46

*💥درخت کی شاخوں پر ملنے والا فرشتہ*

*💥درخت کی شاخوں پر ملنے والا فرشتہ*

غـزـ ہ کے مغربی علاقے، جہاں کبھی زیتون کے سائے میں بچے کھیلتے تھے، اب مٹی اور دھواں ایک دوسرے سے لپٹے نظر آتے ہیں۔
چند ماہ قبل انہی راکھ زدہ گلیوں میں امدادی کارکنوں نے ایک ایسا منظر دیکھا، جو عقل سے ماورا تھا۔ شاید کوئی اسے سچ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہ ہو، مگر ہے یہ بالکل حقیقت۔

ایک درخت کے بیچوں بیچ، اس کی پتلی شاخوں پر ایک نوزائیدہ بچی لیٹی تھی۔ اس کے گرد ملبے کے ذرے ایسے چمک رہے تھے جیسے کسی نے راکھ میں ہیرے چھپا دیئے ہوں۔ وہ زندہ تھی، سانسیں ٹوٹتی بنتی جا رہی تھیں، مگر جسم و جاں کا رشتہ قائم تھا۔ چہرے پر ایک ایسی سکون بھری نرمی تھی ۔ جو شاید صرف فرشتوں کے لمس سے آتی ہے۔ نیچے زمین پر اس کے گھر کی اینٹیں بکھری تھیں۔
ماں، باپ، بہنیں سب ملبے کے نیچے دفن۔
کوئی نام نہیں، کوئی نشانی نہیں۔
صرف یہ ننھی سی جان، جو خدا کی مشیت سے درخت کی گود میں پناہ لیے ہوئے تھی۔

جب امدادی کارکنوں نے اسے دیکھا تو کچھ دیر تک کوئی ہل نہ سکا۔ کسی نے آہستہ سے کہا: “درخت کے اوپر بچی! یہ اوپر کیسے پہنچ گئی؟ پھر بچ کیسے گئی؟”
ایک نے کہا: “ہو سکتا ہے بـمبـاری ہوتے ہی ماں نے اسے کھڑکی سے درخت پر پھینک دیا ہو کہ شاید بچ جائے۔”
دوسرے نے جواب دیا: “شاید کسی فرشتے نے اسے تھام لیا ہوگا۔”
اور بس، اسی لمحے اُس کا نام رکھ دیا گیا — **ملَک**، یعنی فرشتہ۔

جب اسے اسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ صرف دو دن کی ہے۔ اس کا حبلِ ولادت ابھی تازہ تھا، یعنی ناف کی نالی ابھی کٹی بھی نہ تھی، جیسے ماں نے ابھی ہی اسے جنم دیا ہو، مگر ماں اب زندہ نہیں تھی۔ ڈاکٹر ناصر بلبل نے اس کے ننھے ہاتھوں کو تھام کر کہا:
“ہم نے یہاں بہت سے زخمی دیکھے، مگر ایسا معجزہ پہلی بار دیکھا ہے۔ کوئی تو قوت ہے جو اس بچی کی حفاظت کر رہی تھی۔”

اسپتال کے کمرے میں راتوں کو جب اندھیرا چھا جاتا، نرسیں اس کے جھولے کے قریب بیٹھ جاتیں۔ کوئی لوری گنگناتی، کوئی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی۔ اس کے گالوں پر جنگ کی راکھ جمی تھی، مگر مسکراہٹ کسی نور کی مانند جھلک رہی تھی۔ اسی روشنی میں، اس کا بستر وارڈ کا سب سے روشن گوشہ بن گیا ۔ جیسے امید کا ایک چراغ۔

پھر امل ابو ختلہ ڈیوٹی پر آئی ۔ وہ تیس سالہ نرس، مگر اصل میں ایک ماں، جس نے خود بھی جنگ میں اپنے سب پیارے کھو دیئے تھے۔ جب پہلی بار اس نے ملَک کو گود میں اٹھایا تو اس کی آنکھوں سے خاموشی سے آنسو بہہ نکلے۔
“یہ بچی یتیم نہیں، یہ غـزـ ہ کی بیٹی ہے۔”
یہ الفاظ اس نے دل سے کہے اور شاید اسی لمحے قسمت نے اس کے لیے ایک نیا کردار لکھ دیا۔

امل نے جنگ میں اتنی لاشیں دیکھی تھیں کہ موت کا چہرہ پہچاننے لگی تھی، مگر جب اس نے ملَک کو دیکھا تو اسے زندگی کا ایک نیا چہرہ ملا۔
امل کہتی ہے: “میں نے بہت سے بچوں کو مرتے دیکھا، مگر جب اسے دیکھا، لگا کہ خدا نے میری تھکی روح کو جینے کا ایک بہانہ دیا ہے۔”
یوں امل، ملَک کی ماں بن گئی۔
دن گزرتے گئے۔ اسپتال میں موجود باقی بچے ایک ایک کر کے، اپنے خاندانوں سے مل گئے یا دوسری جگہ منتقل کر دیئے گئے۔ ان کی جگہ نئے بچے آتے رہے۔ مگر ملَک کو لینے آنے والا کوئی تھا ہی نہیں۔
سارا خاندان مٹی تلے سو گیا تھا۔ امل نے آخرکار وزارتِ صحت سے اجازت حاصل کی کہ وہ اسے اپنے گھر لے جا سکے۔

اس دن جب وہ اسے لے کر اسپتال سے نکلی تو ہوا میں عجب سی خوشبو پھیل گئی، جیسے راکھ سے پھول اگ آئے ہوں۔ اب وہ بچی، جو کبھی درخت کی شاخوں پر لیٹی تھی،
امل کی گود میں ہنستی ہے۔ گھر میں جب وہ روتی ہے تو سب مسکرا کر کہتے ہیں:
“فرشتہ بول رہا ہے۔”

امل کے چھوٹے سے گھر میں، جو کبھی جنگ کے شور سے لرزتا رہتا تھا، پہلی بار سکون اترا۔ ملَک اب وہیں پلنے لگی۔ اس کے ننھے قدم جب فرش پر پڑے تو امل نے کہا:
“یہ قدم میرے دل کے فرش پر بھی اترے ہیں۔”

رات کو وہ اسے لوری دیتی اور دل ہی دل میں سوچتی کہ یہ بچی شاید غـزـ ہ کے دکھوں پر خدا کی مسکراہٹ ہے۔ امل کہتی ہے: “میرے گھر میں اب ایک نیا چراغ جلتا ہے۔
میں اسے وعدہ دیتی ہوں کہ وہ جو کچھ کھو چکی ہے، میں اسے لوٹا دوں گی۔”

مگر رات کو جب غـزـ ہ کی فضا میں ڈرونوں کی گونج سنائی دیتی ہے، تو امل کے دل میں ایک خوف اتر آتا ہے۔ وہ اپنی بچی کو سینے سے لگا لیتی ہے اور دھیرے سے دعا کرتی ہے:
“اے پروردگار! اگر یہ واقعی تیرا فرشتہ ہے،
تو اب اسے واپس آسمان پر نہ بھیجنا۔”

(ضیاء چترالی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں