عورت کو معاشی طور پر مضبوط ہونا چاہیے۔رباب طالب
عورت کو معاشی طور پر مضبوط ہونا چاہیے۔رباب طالب
خودمختار عورت ہی ایک بہتر اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیتی ہے۔معروف سوشل ورکر کی میڈیا سے گفتگو
لاہور(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق معروف سوشل ورکر رباب طالب نے کہا کہ لوگوں نے عورت کے لیے ایک پنجرہ بنایا اور اس کا نام تحفظ رکھ دیا۔ قید کو حفاظت کہنا سب سے بڑا فریب تھا۔ ہر روز اس پنجرے کی سلاخیں بڑھتی گئیں، یہاں تک کہ وہ ہر طرف سے بند ہو گیا۔یہ قید ہمارے ہی معاشرے کی عورت نے نسل در نسل آگے منتقل کی؛ کچھ گھریلو روایات کے نام پر، کچھ غیرت کے نام پر، اور کچھ مجبوری کے نام پر۔عورت وہ ہے جس کی آنکھوں میں خواب ہوتے ہیں، مگر ان کی تعبیر پر تالے لگا دیے جاتے ہیں۔ اس کے ہاتھ میں کتاب دینا جرم سمجھا جاتا ہے، کہیں وہ پڑھ لکھ کر اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کرنے لگے۔ اگر وہ سوال کرے تو اسے مجرم اور گستاخ قرار دے دیا جاتا ہے۔آزادی عورت پر کوئی احسان یا فیور نہیں، بلکہ اس کا بنیادی حق ہے۔ کسی جاندار کے پر کاٹ دینا سب سے بڑا ظلم ہے۔ جب عورت سوال کرتی ہے تو اسے گستاخی تصور کیا جاتا ہے۔ایک آزاد اور خودمختار عورت آئینہ بن جاتی ہے، اور آئینہ ہمیشہ سچ دکھاتا ہے۔ اسی سچ سے ڈر کر معاشرہ اس پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کر دیتا ہے۔مختصر بات یہ ہے کہ عورت کو معاشی طور پر مضبوط ہونا چاہیے، تاکہ اسے دبایا نہ جا سکے، اسے کمزور نہ سمجھا جائے، اور وہ اپنے حقوق کے لیے کسی کی اجازت یا احسان کی محتاج نہ رہے۔ معاشرہ اکثر اس کے حق کو بھی اجازت کا نام دے کر احسان جتانا چاہتا ہے، حالانکہ وہ اس کا پیدائشی حق ہے۔معروف سوشل ورکر رباب طالب نے گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ایک مضبوط، باوقار اور خودمختار عورت ہی ایک بہتر، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیتی ہے۔