پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کے تعطل نے تجارت کو مفلوج کردیا،یعقوب شیخ
بدقسمتی سے پاکستان خاموشی کے ساتھ اپنی جغرافیائی اور بحری برتری کھوتا جارہا ہے
ڈیرہ اسماعیل خان(نثار بیٹنی سے) پاکستان تحریکِ انصاف کے سابق رکنِ قومی اسمبلی یعقوب شیخ نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے تعطل نے خطے کی تجارت کو مفلوج کردیا ہے اور ہزاروں تاجر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان خاموشی کے ساتھ اپنی جغرافیائی اور بحری برتری کھوتا جا رہا ہے، جو کبھی اسے وسط ایشیائی ممالک کے لیے قدرتی تجارتی گیٹ وے بناتی تھی۔ یعقوب شیخ نے کہا کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات خطے کی اقتصادی بحالی کے لیے ایک اہم موقع تھے مگر دونوں جانب کے سخت گیر عناصر (ہاکس) کی مداخلت کے باعث یہ عمل نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکا۔ یہ افسوسناک ہے کہ سیاسی اختلافات اور بداعتمادی نے اقتصادی مفادات کو پسِ پشت ڈال دیا، انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے تعطل کے نتیجے میں ہزاروں ٹرانزٹ کنٹینرز بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے ہیں، جن میں قابلِ زوال اشیاء، جیسے کہ تازہ پھل، سبزیاں اور دیگر خوردنی سامان شامل ہیں۔ ’’یہ صورتحال تاجروں کے لیے کسی تباہی سے کم نہیں۔ ان کی سرمایہ کاری رُک گئی ہے، اور تجارت کا پہیہ جام ہو چکا ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا یعقوب شیخ کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ جمود برقرار رہا تو وسط ایشیائی ممالک متبادل راستوں کا انتخاب کرلیں گے، جس سے پاکستان کی بندرگاہوں کی اسٹریٹجک اور اقتصادی اہمیت بتدریج کم ہو جائے گی، ان کے بقول ہم نے اپنے جغرافیائی مقام کا وہ فائدہ خود اپنے ہاتھوں سے ضائع کر دیا ہے جس پر کبھی پورا خطہ انحصار کرتا تھا۔انہوں نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مؤثر سفارتی اور تجارتی اقدامات اٹھائیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال ہو اور ٹرانزٹ ٹریڈ دوبارہ فعال ہو سکے۔یعقوب شیخ نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنی بندرگاہوں، راستوں اور ٹرانزٹ پالیسیوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا:”اگر ہم نے بروقت فیصلے نہ کیے تو گوادر، کراچی اور قاسم پورٹ کی اہمیت خطے کے دوسرے ممالک کے لیے محدود ہو جائے گی، اور وسط ایشیائی تجارت کسی دوسرے راستے کی طرف منتقل ہو جائے گی۔آخر میں یعقوب شیخ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کو اپنے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اقتصادی مفادات پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ تجارت ہی وہ بنیاد ہے جو امن، استحکام اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتی ہے
48









