ایک سرکاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کو ملک کے اعلی ترین سول ایوارڈ ستارہ امتیاز کیلئے نامزد کیا گیا ہے جنہیں 13 ستمبر 2024 کو اسلام آباد میں یہ ایوارڈ عطا کیا جائے گا خبر کے مطابق وہ اس سال بلوچستان سے یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی واحد خاتون ہیں جن کو
ایک سرکاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کو ملک کے اعلی ترین سول ایوارڈ ستارہ امتیاز کیلئے نامزد کیا گیا ہے جنہیں 13 ستمبر 2024 کو اسلام آباد میں یہ ایوارڈ عطا کیا جائے گا خبر کے مطابق وہ اس سال بلوچستان سے یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی واحد خاتون ہیں جن کو شاندار خدمات اور خواتین کے حقوق کیلئے انتھک جدوجہد کے عوض یہ ایوارڈ دیا جا رہا ہے ۔ میرے لئے یہ خبر باعث حیرت بھی اور حیرت نہیں بھی ہے ۔ باعث حیرت اس لیے ہے کہ ڈاکٹر ربابہ بلیدی صاحبہ نے آخر ایسا کون سا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کے باعث انہیں یہ ایوارڈ عطا کیا جا رہاہے جبکہ یہ خبر باعث حیرت اس لیے نہیں ہے کہ یہ کوئی پہلی ناانصافی نہیں ہے بدقسمتی سے ہمارے وطن عزیز میں ایسی ناانصافیوں کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر ربابہ بلیدی کا تعلق ایک معزز اور امیر و کبیر خاندان سے ہے لیکن سیاسی، سماجی یا قبائلی لحاظ سے ڈاکٹر صاحبہ کی کوئی ایک بھی قابل فخر کارکردگی نہیں ہے کہ جس کی مثال دی جائے چہ جائیکہ انہیں ملک کے سب سے بڑے سول ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہے ۔ میرے علم کے مطابق ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی صاحبہ کا سیاسی اور خاندانی پس منظر یہ ہے کہ وہ ایک اعلی تعلیم یافتہ اور صوم و صلوات کی پابند خاتون ہیں بلیدی قبیلہ کے سردار گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں میر بہرام خان بلیدی کی صاحبزادی اور میر عطاء اللہ خان بلیدی و میر اسد اللہ خان بلیدی کی ہمشیرہ ہیں ۔ ڈاکٹر ربابہ بلیدی کی ذاتی حیثیت وہی ہے جو بلوچستان یا بلوچ قبائل کی روایتی گھرانوں کی خواتین کی ہے کہ ان کی اپنی رائے اور فیصلے نہیں ہوتے بلکہ یہ خواتین اپنے خاندان کے مرد حضرات کے فیصلوں کی تابع اور پابند ہوتی ہیں ۔ ڈاکٹر ربابہ کا تعلق اس وقت مسلم لیگ ن سے ہے اور اس کی مخصوص نشست سے ایم پی اے بنی ہیں ۔ ان کے خاندان کا کوئی سیاسی ووٹ بینک نہیں ہے ماسوائے ایک ہزار یا 1200 ووٹوں کے ۔ اس لیے ڈاکٹر صاحبہ کو خواتین کی مخصوص نشست کے ذریعے پہلے ایم پی اے منتخب کیا جاتا ہے اور اس کے بعد انہیں مشیر یا پارلیمانی سیکریٹری مقرر کر کے کسی محکمے کی وزارت یا قلمدان ان کے سپرد کیا جاتا ہے ۔ ان کے بھائی میر عطاء اللہ بلیدی اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن ، بلوچستان عوامی پارٹی میں رہ چکے ہیں اور ڈاکٹر صاحبہ کا تعلق اپنے بھائی کی وجہ سے ان ہی جماعتوں سے رہا ہے اور اب وقت اور حالات کو دیکھ کر انہوں نے دوبارہ مسلم لیگ ن کو جوائن کر رکھا ہے اور اب ترقی نسواں کی وزارت کا قلمدان ان کے سپرد ہے ۔ اس خاندان کا کوئی مستقل سیاسی نظریہ نہیں ہے بلکہ یہ لوگ ہمیشہ اقتدار حاصل کرنے والی جماعت میں شامل ہو کر اقتدار سے بھرپور طریقے سے مستفید ہوتے رہتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ کا اپنا کوئی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ ان کے والد محترم اور ان کے بھائی میر عطاء اللہ بلیدی کے فیصلوں پر انہیں عمل درآمد کرنا پڑتا ہے جس طرح اس سے قبل سردار عبدالرحمان کھیتران اور میر فائق خان جمالی کی اہلیہ اپنے شوہر کی مرضی اور حکم پر عمل پیرا رہتی تھیں ۔
اگر ڈاکٹر ربابہ بلیدی کو ستارہ امتیاز ایوارڈ اس وجہ سے دیا جا رہا ہے کہ وہ خواتین کی ترقی اور حقوق کیلئے کسی فورم پر یا کسی سیمینار اور ورکشاپ وغیرہ میں بات کرتی ہیں تو یہ کوئی خدمت یا جدوجہد نہیں ہے بلکہ اس کے عوض انہیں لاکھوں روپے کے ٹی اے ڈی اے کی رقم ملتی ہے اور یہ اپنے محکمے کی طرف سے حکومتی پالیسی کی روشنی میں چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ بول لیتی ہیں اگر حکومت سے باہر رہ کر انہوں نے کبھی بلوچستان کی خواتین کے حقوق کے لیے بات کی ہے یا عملی جدوجہد کی ہے تو پھر ان کو ایوارڈ سے نوازنے پر کسی کو معترض نہیں ہونا چاہئے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ اگر ڈاکٹر ربابہ بلیدی کی جگہ بلوچستان کی خواتین میں سے یاسمین لہڑی ، راحیلہ درانی یا کرن حیدر صاحبہ کو ستارہ امتیاز کے لیے نامزد کیا جاتا تو وہ فیصلہ قابل ستائش اور میرٹ کے تحت ہوتا ۔ یاسمین لہڑی کا تعلق نیشنل پارٹی سے اور راحیلہ درانی اور کرن حیدر کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور یہ تینوں خواتین مستقل مزاج کی مالک سیاسی کارکن ہیں اگر کسی لابنگ یا کوٹہ کی بجائے میرٹ کے مطابق فیصلہ کیا جاتا تو ڈاکٹر ربابہ صاحبہ کی بجائے ان خواتین میں سےکسی ایک کو ایوارڈ کیلئے نامزد کیا جاتا۔