریٹارڈ تھے۔ قدرت نے انہیں چار بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ بیٹیاں چکوال ہی شادی شدہ ہیں جبکہ بیٹا روزگار کی خاطر بیرونِ ملک مقیم ہے۔

گزشتہ پندرہ برس سے خورشید بابر اور ان کی اہلیہ کے درمیان ناراضگی چل رہی تھی اور ناراضگی ایسی تھی کہ پچھلے پندرہ سال سے آپس میں بول چال بند تھی۔ گراؤنڈ فلور پر بیوی اکیلی رہتی تھیں اور فرسٹ فلور پر خورشید بابر اکیلے رہتے تھے۔ گھر کے مین گیٹ کے ساتھ چھوٹا دروازہ لگا ہوا ہے جو پہلی منزل کی سیڑھیوں کے آگے ہے۔ خورشید بابر اسی چھوٹے دروازے سے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں آتے تھے۔

پولیس کے ایک افسر نے “تھری اسٹارز میڈیا گروپ چکوال” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے کئی دنوں سے خورشید بابر کا ایک داماد ان سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔ اس داماد نے خورشید بابر کے ایک نواسے کو انہیں دیکھنے کے لیے بھیجا۔ نواسہ کل شام جب اپنے نانا کو دیکھنے گیا تو سیڑھیوں کے ساتھ لگا دروازہ اندر سے بند تھا۔ وہ پڑوسیوں کے گھر کی چھت سے اپنے نانا کے گھر کی پہلی منزل پر پہنچا۔ پہلی منزل کو بدبو نے لپیٹ رکھا تھا۔ بچے نے شور مچایا۔ پولیس کو بلایا گیا۔ پولیس کے ایک افسر کے مطابق خورشید بابر کے کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ جب وہ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو پنکھا چل رہا تھا جبکہ کمرے کی لائٹ بھی جل رہی تھی۔ خورشید بابر کی مسخ شدہ لاش چار پائی پر پڑی تھی۔ جسم پر قمیض نہیں تھی۔ پیٹ سوجا ہوا تھا۔ لاش کو دیکھ کر لگتا تھا کہ خورشید بابر چار پائی پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھے ہوئے تھے اور اسی حالت میں پیچھے گرے اور فوت ہو گئے۔ شوگر اور بلڈ پریشر کے عارضے میں وہ مبتلا تھے۔ پولیس کے ایک افسر نے چونکا دینے والا انکشاف یہ کیا کہ خورشید بابر کی لاش لگ بھگ پندرہ دن پرانی تھی۔

کراچی میں اداکارہ حمیرا اسلم کی لاش ملی تھی جو سات آٹھ ماہ پرانی تھی۔ پھر کراچی سے مشہور اداکارہ عائشہ خان کی لاش بھی سات آٹھ دن پرانی ملی۔ فروری میں چکوال کے گاؤں گھگھ میں جبین بی بی کی لاش بھی ملی تھی جو سات آٹھ دن پرانی تھی۔

معاشرہ بے حسی، بیگانگی اور لاپرواہی کی دلدل میں کس سرعت کے ساتھ دھنستا جا رہا ہے اس کا اندازہ ہمیں مندرجہ بالا واقعات سے ہو جانا چاہیے۔ تنہائی کا زہر تو بھرے گھر میں ذرا سی مختلف سوچ رکھنے والے کو چاٹ جاتا یے، بڑھاپے میں تو یہ زہر اور بھی مہلک بن جاتا ہے۔ اوپر سے معاشرتی قدغنوں کا بوجھ پچھلی عمر میں لوگوں کو اپنے لیے کوئی فیصلہ کرنے کے قابل نہیں چھوڑتا۔ خورشید بابر اور ان کی اہلیہ پندرہ سال تک ایک دوسرے سے ناراض تھے لیکن علیحدگی بھی نہیں تھی۔ یہ ایک مثال وہ ہے جو سامنے آئی ہے، اس طرح کی کہانیاں اب ہمارے معاشرے میں عام ہوتی جا رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں