*دہلی میں چار ہزار دینی مدرسےقائم تھے,1857*
*دہلی میں چار ہزار دینی مدرسےقائم تھے,1857*
*تحریک آزادی کی لہر چلی تو نہ صرف یہ سارے مدرسے گرادیئےگئے بلکہ پورے دِلی شہرمیں ایک بھی عالم ، طالب علم زندہ بچ نہ سکا*
👈 *انگریز مورخ لکھتاھےکہ*
*میں نے دلی شہر اور مضافات میں 50 کلومٹر فاصلے کا چکر لگایا ایسا درخت اور شاخ نظر نہ آیا جس پر ایک عالم ، طالب علم اور تحریک آزادی کےجانثار کی لاش نہ لٹکی ہوئی ہو*
*،، ناداں ،، پوچھتےہیں تحریک آزادی میں علماء کا کیا کردار تھا۔*
*حالانکہ تحریک آزادی کے آغاز سے لیکر وطن عزیز کے قیام تک یہ علماء و صوفیاء ھی تھے جنہوں نے پوری امت کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا۔۔۔۔*
*اور اس تحریک کے آغاز میں علماء نے بے انتہا قربانیاں دیں۔۔۔ جسے ایک سازش کے تحت ھمیشہ قوم سے مخفی رکھا گیا۔۔۔۔*