“روٹی کے بحران سے قومی سلامتی تک”
“روٹی کے بحران سے قومی سلامتی تک”
دنیا بھر میں غذائی قلت کا خطرہ ایک نئے المیے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے اور پاکستان بھی اس بڑھتے ہوئے بحران سے محفوظ نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی تازہ ترین رپورٹ واضح کرتی ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان میں غذائی عدم تحفظ اور خوراک کی کمی مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔ یہ صرف کسانوں کے کھیتوں تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست ہر شہری کے دسترخوان، بچوں کی صحت اور معاشرتی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک کہلاتا ہے، مگر اس کے باوجود گندم، دالیں اور خوردنی تیل جیسے بنیادی اجناس کے لیے ہم درآمدات پر انحصار کر رہے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کھیت سرسبز ہیں مگر کسان مایوس، زمین زرخیز ہے مگر پالیسی بانجھ۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، غیر یقینی موسمی حالات اور حکومتی عدم توجہی نے زرعی شعبے کو ایسا کمزور کر دیا ہے کہ آج ہم غذائی خود کفالت کے بجائے خوراک کی درآمدات کے محتاج ہو چکے ہیں۔
اس بحران کا سب سے پہلا اور خطرناک اثر ہماری نوجوان نسل پر پڑ رہا ہے۔ غذائی قلت سے نہ صرف جسمانی نشوونما متاثر ہو رہی ہے بلکہ تعلیمی کارکردگی اور ذہنی صلاحیتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق پاکستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد غذائی کمی کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہے۔ یہ محض طبی مسئلہ نہیں بلکہ مستقبل کی افرادی قوت اور قومی ترقی پر براہِ راست حملہ ہے۔
دوسری طرف، غذائی عدم تحفظ معاشرتی بے چینی کو بھی جنم دے رہا ہے۔ جب لوگوں کو بنیادی خوراک میسر نہ ہو تو غربت بڑھتی ہے، جرائم میں اضافہ ہوتا ہے اور امن و امان کی صورتحال بگڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج روٹی کا بحران قومی سلامتی کے بحران سے جڑ گیا ہے۔ کیونکہ بھوکے اور مایوس عوام کبھی بھی کسی بھی ریاست کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس سنگین صورتحال سے کیسے نمٹا جائے؟ سب سے پہلے تو حکومت کو زرعی پالیسی کو سنجیدگی سے ازسرِنو تشکیل دینا ہوگا۔ کسان کو سبسڈی، جدید ٹیکنالوجی اور بروقت پانی کی فراہمی دینا ہوگی تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو۔ دوسرا، خوراک کی ضیاع کو روکنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں ہر سال لاکھوں ٹن خوراک ذخیرہ نہ ہونے یا لاپرواہی کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔ تیسرا، غذائی منصوبہ بندی کو قومی ترجیح بنایا جائے اور صحت، تعلیم اور زراعت کے محکموں کے درمیان باہمی ربط کو مضبوط کیا جائے۔
پاکستان کے لیے یہ وقت صرف خبردار ہونے کا نہیں بلکہ عملی اقدامات اٹھانے کا ہے۔ اگر آج ہم نے روٹی کو محفوظ نہ کیا تو کل قومی سلامتی خطرے میں ہوگی۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو بھوک کی وراثت دیتے ہیں یا خوراک کی خود کفالت کا تحفہ۔
@@@@@@@@@@@@@@